جموں و کشمیر کی صدیوں قدیم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اعلی اقدار

جموں و کشمیر کی صدیوں قدیم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اعلی اقدار

سری نگر(کے پی آئی) جموں و کشمیر کی صدیوں قدیم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اعلی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے شہر خاص میں خانقاہ شوکت نواکدل کے مسلمانوں نے ایک ہندو کشمیری پنڈت خاتون کی اس کے مذہبی رسوم کے مطابق آخری رسومات انجام دیں۔ خاتون اس علاقہ کی اقلیتی ہندو برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ اومکار پانجو کی 65 سالہ بیوی دوراپوجا کا اتوار کی شام انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد سارے علاقہ میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ مسجد شریف خانقاہ شوکت اور مسجد شریف سید محمد موسوی کی انتظامی کمیٹیوں نے پیر کو علی الصبح اپنا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور متوفی خاتون کی آخری رسومات کے انتظامات کو قطعیت دی۔ ایک ایسے وقت جب لوگ فارسی سال نو عید نو روز کے جشن کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ اطلاع ملتے ہی وہ اپنی خوشیوں کو چھوڑ کر متوفی کے گھر پہونچ گئے اور غمزدہ ارکان خاندان کے سوگ میں برابر کے شریک ہوگئے۔ اس علاقہ کے ساکن ممتاز اسلامی عالم دین مولانا عباس انصاری سب سے پہلے وہاں پہونچنے والوں میں شامل تھے۔ بعدازاں سارے مسلمانوں نے پنڈت خاتون کے ساتھ آخری رسومات کی تکمیل کی اور جلوس جنازہ میں شامل ہوکر کرن نگر شمشان پہونچے جہاں چتا کو آگ دکھائی گئی۔ خانقاہ شوکت کے ضمیر احمد، پی ڈی پی کے مقامی سرپرست مولانا عمران رضا انصاری، زادی بل کے عابد حسین انصاری نے بھی پرسہ دیا۔ واضح رہے کہ نواکدل کے مسلمانوں نے چند سال قبل ایک ہندو کشمیری خاتون سوشیلا کول کی آخری رسومات بھی انجام دیا تھا جو وہاں تنہا رہتی تھی۔

مزید : عالمی منظر