توہین عدالت کیس، ڈی جی ایل ڈی اے کی زبانی معذرت قبول کرنے سے انکار، ہائیکورٹ نے تحریری وضاحت طلب کر لی

توہین عدالت کیس، ڈی جی ایل ڈی اے کی زبانی معذرت قبول کرنے سے انکار، ہائیکورٹ ...
توہین عدالت کیس، ڈی جی ایل ڈی اے کی زبانی معذرت قبول کرنے سے انکار، ہائیکورٹ نے تحریری وضاحت طلب کر لی

  

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے توہین عدالت کیس میں متعدد بار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر قائم مقام ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی زبانی معذرت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں آئندہ تاریخ سماعت پر تحریری وضاحت سمیت حاضر ہونے کا حکم دیا ہے، فاضل جج کی طرف سے صبیحہ خانم نامی خاتون کی توہین عدالت کی درخواست پر متعدد بار طلبی نوٹس جاری ہونے کے باوجود احد چیمہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے تا ہم گزشتہ روز انہوں نے عدالت میں پیش ہو کر معذرت طلب کی جس پر فاضل جج نے انہیں آئندہ تاریخ سماعت پر حاضر ہو کر تحریری وضاحت داخل کرنے کی ہدایت کی ہے، فاضل جج نے ایل ڈی اے کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل اور قائد اعظم تھرمل پاور پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹومحمداحد خان چیمہ سے یہ وضاحت بھی طلب کرلی ہے کہ انہوں نے ایل ڈی اے کے امور نمٹانے کے لئے روزانہ ،ہفتہ واراور ماہانہ کتنا وقت صرف کیا ہے اور یہ کہ وہ دونوںاداروں سے کتنی تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔ فاضل جج نے ہدایت کی ہے کہ احد چیمہ نے ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا ایڈیشنل چارج سنبھالنے کے بعد ایل ڈی اے کو جو وقت دیا ہے ثبوتوں کے ساتھ اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں یہ بھی بتایا جائے کہ انہوں نے روزانہ ،ہفتہ وار اور ماہانہ کتنے امور نمٹائے۔ پچھلی تاریخ سماعت پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ احد چیمہ کے پاس ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافہ چارج ہے وہ درحقیقت قائد اعظم تھرمل پاور پراجیکٹ اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور انہیں اسلام آباد میں نیپرا کے اجلا س میں شریک ہیں جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔فاضل جج نے قرار دیا کہ ایک شخص جس کے پاس اضافی چارج ہو وہ مناسب وقت نہیں دے سکتا جس کے باعث اس کے ماتحتین من مانیوں میں مشغول ہوسکتے ہیں کیوں کہ انہیں نگرانی کا خوف نہیں ہوتا۔فاضل جج نے اپنے عبوری تحریری حکم میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک شخص جو اسلام آباد میں پہلے ہی ایک بڑے پراجیکٹ سے منسلک ہے ،اسے ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے ،کیا احد چیمہ کے پاس مافوق الفطرت صلاحتیں ہیں کہ انہوں نے دونوں اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔عدالت کا اس بات سے زیادہ تعلق نہیں کہ کس سرکاری افسر کو کیا ذمہ داری سونپی جاتی ہے لیکن یہ عدالت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ شہریوں کی زندگیوں ،جائیدادوں اور آزادیوں جیسے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ کرے۔جب کوئی سرکاری افسر عوام کی خدمت کی اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کررہا ہو تو پھر عدالت آئینی طور پر اس کے معاملے میں مداخلت کی پابند بن جاتی ہے ،فاضل جج نے اپنے تحریری فیصلے میں پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ عدالت کی خواہش ہے کہ جلد از جلد مستقل بنیادوں پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کا تقرر عمل میں لایا جائے اور اس ضمن میں عدالتی حکم سے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے۔ اس کیس کی مزید سماعت 27 اپریل کو ہو گی۔

مزید :

لاہور -