گوادر پورٹ اور پاکستان کی خوشحالی

گوادر پورٹ اور پاکستان کی خوشحالی
گوادر پورٹ اور پاکستان کی خوشحالی

  

پاکستان گزشتہ تین سال میں معاشی ترقی کی اس پٹڑی پر چڑھ گیا ہے جہاں سے ٹرین سیدھی ترقی یافتہ ریلوے سٹیشن پر رکتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں پاکستان کے دوست ممالک کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ اگر امریکہ یو ایس ایڈ کے ذریعہ سے مختلف معاشی منصوبے مکمل کر رہا ہے تو جاپان چائنہ کے ذریعے سے مختلف منصوبوں کی تکمیل میں مصروف ہے۔ برطانیہ اور یورپی یونین اپنی اپنی جگہ پاکستان کے ساتھ معاشی روابط بڑھا رہے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چین نے اقتصادی راہداری کے جس منصوبے کے لئے چھیالیس ارب ڈالر مہیا کئے ہیں ان کی وجہ سے پاکستان میں معاشی ترقی کے لئے ایک مضبوط انفراسٹرکچر وجود میں آ رہا ہے۔ باقی منصوبوں کے ساتھ گوادر پورٹ ایک شاندار منصوبہ اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے گوادر چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گوادر چیمبر آف کامرس بھی اب مستعد ہو چکا ہے اورگوادر میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔بزنس لیڈر افتخار علی ملک نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ’’جب میں واشنگٹن چیمبر آف کامرس کے دفتر کادورہ کر رہا تھا تو وہاں مجھے چیمبر کے ایک اہم عہدیدار ہرمن ڈیوس نے کھڑکی کھول کر وائٹ ہاؤس دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا چیمبر آف کامرس امریکہ میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں اس لئے کامیاب ہے کہ ہم چیمبر سے امریکی کانگریس کے لئے نمائندے بھیجتے ہیں۔ یہ بات سن کر میں نے بھی فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان میں صنعت و تجارت کو مسائل سے نکالنے کے لئے ہم بھی چیمبر کے تخلیقی ذہن رکھنے والے بزنس مینوں کو پاکستانی سینٹ اور قومی اسمبلی کے علاوہ صوبائی اسمبلیوں میں کامیاب کروائیں گے۔ اب یہ پاکستانی بزنس کمیونٹی کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کو جس وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے معاشی بحرانوں سے نکال کر صرف تین سال میں پاکستانی معیشت کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ صرف تین سال پہلے تو پاکستان کے معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں، لیکن اب وزیراعظم محمد نوازشریف کی کامیاب معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان کا شمار ایشیا کی نہیں، بلکہ دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں کیا جا رہا ہے۔ دو روز پہلے ہی چین کے سفیر نے پاک چین اقتصادی راہداری پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر ہی ہمارا مشن نہیں ہے، بلکہ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ معاشی منصوبے شروع کرنے جا رہے ہیں، جن کی وجہ سے لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار ملے گا‘‘۔ اس وقت پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستانی آبادی میں جوانوں کی تعداد دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے پر زیادہ ہے۔ آج کل مردم شماری کا عمل جاری ہے اور جب اس مردم شماری کے اعدادوشمار سامنے آئیں گے تو پھر نئی معاشی منصوبہ بندی کی جائے گی، جس کے نتیجہ میں پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ دنیا کے بڑے بڑے ماہرین تو پہلے ہی پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ آئندہ پندرہ بیس سال میں پاکستان کی معیشت کاشماردنیا کی پچاس بہترین معیشتوں میں ہو جائے گا۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر طفیل نے بھی گوادر پورٹ کے بارے میں بہت اچھے خیالات کا اظہار کیا اور بتایا گوادر پورٹ کی کامیابی سے پاکستان میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ گوادر پورٹ کو صنعتی پیداوار کے لئے ڈیوٹی فری کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے گوادر میں عالمی سرمایہ کاری کے لئے بہت زیادہ کشش پیدا ہو گئی ہے۔ اب پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی دوسرے ممالک کی نسبت گوادر میں زیادہ منافع ملے گا جس کی وجہ سے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لئے بھی گوادر کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ پاکستانی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لئے زمین فراہم کی جائے گی۔ میٹھے پانی کا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے میٹھے پانی کا نیا پلانٹ لگایا جا رہا ہے جو کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر دے گا‘‘۔

افتخار علی ملک نے اس موقع پر کہا کہ گوادر میں قیام کے لئے ون سٹار ہوٹلوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس وقت ایک ہی اچھا ہوٹل ہے جو بہت زیادہ کرایہ وصول کرتا ہے۔ ون سٹار سے تھری سٹار ہوٹلوں کی وجہ سے گوادر میں آنے والے سرمایہ کاروں کو بہت کم قیمت میں سرمایہ کاری کا جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کا بھی ممبر ہے۔چین کے بنائے ہوئے اس بینک کے ممبران کی تعداد اب مزید تیرہ ممبروں کے بڑھنے سے ستر ہو گئی ہے۔ اس سے احساس ہوتا ہے کہ چین کے اس بینک کو کامیاب ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ پاکستان میں اس وقت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز کو بڑھانے کے لئے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی خدمات اور سرمائے سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں نئی تجاویز مرتب کی جا رہی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ اپریل کا پہلا ہفتہ اس لئے اہمیت رکھتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس نئے مہینے کے پہلے ہفتے کے بعد نئی بجٹ تجاویز کی تیاری شروع کر دے گی۔ پاکستان کے تمام چیمبر ز اور ایسوسی ایشنز کے علاوہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس بھی صنعت و تجارت کی طرف سے نئی تجاویز مرتب کرے گی۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ بھی نئی بجٹ تجاویز تیار کرکے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے کرے گا تاکہ بزنس کمیونٹی کو نئے بجٹ میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے۔

مزید :

کالم -