سندھ کا بینہ نے دہشتگردی کیسز کی سماعت بند کمرے میں کرنیکی منظوری دیدی

سندھ کا بینہ نے دہشتگردی کیسز کی سماعت بند کمرے میں کرنیکی منظوری دیدی

  

کراچی ( صباح نیوز)سندھ کابینہ نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ججز، گواہان اور سرکاری وکلا ء کے تحفظ کیلئے دہشت گردی کے کیسز کی سماعت بند کمرے میں کرنیکی منظوری دیدی ۔محکمہ داخلہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ 16ء میں ترامیم پیش کی گئیں جن کی کابینہ نے منظوری دی، مذکورہ ترامیم کے تحت دہشت گردی کے کیسز میں ججز، گواہان اور سرکاری وکلا ء کی شناخت کو چھپانے کیلئے مختلف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ترامیم کے تحت دہشت گردی کیسز کے گواہ فرضی ناموں یا وڈیو لنک کے ذریعے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرا سکیں گے۔کابینہ نے الطاف حسین یونیورسٹی ایکٹ14ء میں ترمیم کی بھی منظوری دی، جس میں الطاف حسین یونیورسٹی کراچی اور حیدرآباد کا نام تبدیل کرکے فاطمہ جناح یونیورسٹی حیدرآباد و کراچی رکھا گیا ہے، کابینہ نے سندھ شہید ری کگنیشن اینڈ کمپنسیشن ایکٹ14ء میں ترامیم کی بھی منظوری دی جن کے تحت شہید ہونیوالے پولیس اہلکار کو معاوضے کے علاوہ اس کے 2 قانونی ورثا ء کو سرکاری ملازمتیں بھی دی جائیں گی جن شہید اہلکاروں کے بچے نہیں ہوں گے انکی بیواؤں کو معاوضے کی رقم بڑھا کر دی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ نے اس سلسلے میں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو سمری ارسال کرنے کی ہدایت کی۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا جو اہلکار اپنے صوبے کے لوگوں کے تحفظ کیلئے اپنی جان دیتے ہیں انکے اہلخانہ کو تحفظ حاصل ہونا چاہیے، کابینہ نے سندھ کرایہ داری بل17ء میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت اگر کرایے دار 60 دن تک کرایہ نہیں دیتا تو مالک مکان اپنی ملکیت واپس لینے کا اختیار رکھتا ہے، مالک مکان کو اس ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا گیا ہے۔کابینہ کے اجلاس میں بینظیر بھٹوہیومن ریسورس، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ ایکٹ 13 میں ترمیم بھی منظور کی گئی، جسکے تحت بورڈ میں 6 مستقل ارکان کی تقرری شامل کرنیکی سفارش کی گئی، کابینہ نے جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ایکٹ13ء میں ترمیم کو بھی منظور کیا، ترمیم میں جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے 12 ارکان بورڈ میں 2 ارکان ایم پی ایز ہوں گے۔ اجلاس میں سندھ ریونیو بورڈ ایکٹ 10ء میں ترمیم پر غور کیا گیا جبکہ کابینہ سندھ کول اتھارٹی ایکٹ 1993 میں بھی ترمیم کی منظوری دی جو ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن دینے اور صوبائی وزیر توانائی کو سندھ کول اتھارٹی کا چیئرمین بنانے سے متعلق تھی۔

سندھ کابینہ

مزید :

علاقائی -