پاکستان کے ٹرک ڈرائیور، کلینرز پر پاسپورٹ کی پابندی سینکڑوں ٹرک اب بھی پھنسے ہوئے ہیں

پاکستان کے ٹرک ڈرائیور، کلینرز پر پاسپورٹ کی پابندی سینکڑوں ٹرک اب بھی ...

  

خیبر ایجنسی ( عمران شینواری)

لنڈیکوتل درہ خیبر پر ایک تاریخی علاقہ ہے جسکی جغرافیا ئی حیثیت بھی مسلمہ ہے افغانستان کے ساتھ سرحد کیوجہ سے بھی لنڈیکوتل کی اہمیت بہت زیادہ ہے یہ علاقہ پاک افغان شاہراہ پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بہت اہمیت رکھتا ہتے لنڈیکوتل پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس کے شمال میں دریا کابل جیسے پانی کے ایک بہت بڑے ذخیرے ہیں جبکہ اس کے جنوب میں وادی تیراہ جیسے خوبصورت اور زر خیز علاقے موجود ہیں اور اس کے ساتھ افغانستان کے ساتھ طورخم بارڈ ر پر وسط ایشیا تک تجارت کے حوالے سے ایک خاص مقام رکھتا ہے لنڈیکوتل کے عوام امن پسند محبت اور کام کرنے والے لوگ ہیں لیکن گز شتہ ڈیڑھ ماہ سے لنڈیکوتل کے عوام مختلف درپیش مسائل پر سراپا احتجا ج ہیں اور آئے روز لنڈیکوتل بازار میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جسکی وجہ سے لنڈیکوتل الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈ یا کے علاوہ سوشل میڈیا بھی بہت نمایاں ہیں کیو نکہ تقریبا 32دنوں تک بارڈر بندش سے لنڈیکوتل کے عوام احتجاج کررہے تھے قبائلی عوام کا روزگار بارڈرسے وابستہ ہے جبکہ بارڈر کھلنے کے بعد پاکستانی ڈارئیواراور کلینر پر پاسپورٹ شر ط لاگواور کمپنیوں سے ایک مہینے کی دیہاڑی مانگنے پر اب ٹرانسپوٹروں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے ہیں ڈیڑھ ماہ سے لنڈیکوتل کے تمام مکاتب فکر کے لوگ شدید احتجاج پر ہیں اور آئے روز بازار میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن ممبر قومی اسمبلی اور سینٹرسمیت پولیٹکل ایجنٹ نے ابھی تک ان مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا گزشتہ روز ٹرانسپورٹ یونین کے صدر شاکر آفریدی ،مستقل آفریدی اور آل طورخم کسٹم کلئیر نگ ایجنٹس کے چئیر مین معراج الدین شنواری نے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ڈرائیواراور کلینرکو پاسپورٹ سے مشتثنی کیا جائے اور پہلے کی طرح شناختی کارڈ پر آنے جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ڈرائیورز پر پاسپورٹ شرط لازمی قرار دینے سے پاک افغان تجارت بری طرح متاثر ہو گی بارڈر پر پاکستانی ڈرائیوار اور کلینر کو پاکستانی حکام پاسپورٹ بغیر افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ افغانستان حکومت ان سے پاسپورٹ ویزہ کا مطالبہ نہیں کرتی اس لئے پاکستان حکومت بھی ڈرائیوار اور کلینر کو پاسپورٹ ویزہ سے مثتثنی قراردے کراصلی شناختی کارڈ پر آنے جانے کی اجازت دے انہوں نے کہا کہ پہلے بارڈر بندش سے 32 دن کھڑے تھے لیکن اب بارڈر کھولنے کے بعد شرائط کی وجہ کھڑے ہیں لاکھوں رو پے کا نقصان ہو گیا ہے اور طورخم بارڈر پر ہزاروں گاڑیاں مال سے بھر ے کھڑی ہیں ٹرانسپوٹروں نے دھمکی دی کہ اگر انکے مطا لبا ت تسلیم نہیں کئے گئے تو وہ شدید احتجاج پر مجبور ہو جائینگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی اس سلسلے میں انتظامیہ ذرائع نے بتا یا کہ ٹرانسپورٹروں پر پاسپورٹ ویزہ کی شر ط بارڈر منجمنٹ اور پالیسی کاحصہ ہے اس لئے ڈرائیوار اور کلینر کیلئے پاسپورٹ ویزہ لازمی ہو گیا ہے

دوسری طرف ایجنسی ہیڈ کوارٹرہسپتال کی نجکاری کے خلاف سیاسی مذہبی ور سماجی لوگ شدید احتجاج کر رہے ہیں اور آئے روزاحتجاجی مظاہرے کررہے ہیں کہ حکومت ہسپتال کی نجکاری کا فیصلہ واپس لے اس کے ساتھ بعض فلاحی تنظیمیں اور بعض قومی مشران نجکاری کے حق میں ہیں اورکھلم کھلا کہتے ہیں کہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور صرف ہسپتال میں بخار کھانسی اور زکام کا علاج ہو تاہے اسکے علاوہ تمام مریضوں کو پشاور منتقل کیا جاتاہے کیونکہ ہسپتال میں گز شتہ کئی سالوں سے ماہر اسپشلسٹ ڈاکٹروں ہیں اس لئے ہسپتال کی نجکاری کی جائے جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق کہ نجکاری سے لنڈیکوتل کے عوام کو بہت فائدہ ہو گا کیونکہ پہلی فرصت میں تمام خالی پوسٹوں پر تعیناتی کی جائے گی اور ہسپتال پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا جائے گااور تمام اسپشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی کے بعد کوئی مریض پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل نہیں کیا جائے گااور ہسپتال میں تمام طبی سہولیات مہیا کی جائیں گی جبکہ دوسری طرف نجکاری کے خلاف خیبر سیاسی اتحاد کے رہنماؤں شاہ حسین شنواری ، سید مقتدر شاہ، حضرت ولی آفریدی ، عبدالرازق شنواری ، قاری مجاہد شنواری ، مولانا احسان اللہ قادری، حاجی فضل الرحمان آفریدی ا عامر آ فریدی اور کئی ایک ڈاکٹرز نے نام نہ بتانیکی شرط پر بتایا کہ فاٹا سیکریٹریٹ کے آفسران اور محکمہ صحت کے حکام کی نااہلی اس اقدام سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ لنڈی کوتل ہسپتال کو دی جانے والی کیٹگری اے کی حیثیت کو قانونی اور عملی شکل تو نہیں دے سکے اور نہ ہی اس ہسپتال کے لئے کمیشن کی خاطر پہلے سے خریدی گئی کروڑوں روپے کی مشینری کو استعمال میں لا سکے جس سے مقامی غریب قبائلی مریضوں کی مشکلات حل ہوتیں اور ان کے علاج معالجے کی سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کی جاتی جبکہ اس کے برعکس مسئلہ حل کرنے کے بجائے اس اہم ہسپتال کو فروخت کر کے کسی ٹھیکیدار کو دینا چاہتے ہیں جس میں ان کی ملی بھگت اور کرپشن شامل ہو گی خیبر سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ فاٹا سیکریٹریٹ اور صحت کے حکام ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالت زار کو درست نہ کر سکے تو ایک عام ٹھیکیدار کیسے یہ کام کر سکے گا خیبر سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قبائلی عوام کے مفادات سے کھیلنا چھوڑ دے اور مظلوم اور بے بس قبائلی عوام کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح بنیادی سہولیات فراہم کرے اگر حکومت کا ارادہ نیک ہے تو ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کو تمام ضروری عملہ جن میں ماہر ڈاکٹرز ، پیرا میڈکس ، نرسنگ سٹاف اور کلاس فور ملازمین شامل ہوں فراہم کرے جن کی تعیناتی سے مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور مشکلات بھی کم ہو سکیں گی خیبر سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جمرود سول ہسپتال کو تو سٹاف فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل اے گریڈ کا درجہ ملنے کے باؤجود اضافی سٹاف سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی نجکاری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائیگی انہوں نے دھمکی دی کہ اگلے ہفتے پشاور میں بھوک ہڑتال کر کے گورنر کو یاداشت بھی پیش کرینگے اور اگلے مرحلے میں فاٹا سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے ۔

قبائلی سیاسی رہنماؤں نے کہا ٹھیکیدار کو ہسپتال کے اندر میڈیسن کی دکان کھول کر غریب عوام کے چمڑے اتارنے کی اجازت نہیں دینگے خیبر سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ نجکاری کی خاطر اس ہسپتال کو کیٹگری سی کا درجہ دینے کی بھی سازش ہو رہی ہے نہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل ہسپتال ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال رہیگا اور کوئی اس کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں بشمول سول سوسائٹی اور میڈیا ہسپتالوں کی نجکاری کے نام پر کرپشن اور لوٹ مار کی اجازت نہیں دینگے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -