راضی نامہ ہونے پر قتل کے مجرم کی سزائے موت پرتاحکم ثانی عملدرآمد روکدیاگیا

راضی نامہ ہونے پر قتل کے مجرم کی سزائے موت پرتاحکم ثانی عملدرآمد روکدیاگیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے راضی نامہ کی بنیاد پر قتل کے مجرم محمد صدیق کی سزائے موت پرتاحکم ثانی عمل درآمد روکتے ہوئے مقتولین کے ورثاء کو طلب کرلیا ہے ۔محمد صدیق کو 30مارچ کو پھانسی دی جانا تھی ۔مسٹرجسٹس سیدمظاہرعلی اکبرنقوی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،سزائے موت کے قیدی محمد صدیق کے ورثاکی جانب سے وکیل نے موقف اختیارکیاکہ تھانہ لدھے وڑائچ گوجرانوالہ میں `12ستمبر 1995ء کو محمد سلیم ،سلمیٰ بی بی اورصباء بی بی کے قتل کے جرم میں محمد صدیق کے خلاف مقدمہ درج ہوا،12فروری 2000ء کو محمد صدیق کومحمد سلیم کے قتل کے جرم میں سزائے موت جبکہ سلمیٰ بی بی اور صباء سلیم کے قتل کے جرم میں 25سال قیدکاحکم سنایاگیا،خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ اورصدرپاکستان کواپیلیں کی گئیں جومستردہوگئیں جس کے بعدمحمد صدیق کو 30مارچ کوگوجرانوالہ جیل میں پھانسی دینے کے لئے ڈیٹھ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔ اب مقتولین کے ورثاء نے ملزم کومعاف کرتے ہوئے اپنا بیان متعلقہ سیشن کورٹ میں ریکارڈکرا دیا ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مقتولین کے ورثاء کے راضی نامہ کی بنا پر ملزم کو30 مارچ کو دی جانے والی پھانسی پرعمل درآمد روکتے ہوئے اسے رہا کرنے کاحکم دیا جائے۔ عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 30مارچ کو دی جانے والی پھانسی پرعمل درآمد روکتے ہوئے مقتولین کے ورثاء کو طلب کرلیاہے۔

مزید :

صفحہ آخر -