کیا آپ اپنے اعضاءبیچنا چاہتے ہیں؟وہ ’کاروبار‘جو دنیا میں جاری ہے

کیا آپ اپنے اعضاءبیچنا چاہتے ہیں؟وہ ’کاروبار‘جو دنیا میں جاری ہے
کیا آپ اپنے اعضاءبیچنا چاہتے ہیں؟وہ ’کاروبار‘جو دنیا میں جاری ہے

  

لاہور(شاہدنذیرچودھری،سپیشل ایڈیٹر)پاکستان میں ہی نہیں امیرملکوں میں بھی غربت سے تنگ انسان اپنے قیمتی اعضاءکوڑیوں کے مول بیچ ڈالتے ہیں۔مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں ضرورت مندوں کے مالی استحصال اور انسانیت کی تذلیل کااس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہوگا کہ انسانی اعضا کی خریدوفروخت( ORGAN TRADE)ایک غیر قانونی فعل ہونے کے باوجودبلیک مارکیٹ اپنے عروج پر ہے،اس مارکیٹ سے وابستہ سفاک لوگ کسی ڈونر کو معمولی معاوضہ دیکر اس سے اسکا قیمتی ترین جگر،دل،گردہ،آنکھ یا کوئی بھی عضو خرید لیتے اور اسے بھاری قیمت پر فروخت کردیتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں صرف ایران ایسا ملک ہے جہاں کوئی بھی انسان قانونی طور پر اپنے اعضا بیچ سکتا ہے تاہم آسٹریلیااور سری لنکا میں قانون کا مشروط استعمال کرکے یہ اعضا خریدے جاسکتے ہیں ۔جبکہ امریکہ اور انگلینڈ میں آرگن ٹریڈ کی بلیک مارکیٹ میں یہ کاروبار اپنے عروج پر ہے۔امریکہ اور برطانیہ میں کئی ایسے ادارے موجود ہیں جنہوں نے اعضاءبیچنے والوں کو یہ شعور دیا ہے کہ ایک انسان چاہے تواپنے سارے اعضا 45 ملین میں فروخت کرسکتا ہے۔اس حوالے سے چین دنیا کا واحد ملک ہے جہاں غیر قانونی طور پر ہر سال ایک بلین ڈالر میں انسانی اعضا کاکاروبارہوتا ہے۔جبکہ باقی ماندہ دنیا میں 600 ملین سے لیکر1.2 ڈالر سالانہ کا دھندہ ہوتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ایک لاکھ سے زائد افراد قانونی طور پرجگر،گردے اوردل کی پیوندکاری کے منتظر ہوتے ہیں جبکہ صرف امریکہ میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ لوگ قرنیہ کی پیوندکرانا چاہتے ہیں مگر انہیں ڈونر نہیں ملتا اور کسی بھی بیمار کو قانونی طور پر پیوندکاری کے لئے چار سال کا ٹائم دیا جاتا ہے۔امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی کو بھی دل کی پیوندکاری کے لئے طویل انتظار کرنا پڑا لیکن متضاد رپورٹس کے مطابق انہیں طویل انتظار کے بعد آرگن ٹریڈ کی بلیک مارکیٹ کے تعاون سے ”دل“ کا مسئلہ حل کرنا پڑا تھا۔اس پر انہوں نے دل عطیہ کرنے والے ”گمنام شخص “کا شکریہ بھی اداکیاتھا۔امریکہ میں غیر قانونی طور پر پیوندکاری کرانے والے لاکھوں میں ہیں ۔لہذا اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے آرگن ٹریڈرز بچوں اور جوانوں کو اغوا بھی کرتے اور بسااوقات انہیں قتل کرکے انکے اعضا بیچ دیتے ہیں۔انسانی سمگلر بھی اس کام میں استعمال کئے جاتے ہیں جو غریب ملکوں سے سنہریمستقبل کی امید دلا کر غریب لوگوں سے انکا مال اور پھر متاع حیات ٹکڑوں میں چھین لیتے ہیں۔ اس حوالے سے ترکی ،برطانیہ،بھارت اور امریکہ سمیت کئی ملکوں میں ایسے اندوہناک واقعات رونما ہوچکے ہیں۔لاہور کے ایک ہسپتال میں بھی گردے چوری کرنے کے واقعات منظر عام پر آچکے ہیں۔

روزبروز جگر، دل، گردوں، آنکھوں، جلد ،بچہ دانی،خون سمیت ایسے مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کو جان بچانے کیلئے ڈونرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن رضاکارانہ طور پر جب انہیں مطلوبہ اعضاءنہیں ملتے تو وہ اس کاروبار سے وابستہ لوگوں سے رابطہ کر کے مطلوبہ ڈونرز تلاش کر لیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے اعضاءبیچنے پر رضا مندنہ ہو تو ایسے لوگوں کو اغوا کر کے اس کے اعضاءجبراً حاصل کر لئے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران میں کڈنی کی سرکاری قیمت 2 سے 4 ہزار ڈالر تک مقرر ہے لیکن بلیک مارکیٹ میں ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک میں کڈنی دستیاب ہوتا ہے۔ جبکہ عام طور پر ڈونر کو صرف ایک ہزار ڈالر دیکر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اعضا کی خریدوفروخت پر سختی کی جاتی ہے لہذا اکثر پاکستانی انڈیا،ایران ،چین میں پیوندکاری کراتے ہیں،وہ اپنے ساتھ ڈونر کو بھی دوسرے ملک لے جاتے ہیںیا انہیں دوسرے ملک سے ہی ڈونر مہیا کردیا جاتا ہے۔لیکن یہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔دنیا میں انسانی اعضا کی فروخت کے جو ریٹ مقرر ہیں وہ کچھ اسطرح سے ہیں۔

کڈنی: 1300 سے 150000 ڈالر

ہارٹ: 3391 ڈالر

لنگز: 1656 ڈالر

لیور: 4000 سے 157000 ڈالر

کارنیا: 12400 ڈالر

بلڈ: 25 سے 337 ڈالر

سکن: 10ڈالر فی انچ

بون میرو: 23000 ڈالر فی گرام

پینکریاز: 1199 ڈالر

ہیئر: 70 ڈالر فی دس انچ

یوٹرس: انڈیا 20 سے 30 ہزار ڈالر

مزید :

ڈیلی بائیٹس -