بانڈز کے اجراء اور اس کی ٹرانسفر کامجھ سے کوئی تعلق نہیں، انوارالحق

بانڈز کے اجراء اور اس کی ٹرانسفر کامجھ سے کوئی تعلق نہیں، انوارالحق

  

لاہور(نامہ نگار )جنرل مینجر (فنانس )پاور واپڈا انوارالحق نے 24مارچ کو شائع ہونے والی اس خبر کہ 180 "ملین روپے کے جعلی سکوک بانڈز کا سکینڈل ،جی ایم فنانس واپڈا انوارلحق ملوث ہونے کے باوجود عہدے پر براجمان "،کی وضاحت جاری کی ہے کہ یہ خبر خلاف حقیقت ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر واپڈا سکوک بانڈز کے حوالے سے ہونے والا سلسلہ ان سے جوڑا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کے خط پر وزارت پانی و بجلی نے حقائق جاننے کے لئے ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے ،انہوں نے کہا کہ 2010ء میں بھی ان کے خلاف الزامات کی ممبر واٹر نے تحقیقات کی تھیں جس کے نتیجہ میں ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ،بانڈز سیل محض پاور ونگ ہونے کی بنیاد پر انہیں ایک سال کے لئے ڈاؤن گریڈ کرنے کی سزا دی گئی تھی جسے اپیل کرنے پر فیڈرل سروسز ٹربیونل نے مسترد کردیا تھا۔انوار الحق کا کہنا ہے کہ واپڈ نے 1988ء میں پہلے بانڈ کے اجراء کے لئے بانڈ سیل بنایا تھا جو چند سال جنرل مینجر (فنانس) پاور کے دفتر کے ساتھ منسلک رہا تاہم 1990-1991ء میں اس کے لئے ایک خود مختار دفتر بنا دیا گیا جس کے بعد بانڈز کے اجراء اور اس کی ٹرانسفر کا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -