قانونی نظام کے تسلسل کے بغیر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوسکتا،ڈاکٹرامان اللہ

قانونی نظام کے تسلسل کے بغیر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوسکتا،ڈاکٹرامان ...

  

لاہور( ایجوکیشن رپورٹر )اردوسائنس بورڈاورآئی کے ایف کے اشتراک سے بورڈ میں ’’قانونی نظام وعلم کی سائنسی بنیادیں اوران کی سماجی اہمیت‘‘کے موضوع پر خصوصی فکری مباحثے کااہتمام کیاگیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاکالج کے پروفیسرڈاکٹرامان اللہ خان نے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کی تشکیل اور پرُامن اورجمہوری معاشرے میں ہی قانون پر عملداری کا کلچرفروغ پاسکتاہے۔انفرادیت کو ردکرکے اداروں کے ذریعے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ نظام ہی کو اپناکر اسلامی تعلیمات کے مطابق آئین وقانون میں ترامیم کی جانی چاہییں۔قانونی نظام کے تسلسل کے بغیر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوسکتا۔ڈاکٹرامان اللہ نے مزیدکہاکہ جمہوریت میں میڈیاایک بڑی نعمت ہے جس کے ذریعے آئین وقانون میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

ہمیں قانون کوگالی دینے کی بجائے اس کی خامیوں کو دُورکرکے سماجی تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں عمل میں لانی چاہییں۔اس موقع پر ڈائریکٹرجنرل اردو سائنس بورڈڈاکٹرناصرعباس نیّر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں قانون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ مذہب، سماج، رسوم ورواج اورعقائد قوانین کی تشکیل کے اہم عناصرہیں۔ ریاست کے اندرتمام افرادکو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہییں۔انہوں نے کہاکہ نوآبادیاتی نظام کے پیداکردہ مسائل کو حل کیے بغیر آگے بڑھنامشکل ہے۔پنجاب یونیورسٹی شعبہ انگریزی کے پروفیسر اورآئی کے ایف کے کوآرڈینیٹرشاہ زیب خان نے آئی کے ایف کے اغراض و مقاصداورخدمات کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں مختلف طاقتیں قوانین کی تشکیل پر اثراندازہوتی ہیں۔ اس موقع پرڈاکٹرعامرسعید، میاں قیصرزمان ایڈووکیٹ، اکرم سومرو، ڈاکٹرنعمان جاوید،ڈاکٹرشارق اوردیگرنے اپنے خیالات کااظہارکیا۔ تقریب میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا، اساتذہ اورمختلف سرکاری اورنجی اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -