پاکستان میں سیکولر اور لبرل ازم کیلئے کوئی گنجائش نہیں نکلتی،مقررین

پاکستان میں سیکولر اور لبرل ازم کیلئے کوئی گنجائش نہیں نکلتی،مقررین

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر )مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام نظریہ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سیکولر اور لبرل ازم کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔ حکومت حقوق نسواں بل کی صورت میں لبرل ازم کی طرف کوشاں ہے۔ خواتین بل میں ترمیم نہیں اسے مکمل مسترد کرتے ہیں۔ ملک دشمن قوتوں کے پے در پے وار بھی پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو مسخ نہیں کرسکتی، بیرونی قوتیں اسلامی ایٹمی پاکستان کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کو کمزور کرنے کیلئے خوفناک سازشیں کی جارہی ہیں۔کلمہ طیبہ کی جاگیر ملک پاکستان کولبرل اور سیکولر بنانے کی سازشیں قوم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی، مرکز آئی ٹن میں ہونے والی کانفرنس سے جماعۃ الدعوۃ اسلام آباد کے مسؤل شفیق الرحمن ، جماعت اسلامی کے رہنما کاشف چوہدری ، اسلامک ریسرچ سکالر فاؤنڈیشن اسلام آباد کے سربراہ راؤ ضیاء اللہ ، تاجر رہنما چودھری احسن ، مطیع اللہ و دیگر نے خطا ب کیا جماعۃ الدعوۃ اسلام آباد کے مسؤل شفیق الرحمن نے کہا کہ بیرونی قوتوں نے اس وقت مسلمانوں پر ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے۔میدانوں میں انہیں شکست کا سامنا ہے جس پر انہوں نے تعلیمی اداروں کو خاص طور پر اپنا نشانہ بنا رکھا ہے۔ ہم نے ان شاء اللہ وہ نسل تیار کرنی ہے جو اسلام اور پاکستان کی صحیح معنوں میں محافظ ہو۔ دشمن ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں سے نظریہ پاکستان ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ مشرقی پاکستان کی طرح باقی ماندہ پاکستان کو بھی نقصانات سے دوچار کیا جائے لیکن یہ سازشیں ان شاء اللہ کامیاب نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ 23مارچ 1940میں ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا جس میں اللہ نے برکت ڈالی ۔جب لاالہ الااللہ کی بنیاد پر مسلمان کھڑے ہوتے ہیں تو پھر مدد آسمانوں سے آتی ہے۔اسی بنیاد پر اسلامیان ہند متحد ہوئے۔ پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا اور مشرقی پاکستان کی صورت میں یہ ملک دو لخت ہوا وہ ایک تکلیف دہ داستاں ہے۔ اب ہم نے روشن چراغ جلانے ، اسلامیان پاکستان کو راستے دکھانے اورروشن منزلوں کا تعین کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نظریہ پاکستان مہم کو ایک باقاعدہ تحریک کی شکل دیکر قوم میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والا پاکستان ایک مشن اور ایک نظریہ کے تحت حاصل کیا گیا تھا جس پر عمل پیرا نہ ہونے سے ملک میں فکری انتشار بڑھا اور ملک مسائل سے دوچار ہوا۔ہم آج پھر سے پاکستانی قوم میں وہی جذبے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عملی تجربہ گاہ ہو گی جہاں اسلام نافذ کر کے اس کا عملی نمونہ پوری دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گالیکن افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد کی پاسداری نہیں کی گئی اور یہ ملک جو اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی اس کی ناشکری اور اسلامی شریعت کی نافرمانیاں کی گئیں تو پھر اللہ کی پکڑ آئی۔اب وقت ہے کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں لاالہ الااللہ کا ملک بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ اللہ کے دشمن ملکوں و معاشروں پر مسلط ہیں اورمنظم سازشوں و منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے۔قوم کو متحد و بیدار کر کے ان سازشوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما کاشف چوہدری نے کہا کہ آج کا پاکستان وہی پاکستان ہے جس مقصد کے تحت اسے حاصل کیا گیا تھا۔ نئی نسل کو ذہنی طور پر انتشار کا شکار کیا گیا ہے۔ قائد اعظم سیکولر پاکستان ہرگز نہیں چاہتے تھے۔ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام غیر مسلموں کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے، اس بنیاد پر منفی پروپیگنڈہ ترک کردیا جائے۔ پاکستان عقیدہ توحید کی بنیاد پر حاصل ہوا ہے، مسلمانوں کا عقیدہ سیاسی نہیں ہوتا۔ قیام پاکستان کے نعرہ کو سیاسی رنگ دینے والے گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ قائد اعظم نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کا دستور قرآن کی صورت میں موجود ہے، ہمیں کسی نئے آئین کی ضرورت نہیں ہے راؤ ضیا ء اللہ نے کہا کہ انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتیں مسلمان ملکوں میں تحریک کاری و دہشت گردی پروان چڑھا رہی ہیں۔ اب پرانے دور کی جنگیں نہیں رہیں۔ آج کے دور کی جنگوں کا انداز مختلف ہے۔ پورا عالم اسلام اس وقت مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ہر طرف فتنے بپا ہیں۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کو باہم لڑانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔کلمہ طیبہ پڑھنے والے سب ایک قوم ہیں، جن کے اندر علاقائیت اور وطنیت کے کوئی سلسلے نہیں ہیں۔اس کلمہ پر سب متحد ہوجائیں تو تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے ۔دوقومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بن چکا اب اس کو صحیح اسلامی پاکستان بنانا ہے۔اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے۔ نظریہ پاکستان صرف یہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عالمگیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کو سنبھالنے کا ہے۔ ساری اسلام دشمن قوتیں پاکستان کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ ان کی دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ ہم گلی گلی، شہر شہر جاکرلوگوں کو اتحاد کی دعوت دیں گے۔ یہ ہماری تحریک کا پہلا مقصد ہے اوردوسرا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں مدینہ والا اسلامی نظام نافذ کیاجائے۔یوم پاکستان کے موقع پر ہم نے ملک میں اسلام کے نفاذ کا عہد کیا تھا ۔ہم نے آج جو سلسلہ شروع کیاہے وہ اس تحریک کا نقطہ آغاز ہے جو ان شاء اللہ پوری قوت سے چلے گی۔ نظریہ پاکستان مارچ اور اجتماعات کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت اگر لاکھوں جانیں پیش ہوئی تھیں تو پاکستان بچانے کیلئے کروڑوں جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔ایک بار پھر ملک میں 1940 ء والا ماحول پیدا کریں گے۔ 74سال پہلے قرارداد پاکستان منظور کرتے وقت جس عزم کا اظہا رکیا گیا تھا آج ہم ایک بار پھر اس کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کو کلمہ والا ملک بنائیں گے۔ پاکستان بننے کے بعد اللہ سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنا بہت بڑی غلطی تھی جو کی گئی‘ اسی کی وجہ سے قوم منتشر ہوئی اور وہ عصبیتیں جو قیام پاکستان کے وقت کلمہ طیبہ کی وجہ سے ختم ہو گئی تھیں وہ پھر پیدا ہوگئیں۔ ہم نے ان غلطیوں کا ازالہ کرنا ہے۔فرقہ واریت کوئی آج کا مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کی بنیاد پر تشدد اور قتل و غارت گری درست نہیں ہے۔ ہم نے اس تشدد کا خاتمہ کرنا ہے ا س کیلئے ہم پورے ملک میں ہر ایک کے پاس جائیں گے اورکلمہ طیبہ کی بنیاد پر سب کو متحد کر کے اتحادویکجہتی کی فضاپیدا کریں گے۔تاجر رہنما چودھری احسن نے کہا کہ اسلام کے نام پر ملک میں قتل و غارت گری پاکستان کے اندر کا نہیں باہر کا ایجنڈا ہے۔اسلام امن سلامتی کا دین ہے یہ مسلمانوں میں باہمی تشدد اور قتل وغارت گری کی اجازت نہیں دیتا۔پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔23مارچ 1940ء منٹو پارک لاہورمیں جو قرارداد منظورکی گئی تھی کہ اسلامیان برصغیر کیلئے ایسا ملک بنائیں گے جو اسلام کا قلعہ ہو۔اس وقت نظریہ پاکستان کی آبیاری اور گلی محلہ کی سطح پر لوگوں کی ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو درپیش مسائل اور کفار کی مداخلت روکنے کی سب سے بڑی بنیاد یہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر