سیاسی گرما گرمی

سیاسی گرما گرمی
 سیاسی گرما گرمی

  

موسم بدل رہا ہے ، مزاج بھی بدل رہے ہیں اور تو اور ہمارے پارک کے دوست بھٹی صاحب جیسے ٹھنڈے مزاج کے آدمی بھی تھوڑی تھوڑی گرمی دکھانے لگے ہیں، پارک کے ساتھی شیخ نعیم جو پہلے سے ہی گرمی خورے ہیں اب باقاعدہ ’’کھورے‘‘ ہو جاتے ہیں کل جو انہوں نے پارک کے مالی پر چڑھائی کر دی اور اسے نکما بدتمیز اور نجانے کیا کیا کہہ گئے، غلطی بے چارے کی صرف اتنی تھی کہ وہ ٹریک پر پانی چھڑک رہا تھا کہ مٹی بیٹھ جائے اور گرد نہ اُٹھے، اس دوران چند بوندیں شیخ نعیم صاحب پر بھی گر پڑیں ، بس پھر کیا تھا شیخ صاحب نے پورے پارک کو سر پر اُٹھا لیا، مالی بیچارہ معافیاں مانگتا رہا، مگر شیخ صاحب بگڑتے چلے گئے یہ تو بھلا ہو ’’مائی حاجاں‘‘ کا، انہوں نے شیخ صاحب کو معاف کر دینے کا کہا اور انہوں نے یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ آپ کے کہنے پر معاف کر رہا ہوں ورنہ مَیں اس کا وہ حشر کرتا جو پارلیمینٹ کے باہر مراد سعید نے جاوید لطیف کا یا جاوید لطیف نے مراد سعید کا کیا تھا۔۔۔’’مائی حاجاں‘‘ نے بھی شیخ صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مالی کو سمجھایا کہ تم بھی ذرا خیال کیا کرو خاص طور پر شیخ نعیم جیسے بزرگوں کا، مائی حاجاں نے جونہی شیخ صاحب کے لئے لفظ بزرگ استعمال کیا۔ شیخ صاحب نے قہر بھری نظروں سے ’’مائی حاجاں‘‘ کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے کہ اوپر سے بھٹی صاحب نے شیخ نعیم کے ہاتھوں میں گلاب کا پھول پکڑا دیا اور یوں وہ گلاب کے پھول میں گم ہو گئے اور مائی حاجاں بھی آگے نکل گئیں۔

اب اگر دیکھا جائے تو ہر جگہ کوئی نہ کوئی شیخ نعیم گرمی کرتے ہوئے نظر آتا ہے جیسا کہ آج کل پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما ایک دوسرے کے ساتھ گرمی گرمی ہوتے نظر آتے ہیں۔ آج کل دونوں پارٹیوں کے سربراہ ایک دوسرے کے ’’علاقہ جات‘‘ میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اچانک سندھ کے دورے شروع کر دیئے ہیں وہ وہاں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈ جاری کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے اِن دوروں، خاص طور پر سندھ کے دوروں پر پی پی پی کے اندر خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور ان کا خیال ہے کہ نواز شریف سندھ میں اپنی سیاسی قوت بڑھانا چاہتے ہیں اور پھر انہیں یہ بھی لگ رہا ہے کہ شاید الیکشن ہونے والے ہیں۔ سو جواباً پی پی پی نے بھی پنجاب فتح کرنے کے لئے اپنے گھوڑے دوڑانے شروع کر دیئے ہیں، پہلے انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو آگے کیا۔ وہ بار بار پنجاب کے دورے پر آئے، مگر پنجاب کے عوام نے اُنہیں ’’بچہ‘‘ سمجھ کے کوئی اہمیت نہ دی۔۔۔ سو اب پی پی پی کے بزرگ سابق صدر آصف علی زرداری بذاتِ خود پنجاب کے محاذ کو گرمانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ادھر پنجاب جو کہ کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کا گڑھ تھا اب ایک ’’گڑھا‘‘ بن چکا ہے اور پی پی پی اس گڑھے میں گری ہوئی نظر آتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر پی پی پی کو واقعی پنجاب سے کوئی دلچسپی ہوتی تو وہ اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور میں پنجاب میں بہت کام کر سکتی تھی، مگر انہوں نے پنجاب میں کوئی کارکردگی نہ دکھائی۔ آصف علی زرداری نے بظاہر ’’جیسے تیسے‘‘ کر کے لاہور میں ایک ’’غریب خانہ‘‘ بھی بنوایا اور سال میں کبھی کبھی لاہور چکر بھی لگاتے رہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ ہر ماہ لاہور آیا کریں گے، کارکنوں سے رابطے میں رہیں گے اور پارٹی کو ایک بار پھر مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے، مگر وہ یہ وعدہ کبھی وفا نہ کر سکے۔ پنجاب میں پی پی پی کی جو تھوڑی بہت ساکھ تھی وہ بھی ختم ہو گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ آصف علی زرداری نے اپنی پانچ سالہ حکومت کے دوران پنجاب کو نظر انداز کیوں کیا؟ میرے دوست ’’طرم خان‘‘ کا کہنا ہے ہے کہ آصف علی زرداری کو ان کے ’’پیر‘‘ نے منع کیا تھا کہ وہ اگر کامیابی سے اپنے پانچ سال مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر صدارتی محل سے نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر طبیعت بہت خراب ہو تو کبھی کبھی سندھ چلے جایا کریں اور مزید اُداسی محسوس کریں تو پھر دبئی بہتر ہے سو وہ اپنے پیر کے حکم پر سندھ اور دبئی کے درمیان ’’محو پرواز‘‘ رہے ۔ ایک سال تو ان کی اُداسی اتنی بڑھ گئی کہ وہ اچانک دبئی چلے گئے اور ایک عرصے تک دبئی سے ہی کاروبارِ حکومت چلاتے رہے اور ان کے دبئی جانے کے حوالے سے بہت سے قصے بھی سنائی دیئے جو بہرحال ’’ایان علی‘‘ کے قصے سے مختلف تھے، سو اس وقت جہاں لوگ حیران ہیں کہ نواز لیگ اور پی پی پی اچانک ایک دوسرے کے آمنے سامنے کیوں کھڑی ہو گئی ہیں تو ساتھ ہی لوگ اِس بات پر بھی پریشان ہیں کہ یہ اچانک میرے لیڈر عمران خان نے کیوں چُپ سادھ لی ہے، کیونکہ اس وقت ایسا نظر آ رہا ہے کہ مُلک میں صرف پی پی پی اور نواز لیگ کے نام کی ہی دو جماعتیں ہیں اور ان کے علاوہ اگر کوئی جماعت ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن کی ہے۔ میرے خیال میں عمران خان کو اب اپنے سیاسی فیصلوں کو بدلنے کی ضرورت ہے وہ اِس وقت ’’پانامہ کیس‘‘ سے آس لگائے بیٹھے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ’’پانامہ کیس‘‘ کا فیصلہ آنے کے بعد ان کی سیاسی اہمیت بڑھ جائے گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ’’پانامہ کیس‘‘ کے بعد مُلک گیر سطح پر چھا جائیں گے اور مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کا وجود ختم ہو جائے گا۔عمران خان کو محض پانامہ کی ’’امید‘‘ پر نہیں بیٹھنا چاہئے اُنہیں اپنی پارٹی پر توجہ دیتے ہوئے اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی وہ عوام کے حقیقی مسائل کے حوالے سے اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے گزشتہ پانچ سال ’’ایک ایسی سیاسی ریہرسل‘‘ میں ضائع کئے ہیں، جن کا عوامی مفاد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پانامہ کیس کی اہمیت اپنی جگہ، مگر ایک عام آدمی کے مسائل بہت گہرے ہیں۔ لوگوں کو مہنگائی اور غربت نے جکڑ رکھا ہے ایک عام آدمی کو اپنے بال بچوں کی فکر ہے اور انہیں ان کا پیٹ پالنے کے مسائل سے ہی فرصت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پیپلزپارٹی کا یہ نعرہ ’’روٹی کپڑا اور مکان‘‘ کہیں نہ کہیں اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے اور پیپلزپارٹی اب بھی اس نعرے پر دوبارہ حکومت حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے اور آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ2018ء کے الیکشن میں ایک بار پھر حکومت بنائیں گے۔ زرداری حکومت بناتے ہیں یا نہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ ان کے پاس ایک موثر نعرہ موجود ہے۔ پی ٹی آئی کرپشن کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ میدان مارنے کا ارادہ رکھتی ہے، مگر اِس نعرے میں ایک عام آدمی کے لئے کوئی کشش نہیں ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے پاس حکومت ہے اور ترقیاتی کاموں کے اعلانات اور بڑے بڑے پراجیکٹ بنانے کے نام پر وہ عوامی سطح پر اپنا سیاسی کیس اچھے طریقے سے لڑ سکتی ہے۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کو آنے والے دِنوں میں کچھ سوچنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عمران خان کے گرم گرم بیانات اب آصف علی زرداری نے ہتھیا لئے ہیں اور اس وقت ان کے بیانات کی گونج سنائی دیتی ہے۔

مزید :

کالم -