جنرل(ر) راحیل شریف کا نیا عالمی کردار۔۔۔خوش آئند

جنرل(ر) راحیل شریف کا نیا عالمی کردار۔۔۔خوش آئند

  

وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ اگر جنرل (ر) راحیل شریف سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کے سربراہ مقرر ہوئے تووہ اُمتِ مسلمہ کے اتحاد کا سبب بنیں گے۔ جنرل(ر)راحیل شریف اپنے تجربات اور سوچ کے ساتھ مسلم ممالک کی غلط فہمیاں دور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جنرل(ر) راحیل شریف کی سربراہی کا ایران سمیت اتحاد مخالف ممالک کو بھی فائدہ ہو گا۔افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اُن کاکہنا تھا کہ ہمیں ہر صورت افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے ہوں گے اگر دشمن قوتیں پاکستان کے لئے مغربی اور مشرقی سرحدوں دونوں پر محاذ کھولنا چاہتی ہیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،کیونکہ ہمارا مستقبل وسط ایشیا سے جُڑا ہے اور وسط ایشیا کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے، ہمیں ہر صورت مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے اور افغانستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، اگر بھارت پاکستان کے لئے دو محاذ کھڑے کر رہا ہے تو دراصل وہ اپنے لئے دو محاذ کھول رہا ہے اور بھارت کے لئے یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ بحر ہند اور سی پیک دُنیا کا گیٹ وے بنیں گے اگر ہم تجارتی راہداری بن کر چین کو سنٹرل ایشیا اور روس کے ساتھ جوڑیں گے تو اس کے ہماری معیشت پر بے پناہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار بحرہند میں ’’میری ٹائم سیکیورٹی اور پاکستان کے لئے چیلنجز‘‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

جنرل(ر)راحیل شریف پاک فوج کی سربراہی سے ریٹائر ہوئے ہیں اِس سے پہلے بہت سے آرمی چیف ریٹائرمنٹ کے بعد خاموشی سے ریٹائرڈ زندگی گزارتے رہے ہیں،لیکن جنرل(ر) راحیل شریف نے اپنے تین سالہ عہد میں جو کارنامے انجام دیئے اور جن کی شہرت چار دانگِ عالم میں پھیل گئی اُن کا اعجاز تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے39 ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نظرِ انتخاب اُن پر پڑی، ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کی ریاض میں شاہ سلمان اور وسرے سعودی حکام کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوئیں، غالباً اُن میں اُنہیں باضابطہ طور پر نئی فورس کی سربراہی کی پیشکش کی گئی، اطلاعات یہ ہیں کہ انہوں نے اِس کے جواب میں بعض ایسی شرائط رکھیں جو اگر سعودی حکام منظور کر لیں گے تو اِس کا فائدہ پوری مسلم اُمہ کو ہو گا۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جنرل صاحب کی شرائط پر سعودی حکام نے صاد کر دیا ہے۔

اِس دوران حکومتِ پاکستان نے بھی انہیں نئی فورس کی کمان سنبھالنے کے لئے رسمی طور پر اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے لئے کھڑی کی جانے والی اِس فورس کے لئے جنرل(ر)راحیل شریف کا انتخاب نہ صرف ان کے،بلکہ پاکستان اور پاک فوج کے لئے بھی اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے تین برس تک پاک فوج کی جس انداز میں کمان کی اس کی خوشبو دُنیا بھر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی پہنچی۔ اتفاق سے سعودی عرب ایک ایسی فورس تشکیل دینے کے مراحل سے گزر رہا ہے جو مسلم ممالک کی سلامتی کے لئے کردار ادا کرے اور خاص طور پر دہشت گردی کے عفریت سے رُکن ممالک کو بچائے،یہ ایک نیک کام ہے اور کسی مُلک کو اِس اتحاد سے خائف ہونے یا بے معنی اور موہوم خدشات پالنے کی ضرورت نہیں، نہ کسی مُلک کے نام نہاد دوستوں کو اس اتحاد کے ساتھ ایسے منفی تصورات جوڑنے کی ضرورت ہے، جن کا حقائق کی دُنیا سے کوئی تعلق نہیں۔

جنرل(ر)راحیل شریف اگر اپنی نگرانی میں اِس نئی فورس کا انفراسٹرکچر بناتے ہیں تو اس کے لئے یا تو تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہو گی یا پھر ایسے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا جو تربیت پانے کے بعد اس فورس میں ذمے داریاں سنبھالیں، پوری مسلم دُنیا میں پاکستان ہی ایک ایسا مُلک ہے جو فوجی لحاظ سے ایک مقام و مرتبے کا حامل ہے اور کم عرصے میں نئی فورس کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں ایسے علاقے موجود ہیں،جہاں کے نوجوان خوشدلی سے سیکیورٹی فورسز میں خدمات انجام دینے کے لئے تیار رہتے ہیں ایسے نوجوانوں کے لئے نئی فورس مواقع کی ایک دُنیا وا کر دے گی، پھر فورس کے لئے جو اسلحہ اور دوسرا سازو سامان درکار ہو گا وہ بھی پاکستان میں تیار ہو سکتا ہے، پاکستان اِس وقت دفاعی شعبے کے سازو سامان کی تیاری کے سلسلے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جدید ترین تربیتی اور لڑاکا طیارے بھی چین کے تعاون سے تیار ہو رہے ہیں، ڈرون طیارے بھی بنائے جا رہے ہیں جو معلومات اور کمبیٹ مقاصد دونوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ برّی فورسز کے لئے اسلحہ اور دوسرا سازو سامان بھی پاکستان میں بن رہا ہے اور اگر سعودی اتحاد کو جدید سازو سامان کی ضرورت ہو گی تو لامحالہ اِس کے لئے پاکستان ہی انتخاب ٹھہرے گا۔

اِس طرح نہ صرف پاکستان سے افرادی قوت، بلکہ دفاعی سازو سامان بھی اتحاد کے لئے جائے گا اور تعاون کے ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہو گا، جس کا کوئی تصور شاید ہمارے اُن دوستوں کے ذہن میں موجود نہیں ہے جو جنرل(ر) راحیل شریف کے تقرر کے ساتھ ہی بعض منفی جذبات جڑے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جنرل صاحب کا ذہن اِس معاملے میں جتنا صاف اور روشن ہے اس کا بھی مخالفین کو کوئی اندازہ نہیں،انہوں نے سعودی حکام پر واضح کر دیا ہے کہ جو نئی فورس تشکیل دی جائے گی اس کی سربراہی وہ اسی صورت میں سنبھالنے کے لئے تیار ہیں جب یہ فورس امت کے اتحاد کا باعث بنے، اگر ایسا نہیں ہوتا اور کسی بھی قسم کے خلفشار کا اندیشہ ہوتا ہے تو وہ اس ذمے داری سے معذرت کر لیں گے۔جنرل صاحب کے اس دو ٹوک موقف کے علی الرغم پاکستان میں اُن کے بعض نکتہ چینوں نے اُن کی اِس نئی ذمہ داری کے حوالے سے جو گفتگو شروع کر رکھی ہے اسے نرم سے نرم الفاظ میں لاعلمی پر ہی محمول کیا جا سکتا ہے۔ وہ اِس معاملے کو پورے پس منظر میں رکھ کر دیکھنے کی بجائے ایک محدود سی تنگنائے میں دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے بعض وہ ہیں، جنہیں نہ توعالمی حقائق کا کوئی ادراک ہے اور نہ ہی تزویراتی شعور اُن کے قریب سے ہو کرگزرا ہے وہ جنرل راحیل شریف کے تصور کو بھی اسی رنگ کی عینک سے دیکھتے ہیں جن سے وہ پاکستانی سیاست کا نظارہ کرتے ہیں جس سے اُن کے مفادات جُڑے ہوئے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر)ناصر خان جنجوعہ نے جنرل راحیل شریف کے حوالے سے جس صاف گوئی سے کام لیا ہے امید ہے اس کے بعد اُن لوگوں کا ذہن بھی روشن ہو جائے گا، جہاں ابھی تک تاریکی نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ ناصر خان جنجوعہ نے مستحکم افغانستان کے متعلق بھی پاکستان کی پالیسی دو ٹوک بیان کر دی ہے توقع کرنی چاہئے افغان حکام اس کے بعد بھارت کے پھیلائے ہوئے سازشوں کے دام سے نکل آئیں گے اور پاکستان کے ساتھ مل کر خطے کے استحکام میں کردار ادا کریں گے۔

مزید :

اداریہ -