سعودی عرب سے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، سعودی شہریوں نے ایسا کام شروع کردیا کہ حکومت کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا

سعودی عرب سے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، سعودی شہریوں نے ایسا کام شروع کردیا ...
سعودی عرب سے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، سعودی شہریوں نے ایسا کام شروع کردیا کہ حکومت کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا

  


ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی معیشت سستے تیل کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے اور اس کی ابتری کی علامتیں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔اب سعودی شہریوں میں رقم خرچ کرنے کا رجحان بھی کم ہو رہا ہے، جس سے حکومت کی پریشانی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سعودی عرب کے مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ماہ(فروری) میں سعودی باشندوں کے بینکوں سے رقم نکلوانے اور خرچ کرنے کی شرح 2000ءسے اب تک کی انتہائی کم ترین سطح پر چلی گئی۔گزشتہ پانچ ماہ میں اے ٹی ایم کے ذریعے سعودی شہریوں کے رقم نکلوانے کی شرح میں 8فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔بلومبرگ کے ایک سروے کے مطابق رواں برس سعودی معیشت کی شرح نمو میں مزید 1.5فیصد کی کمی ہونے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سعودی عرب کی معاشی شرح نمو 2009ءسے اب تک کی کم ترین سطح پر چلی جائے گی۔ دوسری طرف سعودی حکام تواتر کے ساتھ یہ کہتے آ رہے ہیں کہ قوم تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آنے والے معاشی بحران کا جرا¿ت مندی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق قاہرہ کے سرمایہ کاری بینک ای ایف جی ہرمیز(EFG-Hermes)کے شعبہ مائیکرو سٹریٹجی کے سربراہ سائمن کچن (Simon Kitchen) کا کہنا ہے کہ ”سعودی عرب کی معیشت کے اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں صارفین اعتماد کھو رہے ہیں اور وہ اپنے اخراجات میں کمی لا رہے ہیں۔سعودی عرب کو اپنے تیل کی فروری اور مارچ کی ادائیگیاں ہونے کے باوجود تیل کی قیمتیں بدستور کم ہیں اور ان کی ڈسپوزابیل آمدنی رواں سال تسلسل کے ساتھ دباﺅ کا شکار ہے۔“ابوظہبی کمرشل بینک کی چیف اکانومسٹ مونیکا ملک کا کہناہے کہ ”سعودی عرب کے مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق سیل ٹرانزیکشنز(Sale Transactions) میں 9فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔سیل ٹرانزیکشنز سے ہی کسی بھی ملک کے صارفین کے ملکی معیشت پر اعتماد کو جانچا جا سکتا ہے۔اس لحاظ سے صارفین کا سعودی معیشت سے اعتماد 9فیصد کم ہو چکا ہے۔“

مزید : عرب دنیا