سانحہ گلشن اقبال پارک، کالعدم جماعت الاحرار کا دو سالوں میں لاہور میں تیسرا بڑا حملہ

سانحہ گلشن اقبال پارک، کالعدم جماعت الاحرار کا دو سالوں میں لاہور میں تیسرا ...

لا ہور (کرائم رپورٹر)پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرارنے گذشتہ دو سالوں میں لاہور میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے جس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے اگست 2014 میں علیحدہ ہونے کے فوراً بعد نومبر میں اپنا پہلا بڑا حملہ لاہور کے ہی قریب واہگہ باڈر پر کیا تھا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔یہ حملہ بھی پریڈ گرؤانڈ سے 600 میٹر دور عوامی مقام پر ہوا جس سے جانی نقصان کافی زیادہ رہا۔ اس واقعے کی جند اللہ نامی ایک گروپ نے بھی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ وہ اس حملے کی ویڈیو بھی جاری کریں گے اور انھوں نے یہ حملہ وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کے جواب میں کیا تھا۔اس کے چند روز بعد اس گروپ نے امن کمیٹی کے اراکین کو مہمند ایجنسی میں نشانہ بنایا جس میں چھ افراد نے جانیں کھوئیں۔خودکودولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم سے نظریاتی طور پر متاثر جماعت الاحرار نے لاہور کو اس سے قبل بھی نشانہ بنایا تھا۔گذشتہ برس مارچ میں انھوں نے لاہور کے یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں پر حملے کیے جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس گروپ نے ایک مرتبہ پھر لاہور کے گلشن اقبال پارک میں جہاں مسیحی برادری کو جو ایسٹر کا تہوار منانے کے لیے جمع تھی ہدف بنایا۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستان فوج کی منظم کارروائیوں کے نتیجے میں یہ گروپ بظاہر تو وہاں سے بیدخل ہوا ہے لیکن بڑے عوامی مقامات پر حملوں کا سلسلہ اس نے مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔ پہلے اس کے انتقام میں شبقدر میں کچہری کو نشانہ بنایا اور اب لاہور میں ایک پارک کوجماعت الاحرار ان پاکستانی شدت پسند گروپوں میں سے ایک ہے جس نے دولت اسلامیہ کی حمایت میں بیان بھی جاری کیا اور اپنی تنظیم سازی بھی اسی گروپ کو مدنظر رکھ کر گذشتہ برس کی تھی۔شدت پسندی کے امور کے ماہر عامر رانا کے بقول یہ گروپ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔اس گروپ نے باضابطہ طور پر دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار نہیں کی لیکن موجودہ وقت میں اس نے القاعدہ برصغیر کے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے۔ اس خطے میں داعش کے کمزور ہونے کا ان گروپس کو فائد ہوا ہے۔ دولت اسلامیہ خراسان کو افغانستان کے مشرقی علاقوں میں امریکی اور افغان فورسز کے حملوں کا زبردست سامنا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانی اور افغان طالبان گروپوں میں ناراض شدت پسندوں کے ان کی جانب جانے کا سلسلہ رک سا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر