لڑائی کی ویڈیو ریکارڈ کرتے داعش کے کارکن نے حادثاتی طور پر ایک ایسا منظر فلم بند کرلیا کہ دیکھ کر آپ کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

لڑائی کی ویڈیو ریکارڈ کرتے داعش کے کارکن نے حادثاتی طور پر ایک ایسا منظر فلم ...
لڑائی کی ویڈیو ریکارڈ کرتے داعش کے کارکن نے حادثاتی طور پر ایک ایسا منظر فلم بند کرلیا کہ دیکھ کر آپ کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی شام کے شہر حمہ (Hama)میں داعش کا ایک شدت پسند شامی صدر بشارالاسد کی افواج کے ساتھ ہونے والی خونریز لڑائی کی ویڈیو بنا رہا تھا کہ اس دوران وہ خود شامی فوج کی گولیوں کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا، اور اس طرح اس کی اپنی موت کا منظر بھی عکسبند ہو گیا۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ گو پرو(GoPro) پر شیئر کی گئی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ داعش کے شدت پسند ایک گاڑی کی اوٹ لے کر شامی فوج پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ اس دوران یکے بعد دیگرے گولیاں لگنے سے شدت پسند گرتے ہیںا ور پھر ویڈیو بنانے والا شدت پسندبھی گولی کا نشانہ بن کر گرتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ زمین پر گرتے ہوئے اس کی ایک چیخ بھی بلند ہوتی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شامی افواج کے پالمیرا پر قبضہ کرنے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق شامی افواج مسلسل داعش کے شدت پسندوں کو پسپائی پر مجبور کر رہی ہیں۔پالمیرا شام کا ایک قدیم شہر ہے اور یہاں کی آثار قدیمہ کے کئی نوادرات محفوظ تھے۔ داعش کے قبضے کے دوران ان نوادرات کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ شام کے محکمہ نوادرات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں کی طرف سے تباہ کیے جانے والے نوادرات 5سال کے اندر واپس اپنی جگہ پر لائے جا سکتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق پالمیرا پر گزشتہ 10ماہ سے داعش قابض تھی لیکن گزشتہ اتوار کے دن سے روسی فوج کی مدد سے بشارالاسد کی افواج شہر پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں اور انہوں نے داعش کے شدت پسندوں کو شہر نے نکال دیا ہے۔ شامی صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ ”پالمیرا کاکنٹرول حاصل کرنا شامی افواج اور ہمارے اتحادیوں کی اعلیٰ جنگی صلاحیتوں کا تازہ ثبوت ہے۔ رپورٹ کے مطابق پالمیرا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شامی افواج گردونواح کے قصبات کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں جو تاحال داعش کے قبضے میں ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -