وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کی منسوخی کا پیغام کیا ہے ؟

وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کی منسوخی کا پیغام کیا ہے ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم کا دورۂ امریکہ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی خون ریز واردات کے بعد منسوخ ہوگیا ہے جو عالمی جوہری کانفرنس میں شرکت کیلئے وہاں جانے والے تھے، اب ان کی جگہ معاون خصوصی طارق فاطمی اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس سے پہلے گزشتہ روز یہ اطلاع آئی تھی کہ وزیراعظم نے اپنا شیڈول تبدیل کیا ہے، پہلے وہ لندن کے راستے امریکہ جانے والے تھے جہاں مختصر قیام بھی ہوتا پھر انہوں نے سانحہ لاہور کی وجہ سے اپنے دورے کو ری شیڈول کیا اور براہ راست امریکہ جانے کا فیصلہ کیا، لیکن سانحہ لاہور کے بعد انہوں نے دہشت گردی کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کے جو طویل اجلاس کئے ان کے بعد انہوں نے دورۂ امریکہ بھی منسوخ کردیا۔

یہ درست ہے کہ لاہور کا سانحہ بہت دل دہلا دینے والا ہے۔ لاہور پاکستان کا دل ہے اور پاکستان کا یہ دل آج لہو لہو ہے، پورے پورے خاندان اس دہشت گردی کی نذر ہوگئے ہیں، ماؤں کے جگر گوشے انہیں سوگوار چھوڑ گئے ہیں، ہزاروں لوگ تو براہ راست متاثر ہوئے ہیں، ان لوگوں کے دل بھی دکھی ہیں، جن کا کوئی عزیز تو اس حادثے میں متاثر نہیں ہوا لیکن اہل وطن تو ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ لاہور کے سانحے کا درد ہر کسی نے اس طرح محسوس کیا ہے جیسے اس کا قریبی عزیز متاثر ہوا ہو۔ وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہم اپنے شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم بھی کیا ہے، ان کی ہدایات کی روشنی میں تفتیشی ادارے مجرموں کے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش بھی کریں گے۔ عین ممکن ہے اس کے نتیجے میں کسی ایسے گروہ کا سراغ مل جائے جس تک اس سے پہلے رسائی نہیں ہوسکی، دہشت گردی کے بعض نیٹ ورک تو پہلے ہی توڑے جاچکے ہیں، اس سلسلے میں مزید کامیابی کی بھی امید ہے، لیکن یہ ایک مستقل عمل ہے۔ پاکستان ڈیڑھ عشرے سے جس دہشت گردی کا شکار ہے ابھی اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کب تک ایسا ہوگا۔ 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آچکا، گزشتہ برس چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی اور بڈھ بیر کے ایئر فورس کیمپ میں فجر کی نماز کے وقت دہشت گردی ہوگئی، لاہور کے صرف علامہ اقبال ٹاؤن میں دہشت گردی کا یہ چوتھا واقعہ ہے باقی لاہور میں بھی بڑے بڑے واقعات ہوچکے ہیں، پولیس کے تربیتی سکول پر تو دو دفعہ حملہ ہوا، واہگہ سرحد پر پرچم اتارنے کی تقریب میں بھی بڑی دہشت گردی ہوچکی ہے۔ صرف لاہور کیا پورے ملک میں جگہ جگہ دہشت گردی ہوچکی ہے، وزیراعظم نوازشریف یقیناًبہت دل گرفتہ ہیں، لیکن اس موقع پر دورۂ امریکہ ملتوی کرنے کے فیصلے کا منفی اثر بھی لیا جاسکتا ہے، ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو جب سنت نگر لاہور میں ایک ہی گھرانے کے لوگ گھر میں پراسرار طور پر قتل کردیئے گئے تھے تو وزیراعظم کو اپنا دورۂ جاپان ملتوی کرنا پڑا تھا، جس کا جاپانی حکومت نے بہت برا منایا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہم چھ مہینے سے وزیراعظم کے دورے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اچانک ایک دو روز پہلے دورہ ملتوی کردیا گیا جو مناسب فیصلہ نہیں ہے، اس کے بعد تو اس سے بڑے بڑے واقعات ہوگئے، اس لئے دس بارہ افراد کا قتل اب اس لحاظ سے کوئی چونکا دینے والا نہیں کہ دہشت گردی میں تو اس سے کئی گنا زیادہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ویسے تو ایک انسانی جان بھی قیمتی ہے، لیکن جس طرح خون ناحق ارزاں ہوچکا ہے اس میں اب اس طرح کے واقعات معاشرے میں کوئی زیادہ اضطراب پیدا نہیں کرتے۔ اب اگر سنت نگر کے واقعہ پر آپ نگاہ واپسیں ڈالیں تو سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کا اس وقت دورہ منسوخ کرنا درست فیصلہ تھا؟ بظاہر تو اس دورے کی منسوخی سے کچھ حاصل نہ ہوا، جو کچھ بھی تفتیش ہوئی وہ روٹین میں ہوئی، وزیراعظم ملک کے اندر ہوتے یا باہر جاتے تفتیش تو اسی طرح ہونا تھی، اب لاہور کا واقعہ اپنی جگہ جتنا بھی سنگین اور دل گرفتہ کردینے والا ہو، تفتیشی ادارے اس کی تفتیش اپنے طے شدہ طریق کار کے مطابق ہی کریں گے۔ وزیراعظم اگر ملک کے اندر رہتے ہیں تو کیا دہشت گرد ان کی موجودگی کی وجہ سے واردات کے سہولت کاروں کا سراغ زیادہ آسانی سے مل پائے گا؟ اور اگر وہ امریکہ چلے گئے تو اس میں کوئی تاخیر ہو جائے گی؟ ہمارے خیال میں سب کچھ معمولات کے مطابق ہی ہوگا۔ دہشت گردوں کے کچھ سہولت کار پکڑے بھی گئے تو بھی بعض ایسے پھر بھی بچ نکلیں گے تاوقتیکہ دہشت گردی پوری طرح قابو میں آ جائے۔

عالمی کانفرنسیں اور عالمی رہنماؤں کے غیر ملکی دورے طویل غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد شیڈول ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک دورہ عملی شکل اختیار کرتے کرتے کئی برس لے جاتا ہے۔ امریکی صدر اوباما کافی عرصے سے کیوبا کے دورے کا عندیہ دے رہے تھے لیکن عملاً یہ دورہ اب ممکن ہوسکا ہے، جب ان کی صدارت اسی سال ختم ہونے والی ہے۔ صدر کلنٹن آٹھ سال تک امریکہ کے صدر رہے، انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی کہا کہ وہ برصغیر کے دورے پر جائیں گے اور خطے کے دونوں بڑے ملکوں پاکستان اور بھارت کا دورہ کریں گے، لیکن انہوں نے یہ دورہ اپنی صدارت کی دوسری ٹرم کے آخر میں اس حالت میں کیا کہ چار دن کیلئے بھارت آئے اور چار گھنٹے کیلئے پاکستان۔ یہاں انہوں نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ٹی وی کیمروں کے سامنے ملاقات تک نہ کی اور پاکستانیوں سے براہ راست خطاب کیا۔ ابھی گزشتہ برس پیرس میں ان کے ملک کی سب سے بڑی دہشت گردی ہوئی جس کے کوئی ایک ماہ بعد ماحولیات کے متعلق عالمی سربراہکانفرنس ہونے والی تھی، لیکن اس کانفرنس کو ملتوی نہ کیا گیا کہ ایک تو اس کا پیغام مثبت نہ ہوتا اور یہ سمجھا جاتا کہ فرانس کو دہشت گردی کے ایک ہی واقعہ نے ہلا کر رکھ دیا ہے، دوسرے یہ ملتوی شدہ کانفرنس نہ جانے کب اور کہاں ہوتی؟ عین ممکن تھا کہ پھر یہ کانفرنس فرانس کے باہر کہیں اور چلی جاتی اور فرانس عالمی رہنماؤں کی میزبانی سے محروم رہ جاتا۔ اس طرح کی عالمی کانفرنسوں کا انعقاد جن ملکوں میں ہوتا ہے یہ ان کیلئے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے واشنگٹن کی جس جوہری کانفرنس میں شرکت کرنا تھی، یہ کئی لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت اہم تھی۔ پاکستان کو یہ موقع ملتا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کے متعلق بے سروپا پروپیگنڈے کے اثرات کو زائل کرتا۔ اب سربراہوں کی کانفرنس میں نمائندگی کا سارا بوجھ وزیراعظم کے معاون خصوصی کے سر آپڑا ہے جن کا درجہ ایک وفاقی وزیر کے بھی مساوی نہیں ہے۔ اس لحاظ سے دورے کی منسوخی کے اثرات مثبت نہیں ہوں گے۔ انہوں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ سوچ بچار اور مشاورت کے بعد ہی کیا ہوگا لیکن نتیجہ تو حالات کے دھارے کے سپرد ہوتا ہے جو قوموں اور افراد کے کنٹرول میں نہیں ہوتے اس لیے درست وقت پر درست فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

مزید :

تجزیہ -