ملتان میں خواتین کے تحفظ کا مرکز قائم، وزیر اعلیٰ نے افتتاح کیا

ملتان میں خواتین کے تحفظ کا مرکز قائم، وزیر اعلیٰ نے افتتاح کیا

  

سیاسی قارئین بتا رہے ہیں کہ عام انتخابات شاید اپنے مقررہ وقت سے قبل کروانے کی مجبوری آن پڑے گی ،اِس لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتیں انتظامی طو ر پر متحرک لگ رہی ہیں خصوصا مسلم لیگ(ن)نے ترقیاتی کاموں کے اعلان اور مکمل نامکمل منصوبوں کے افتتاح پر زور ڈال رکھا ہے ۔یہی نہیں بلکہ پنجاب کی انتظامی بنیادوں پر اس تقسیم کا ایک مرتبہ پھر ’’سانپ ‘‘نکال لائے ہیں جو ملک رفیق رجوانہ کے گورنر بننے کے بعد تقریبا ختم ہوگیا تھا جس کے تحت اس وقت کے سینیٹر ملک رفیق رجوانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جو ایسی سفارشات کرنے کی ذمہ دار تھی کہ اپر پنجاب اور جنوبی پنجاب کو دو بنیاد ی انتظامی حصوں میں تقسیم کر کے ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور کچھ وزارتوں کے سیکرٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹریز مستقل بنیادوں پر ملتان میں سیکرٹریٹ قائم کر کے تعینات کر دیئے جائیں،لیکن نہ تو یہ سفارشات مرتب ہوسکیں اور نہ ہی یہ کمیٹی دوبارہ فعال ہوسکی، لیکن اب حکومت پنجاب نے بوجوہ ایک مرتبہ پھر جنوبی پنجا ب کو الگ انتظامی اختیارات دینے کے لئے یہ ایک بڑا سیاسی شوشہ چھوڑا ہے ۔اب اس پر عمل درآمد کی ہمت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کرتی ہے کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،لیکن دوسری طرف سرائیکی قوم پرست جماعتوں اور گروپوں ( بشمول تحریک بحالی صوبہ بہاولپور محمد علی درانی) نے یہ فارمولا تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور اپنے اس مطالبے کو پھر سے دہرایا ہے کہ تمام قوم پرست جماعتیں کم ازکم الگ صوبے کی بات مانیں گی۔ اس سے کم پر بات نہیں ہوگی ۔ان جماعتوں کے رہنماؤں نے پنجاب حکومت کی طرف سے یہ ’’لولی پاپ‘‘قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ محض انتخابی ڈرامہ رچانے کے لئے جنوبی پنجاب کے عوام کو ایک مرتبہ پھر بے وقوف بنایا جارہا ہے اور ان کے حقوق سلب کرنے کی گھناؤنی سازش کی جارہی ہے اور وہ تمام جماعتیں مل کر انتخابات سے قبل الگ صوبے کے قیام کے لئے تحریک چلائیں گی اب یہ تحریک کامیاب ہوتی ہے یا پھر حکومت انتظامی طور پر جنوبی پنجاب کی الگ حیثیت بناتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،لیکن اس سلسلہ میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت جنوبی پنجاب کو آئندہ انتخابات کے لئے ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں ۔پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف واضح اور اپنے پارٹی منشور کے طورپر جنوبی پنجاب کو سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے عوامی حلقوں میں مسلسل کام کررہی ہیں جس کا سیاسی مبصرین تجریہ کرتے ہیں کہ اس مرتبہ جنوبی پنجاب سے نسبتاً وہ جماعت زیادہ ووٹ لے گی جو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کرے گی ۔اب یہ بات تو پیپلز پارٹی بھی زور لگا کر رہی ہے جس کا اعادہ گزشتہ دنوں سابق صدرِ مملکت اور پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے بھی ملتان آمد پر کیا ،وہ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی رہائی پر مبارکباد دینے آئے تھے اور یہاں میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے سیاسی طور پر لاہور کے بعد جنوبی پنجاب کو فوکس کرنے کا عندیہ دیا اور برملا اظہار کیا کہ ہم نے پہلے بھی سرائیکی صوبے کے لئے کام کیا اب پھر اس کے لئے کام کریں گے ،جس کے لئے پنجاب میں حکومت کی ضرورت ہے جو ہم اس مرتبہ بنا لیں گے۔سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق سفیر حسین حقانی کے بارے میں سوالات کے لئے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آگے کر دیا، جنہوں نے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی سیکرٹری نتاشہ دولتانہ اور خواجہ رضوان عالم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کوئی معقول جواب دینے کی بجائے الٹا مقتدر سرکاری اور ریاستی اداروں سے سوال اٹھا دیا کہ ایک چھاؤنی میں 10سال تک اسامہ بن لادن کیسے چھپا رہا؟حسین حقانی کس طرح پیپلز پارٹی تک رسائی حاصل کرگیا اور پھر اس خاتون کا اعتماد حاصل کر کے وفاقی عہدہ بھی لے لیا جس کے خلاف وہ انتہائی بداخلاقی سے گری ہوئی مہم چلاتا رہا اسے وہاں تک کس نے پہنچایا اور نواز شریف تک وہ کراچی سے سفر کرکے پہنچا ۔یہ کہانی پھر سہی

جنوبی پنجاب کے دل ملتان میں جنوبی ایشیاء کا اپنی نوعیت کا پہلا ایک ایسا سنٹر قائم ہوا ہے جہاں صرف خواتین رجوع کر سکیں گی،جبکہ اس کا تمام تر عملہ بھی خواتین پر مشتمل ہو گا۔ وویمن پروٹیکشن سنٹر یعنی خواتین کی داد رسی کا یہ مرکز کافی عرصہ سے زیر تکمیل تھا جو قبل ازیں اندرون شہر کے کسی علاقے میں قائم کرنا تھا، مگر بعد ازاں متی تل روڈ کے قریب ضلع کچہری، جوڈیشنل کمپلیکس کی تعمیر کے ساتھ اس منصوبے کے لئے بھی جگہ مختص کر دی گئی۔جو ایک بڑے رقبے پر محیط ہے جس میں ایف آئی آر سے لے کر میڈیکل رپورٹ تک کی سہولتیں میسر ہیں یہی نہیں بلکہ اس میں ماہر نفسیات، قانونی معاونت کے لئے قانون دان اور سوشل ورکرز بھی موجود ہوں گے اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ کسی مظلوم یا شکایت کنندہ عورت کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں،بلکہ ایک ٹیلی فون کال پر کی جانے والی شکایت پر اس سنٹر سے وابستہ عملہ خودبخود اس ایڈریس پر موجود ہو گا جبکہ اس شکایت سنٹر کا لنک براہِ راست وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے ہو گا یعنی ایک چھت تلے خواتین کو ضرورت کے مطابق تمام سہولیات میسر ہوں گی حتی کہ مظلوم خواتین کے لئے خوراک اور رہائش کا انتظام بھی ہو گا اور یہاں ہونے والی شکایت کا 90 روز کے اندر منطقی انجام ہو گا۔افتتاح کے لئے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف، حسب روایت لاہور سے اپنے ذاتی سٹاف سمیت بروز ہفتہ ملتان پہنچے جہاں گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ پہلے سے موجود تھے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ملک کی50فیصد سے زیادہ آبادی کی حامل خواتین کے لئے قوانین میں ایسی اصلاحات کرنا چاہتی ہے جن کو قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہو،گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے بھی خطاب کیا اور حکومت کے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سماجی انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں تعلیم، صحت، امن و عامہ اور تحفظ شامل ہیں موجودہ حکومت کی اس حوالے سے کاوشیں قابل تحسین ہیں تقریب میں سول سوسائٹی کے نام پر این جی اوز کے نمائندے بھی موجود تھے یہ وہی نمائندے ہیں،جنہوں نے مختاراں مائی کو ہزاروں سال سے چلنے والے ہمارے ثالثی اور مصالحتی نظام کی مخالفت کر کے اسے بند کروا دیا تھا اور اسے وڈیروں کا ’’پنجایت‘‘ سسٹم قرار دیا تھا حالانکہ ثالثی، مصالحتی اور پنچایت میں کیا فرق ہے لیکن اس وقت ایک سماجی سازش کے تحت ہمارے معاشرے کو دنیا بھر میں بد نام کیا گیا اور اب انہی کے نمائندے اس نئے نظام کے تحت ایک مرتبہ پھر ثالثی اور مصالحتی نظام کی بات کر رہے ہیں، کیونکہ اس نظام کے بغیر کوئی بھی معاشرہ نہیں چل سکتا اگر یقین نہ آئے تو یورپ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -