وکلاءکی ریلی، دہشت گردی روکنے میں ناکامی پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان

وکلاءکی ریلی، دہشت گردی روکنے میں ناکامی پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ...
وکلاءکی ریلی، دہشت گردی روکنے میں ناکامی پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان

  

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) ملک بھر کی وکلاءتنظیموں نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف ریلی نکالی جس میں وکلاءنے دہشت گردی روکنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا جبکہ دہشت گردوں کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کے مطابق پنجاب میں بھی آپریشن کلین اپ کا مطالبہ کیا۔وکلاءرہنماﺅں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

ریلی کے باعث صبح ساڑھے دس بجے کے بعد وکلاءعدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور ریلی کے بعد مکمل ہڑتال کی، ریلی کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے کی۔ ریلی میں پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل، لاہور ہائیکورٹ بار ، لاہور بار اور لاہور ٹیکس بار کے وکلاءاور رہنماﺅں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، ریلی ایوان عدل سے شروع ہو کر پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک میں اختتام پذیر ہوئی، صدر لاہور بار ایسوسی ایشن ارشد جہانگیر جھوجہ کی قیادت میں ریلی ایوان عدل سے جی پی چوک پہنچی جہاں سے سپریم کورٹ بار ، پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل، لاہور ہائیکورٹ بار ، لاہور بار اور لاہور ٹیکس بار کے وکلاءبھی ریلی میں شامل ہو گئے اور اس کی قیادت سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر نے سنبھال لی ، ریلی کے دوران وکلاءدہشت گردوں، بھارت خفیہ ایجنسی را اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے، فیصل چوک میں وکلاءسے خطاب کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ ملک بھر کی وکلاءبرادری دہشت گردوں کیخلاف حکومت کے نرم رویہ پر سراپا احتجاج ہے، وکلا نے فیصلہ کیا ہے کہ بہت ہو گیا اب چپ کا وقت نہیں اور جس طرح کراچی میں کلین اپ آپریشن ہو رہا ہے اس طرح پنجاب میں بھی ہو۔ وزیر اعظم نواز شریف اگر دہشت گردی کنٹرول نہیں کر سکتے تو پھر انہیںاستعفیٰ دے کر گھر چلے جا نا چاہے، پاکستانی قوم دلیری، بہادری اور متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر یہ جو ہولناک اور بزدلانہ دہشت گردی کا حملہ اقبال پارک میں ہوا ہے اس سے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ حکومت دہشت گردوں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں لوگوں نے تقریریں کی ہیں۔ کالے بینڈ پہنے ہیں لیکن کچھ دن بعد پھر بھول جاتے ہیں۔ لیکن اس بار عوام نے خود فیصلہ کیا ہے کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ وزیراعظم کی کل کی تقریر میں بھی انہوں نے قوم کو کوئی امید نہ دلائی۔ سید علی ظفر نے کہا کہ دہشت گرد کا کام ہے توڑنا اور بربادی پھیلانا مگر ہم نے حکمت عملی سے ان کے ارادوں کو ناکام بنانا ہے۔انہوں نے وکلاءکے مستقبل کے ایکشن پلان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جس میں پاکستان کے لاکھوں وکلاءاور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل اور دیگر بارز کے نمائندگان، صدر سپریم کورٹ بار کی زیر صدارت جمع ہو کر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے حکومت کی نااہلی کے خلاف کس طرح تحریک چلانی ہے ۔ انہوں نے کہا وکلاءحکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے اور پنجاب میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا جائے، حکومت جانتی ہے کہ پنجاب میں کہاں کہاں دہشت گردوں کی نرسریاں موجود ہیں، سیکرٹری سپریم کورٹ بار اسد منظور بٹ نے کہا کہ سانحہ گلشن اقبال سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے، حکومت محمد یوسف جیسے معصوم افراد کیخلاف کارروائی کی بجائے اصل دہشت گردوں کیخلا ف کارروائی کرے، صدر ہائیکورٹ بار رانا ضیاءعبدالرحمان نے کہا کہ دہشت گرد وں نے بچوں اور خواتین پر حملہ کر کے بزدلانہ کارروائی کی، عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو چکی ہے، وزیر اعظم نواز شریف کا قوم سے خطاب ایک ڈرے ہوئے انسان کی تقریر تھی، وزیر اعظم دہشت گردوں کیخلا ف کارروائی کرنے سے خوفزدہ ہیں، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے، سیکرٹری ہائیکورٹ بار انس غازی نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی میں مصروف ہے، وکلاءحکومت کی نااہلی کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، حکومت دہشت گردوں کیخلاف بلاتمیز کارروائی کرے، صدر لاہور بار ارشد جہانگیر جھوجہ نے کہا حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے، حکومت کی غفلت کی وجہ سے پارکوں، ہسپتالوں اور عدالتوں میں عوام دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں، صدر لاہور ٹیکس بار فرحان شہزاد نے کہا کہ حکومت تین برسوں سے کچھ نہیں کر سکی ، حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا مزید موقع نہیں دیا جا سکتا، سانحہ گلشن اقبال پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ استعفی دیں، ممبر پاکستان بار اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکمران اچھے اور برے دہشت گردوں کی تفریق کرنا بند کر دیں، ہمارے بچے مر رہے ہیں اور حکمران غفلت کی نیند سو رہے ہیں، پورے ملک میں بلاامتیاز دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جائے، وکلاءکی احتجاجی ریلی سے سابق صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر، سابق وائس چیئرمین پاکستان بار رمضان چودھری، سیکرٹری پیپلز لائرز فورم خرم لطیف کھوسہ سمیت متعدد وکلاءرہنماﺅں اور تاجروں نے بھی خطاب کیا۔وکلاءریلی کے باعث مال روڈ پر ٹریفک بلاک ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،ٹریفک پولیس متبادل راستوں سے ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں مصروف دکھائی دی جبکہ پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے تھے۔

مزید :

قومی -