شیخوپورہ میں ٹرین اور آئل ٹینکر کا افسوسناک تصادم

شیخوپورہ میں ٹرین اور آئل ٹینکر کا افسوسناک تصادم

  

لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس اور آئل ٹینکر میں شیخوپورہ کے نزدیک تصادم کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور سمیت دو افراد جاں بحق اور چھ زخمی ہو گئے۔ شالیمار ایکسپریس کی سات بوگیاں آگ لگنے اور الٹ جانے سے تباہ ہو گئیں، مسافروں نے بوگیوں کے شیشے توڑ کر اپنی جان بچائی۔ یہ افسوسناک حادثہ آئل ٹینکر کے ڈرائیور کی جلد بازی اور ہٹ دھرمی کے باعث پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق شیخوپورہ میں ہرن مینار کے نزدیک ریلوے ملازم ایک طرف کا پھاٹک بند کر کے دوسری جانب جا رہا تھا کہ اُدھر سے آئل ٹینکر کے ڈرائیور نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریلوے لائن پر پہنچ کر اصرار کیا کہ پھاٹک کھولا جائے،لیکن پھاٹک والے نے اُسے بتایا کہ شالیمار ایکسپریس آ رہی ہے، آپ آئل ٹینکر کو پیچھے لے جا کر ٹرین کے گزرنے کا انتظار کریں۔ آئل ٹینکر کے ڈرائیور نے بات نہ مانی اور پھاٹک کھولنے کے لئے کہتا رہا۔ دونوں کی بحث کے دوران شالیمار ایکسپریس آ کر آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔آئے روز پھاٹک پر ٹرین حادثات کی وجہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہر پھاٹک پر ریلوے ملازم تعینات ہو گا اور ٹرینوں کی آمد پر پھاٹک بند ہوگا تو حادثات نہیں ہوں گے،لیکن شیخوپورہ میں یہ افسوسناک حادثہ پھاٹک بند کرنے والے کی موجودگی اور آئل ٹینکر کے ڈرائیور کی جلد بازی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کی نوعیت شدید تھی،لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کے باعث جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کم رہی۔ پھاٹک کراس کرنے والوں کو ہرگز رسک نہیں لینا چاہئے۔اِس معاملے میں مزید آگہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے یہاں ہم اس بات پر بھی زور دینا چاہتے ہیں کہ جن ریلوے کراسنگ پر کوئی پھاٹک اور ملازم نہیں، وہاں جلد از جلد یہ کمی پوری کی جائے،کیونکہ ریلوے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے حصے کے اخراجات کی رقم جمع کروا چکے ہیں، اب صوبائی حکومتوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کام مکمل کریں۔

مزید :

اداریہ -