پاک ایران تجارت کے باہمی نئے باب سے ملک کی گرتی ہوئی برآمدات کو سہارا ملے گا‘ احمدجواد

پاک ایران تجارت کے باہمی نئے باب سے ملک کی گرتی ہوئی برآمدات کو سہارا ملے گا‘ ...

  

اسلام آباد(آن لائن)وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کی ریجنل قائمہ کمیٹی برائے ہارٹیکلچر کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ ایران سے سیاسی تعلقات مستحکم مگر اقتصادی تعلقات کمزور ہیں جنہیں معمول پر لانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ ایران کے صدرحسن روحانی کے دورے سے دونوں ملکوں کے مابین تجارت بڑھے گی جس سے دونوں ملکوں کے علاوہ خطے کے تمام ممالک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس دورے سے علاقہ تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی جب کہ برسہا برس سے زیر التواء پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

احمد جواد نے کہا کہ ایران صدر کی عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی پاکستان آمد انتہائی اہمیت کی حامل اور باہمی تعلقات میں اہم پیش رفت ہے۔ ایرانی وفد میں صنعت و تجارت سے تعلق رکھنے والے 60افراد کی شمولیت ایران کی جانب سے تجارت کے نئے امکانات کا ثبوت ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت پانچ ارب ڈالر تک لے جائی جا سکے گی اور پاکستان ہارٹیکلچر کے شعبے کی برآمدات میں ایک نیا اضافہ ممکن ہو سکے گا جو گزشتہ کئی سال سے بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے تعطل کا شکار تھا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سال سے پاکستان سے ایران کیلئے کینو کی برآمدات ایک بار شروع ہو سکیں گے جس کا سالانہ حجم 60سے 70ہزار ٹن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ چاول اور حلال گوشت بھی ایران کی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان ایران کی طرف سے پاک ایران مشترکہ چیمبرز آف کامرس کے قیام کا معاہدہ قابلِ تحسین ہے جس سے دونوں ملکوں کی بزنس کمیونٹی کے روابط کو تقویت ملے گی اور یہ دوطرفہ تجارت کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

مزید :

کامرس -