زلزلے کے نام پر ملنے والی امداد کی انکوائری کی جائے،قومیں تعلیم سے بنتی ہیں اورنج ٹرین سے نہیں :عمران خان

زلزلے کے نام پر ملنے والی امداد کی انکوائری کی جائے،قومیں تعلیم سے بنتی ہیں ...
زلزلے کے نام پر ملنے والی امداد کی انکوائری کی جائے،قومیں تعلیم سے بنتی ہیں اورنج ٹرین سے نہیں :عمران خان

  


ایبٹ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کیلئے پر بیرون ملک سے بہت امداد ملی تاہم وہ پیسہ کہاں گیا اس حوالے سے انکوائری ہونی چاہئے، قانون کی بالادستی قائم کرنا حکومت کا کام ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایبٹ آباد میں سیلاب سے متاثرہ سکولوں کے افتتاح کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ 11سال پہلے زلزلہ آیا تھا اورزلزلے میں اڑھائی ہزار سکول متاثر ہوئے تھےجن کی بحالی کیلئے 7 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے  بھی زلزلے کے بعد سکولوں کی بحالی کا کام شروع کیا گیا تھا جو آج تک مکمل نہیں ہو سکا،چھ سو سکولوں پر کام شروع نہیں ہوا جبکہ سات سو سکولوں پر کام تو شروع ہوا مگر ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پچھلے سال کے پی کے کو زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلے 4ارب دینے کا دعدہ کیاتھا جو ابھی تک وفا نہیں ہوا، حکمرانوں نے 200 ارب روپے اورنج ٹرین پر لگا دیے مگرقوم کے بچے باہر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، قومیں تعلیم سے بنتی ہیں اورنج ٹرین سے نہیں ،تعلیم سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کے پی کے حکومت نے تعلیم پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کیا،حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب ادارے مضبوط ہوں اور ٹھیک کام کر رہے ہوں اور پولیس غیر سیاسی ہو تاہم پنجاب کی پولیس غیر سیاسی نہیں ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں پولیس ایکٹ پاس کرنے لگے ہیں تاکہ پولیس کو غیر سیاسی کیا جائے،عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا سب سے بڑا جرم ہے جس پر انہوں نے126 دن کا دھرنا دیا تاہم انکا دھرنا پرامن تھا اوراس دوران ایک بھی گملہ نہیں ٹوٹا۔ایک سوال پر انکا کہنا تھا کہ ہم رینجرز قباعلی علاقوں کے بارڈر پر تعینات کرنے کیلے مانگ رہے ہیں ،خیبر پختونخوا کے قباعلی علاقوں کے بارڈر کیساتھ ریجنرز تعینات کی جائے۔عمران خان نے دعویٰ کیا کہ کے پی کے جیسا بلدیاتی کسی اور صوبے میں نہیں ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں۔

مزید : ایبٹ آباد