حکومت من پسند افراد کے ذریعے براہ راست گندم برآمدکرنے سے گریز کرے

حکومت من پسند افراد کے ذریعے براہ راست گندم برآمدکرنے سے گریز کرے

  

لاہور ( این این آئی) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن ( پنجاب) کے چےئرمین ریاض اللہ خان اور آواز گروپ کے رہنماعاصم رضا ، میاں ریاض ، لیاقت علی خان اور چوہدری اافتخار احمد مٹونے کہا ہے کہ حکومت اقرباء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے من پسند افراد کو 170 سے 180 ڈالر ریبیٹ دے کر براہ راست گندم ایکسپورٹ کرنے سے گریز کرے ،اربوں روپے سے لگائی گئی مقامی فلور ملنگ انڈسٹری پہلے ہی بحران سے دوچار ہے ، حکومت کا ایسا کوئی بھی فیصلہ قبول نہیں کریں گے جس میں فلور ملنگ انڈسٹری کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود ہو۔ گزشتہ روز پی ایف ایم اے کے رہنماؤں اور دیگر فلور ملز مالکان نے پنجاب کے مرکزی دفتر میں ایک میٹنگ کے دوران شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گندم ایکسپورٹ کے حوالے سے حکومت من پسند افراد کے ذریعے 170 سے 180 ڈالر ریبیٹ دیکر گندم ایکسپورٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ، اگر ایسا کیاگیا تو اربوں روپے کی مالیت سے لگائی گئی مقامی فلور ملنگ انڈسٹری مکمل طور پر تباہ جبکہ انڈسٹری سے وابستہ لاکھو ں کا معاشی قتل ہو جائے گا ، اس وقت پہلے ہی مقامی گندم کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ کا عمل بری طرح متاثر ہے اور 50 فیصد سے زائد فلور ملیں بند پڑی ہیں جبکہ چلنے والی ملوں کیلئے بھی اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکے ہیں۔ان حالات میں حکومت کی جانب سے براہ راست گندم ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے انڈسٹری پر انتہائی منفی اثرات ظاہر ہونگے ،جبکہ فلور ملنگ انڈسٹری کسی بھی صورت اس قسم کے کسی بھی فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریگی۔ انہوں نے کہاکہ گندم کی ویلیو ایڈیشن کرنے کے بعد ملک کو زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ گندم کی ایکسپورٹ قیمت 150 ڈالر فی ٹن ہے جبکہ آٹا ، میدہ ،فائن 270 سے 300 ڈالر فی ٹن میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ان حالات میں ایسی پالیسی کو ملک دشمنی اور انڈسٹری کش اقدامات تصور کئے جائیں گے ۔اس وقت بھی تقریباً 30 لاکھ ٹن ملک کے گودامو ں اور کھلے آسمان تلے خراب ہورہی ہے،لہذا گندم ایکسپورٹ کے حوالے سے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے سالانہ بنیادوں پر ایکسپورٹ پالیسی دی جائے جس سے مقامی انڈسٹری چلنے کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ افراد کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔

اور اربوں روپے کی فاضل گندم کی نکاسی بھی ممکن ہو سکے۔

مزید :

کامرس -