پاکستان رواں سال عالمی موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے پر دستخط نہیں کرئے گا،

پاکستان رواں سال عالمی موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے پر دستخط نہیں کرئے گا،
پاکستان رواں سال عالمی موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے پر دستخط نہیں کرئے گا،

  


اسلام آباد(فیصل بن نصیر) پاکستان رواں سال عالمی کلائمٹ چینج معاہدے کے ہونے والے دستخطی اجلاس میں عالمی معاہدے پر باقاعدہ دستخط نہیں کرئے گا، اور نہ ہی تاحال پاکستان کی جانب سے این ڈی سیز بھی مکمل کر کے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے کلائمٹ چینج کو بھیجے جا سکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کا سربراہی اجلاس 21اپریل سے اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ نیو یارک میں شروع ہو رہا ہے، جس میں پیرس معاہدے کی توثیق کرنے والے ایک سو پچانوے رکن ممالک کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔ پاکستان عالمی کلائمٹ چینج معاہدے کی دستخطی مہم کا رواں سال حصہ نہیں بنے گاجبکہ بھارت کی جانب سے اس سال اقوام متحدہ کے اجلاس میں معاہدے پر دستخط کر دئے جائیں گے۔ جبکہ یونائیٹڈ نیشن فریم ورک فار کلائمٹ چینج (یو این ایف سی سی سی ) کے مطابق پاپوا نیو گنی پہلا ملک بن گیا ہے جس نے عالمی کلائمٹ چینج معاہدے کی روشنی میں اپنے این ڈی سیز جمع کروا دیے ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے کلائمٹ چینج سیکرٹریٹ کو ابھی این ڈی سیز بھی مکمل کر کے نہیں بھیجے جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے پاکستان چونکہ حکومتی سطح پر توانائی بحران کے حل کے لئے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور حکومت کی جانب سے 2018ء کے آغاز تک بجلی بحران کے خاتمے سمیت توانائی کے وسائل بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور پاکستان نے کوئلے سے چلنے والے پراجیکٹ پر وسیع بیرونی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ، جس کے بعد عالمی کلائمٹ چینج معاہدے پر رواں سال دستخط کرنے سے حکومتی بوجھ بڑھنے کے ساتھ ساتھ معاہدے کے دستخط کے امین کے طور پر پاکستان کے ہاتھ بندھ جائیں گے جس سے سرمایہ کاری میں روکاٹ اور پابندیوں کا اندیشہ موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت توانائی بحران کے خاتمے کے لئے منعقدہ اجلاس میں وزارتِ کلائمٹ چینج کی جانب سے اس بابت بحث کی جا چکی ہے کہ پاکستان رواں سال دستخط کرئے گا یا پاکستان کو ابھی اس مسلے کو طول دیتے ہوئے اپریل 2017ء تک انتظار کرنے کی پالیسی پر کاربند رہناہو گا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے رکن ممالک کو اپریل 2016ء سے یو این جنرل اسمبلی اجلاس میں دستخطی مہم کے شروع ہونے سے ایک سال تک کا وقت دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں رکن ممالک کسی بھی وقت دستخط کرسکیں گے، بھارت رواں سال اجلاس کے شروع میں ہی دستخط کر کے اپنی قدر و قیمت بڑھانے اور عالمی گرین کلائمٹ فنڈ سمیت دیگر بجٹ سے سولر پراجیکٹس کے علاوہ دیگر پراجیکٹس کی مد میں امداد لینے کا خواہاں ہے ا ور اس ضمن میں بھارت نئی پراجیکٹ تجاویز بھی پیش کرئے گا تاکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے فنڈنگ حاصل کر سکے ۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کے علاوہ کسی اور اہم حکومتی عہدے دار کو بھی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے بھیجنے کی تجویز پر غور و خوض کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کے اجلاس میں عدم موجودگی پر پاکستان پر کسی قسم کا دباو بڑھانے سے عالمی طاقتیں باز رہیں اور پاکستان کو اپنے کوئلے پر چلنے والے پراجیکٹس کے لئے مزید آ سانیاں مل سکیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت کے علاوہ رواں سال فجی، مارشل آئی لینڈ اور مراکش ، پاپوانیو گنی سمیت مالدیپ کی جانب سے بھی عالمی کلائمٹ چینج معاہدے پر دستخط کئے جانے کا اشارہ دے دیا گیا ہے۔

مزید : ماحولیات


loading...