’’ دوستوں کوناراض کیجئے ‘‘

’’ دوستوں کوناراض کیجئے ‘‘
 ’’ دوستوں کوناراض کیجئے ‘‘

  

ہندوستان کا میڈیا اور جنونی ہندو اس پر چیخیں چلائیں،تھوک اگلیں، غیظ و غضب میں اپنی انگلیاں کاٹیں تو بات سمجھ آتی ہے کہ ان کے لئے ایک پاکستان کے پر وفیشنل جرنیل کا دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننا قابل قبول نہیں مگر یہ جو ہمارا میڈیاسوال اٹھاتا اور شور مچاتا پھر رہا ہے، پوچھا جانا چاہئیے کہ اسے کیا تکلیف ہے؟ اس کے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ جنرل راحیل شریف کو اتحاد کی سربراہی قبول نہ کرنے کے مشورے دینے والے یہ نام نہاد دانشور اس وقت خاموش تھے جب ہمارے بہت ہی اہم اور حساس خفیہ ادارے کے سربراہ ایک خلیجی ریاست میں بظاہر صحت کے مشیر بن گئے تھے مگر دراصل انہوں نے خفیہ کارروائیوں کی سربراہی کرنا تھی۔ باخبر ہونے کے دعوے دار سیاسی قصہ گو بتاتے ہیں کہ وہ ایسے کاموں کے ملک کے اندر بھی ماہر رہے تھے اور اپنے فن کی مکمل داد پا کر ہی ریٹائر ہو ئے تھے۔ اب ان کے پاس بیچنے کے لئے امت مسلمہ میں نفاق کا خطرہ ہے۔حیرت کی بات ہے کہ تمام نام نہاد دانشور پوری دنیا کے مفاد بارے سوچتے ہیں جبکہ جدید ریاستی نظام میں سب سے پہلے اپنے قوم اور اپنی ریاست کے مفاد کو محفوظ کیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو اس اعلیٰ اور تاریخی اعزاز کی حامل یہ پیش کش قبول نہیں کرنی چاہیے اور اگر وہ قبول کرنے پر آمادہ ہوں تو حکومت کو بیچ میں ٹانگ اڑا دینی چاہئے۔ یہ کہنے والے اصل میں ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتے تھے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو بات بات پر شکریہ راحیل شریف کی رٹ لگایا کرتے تھے، ایک آدھ دفعہ ان کے بڑوں کو راحیل شریف سے ملاقات کا موقع ملا تو ان کی مسکراہٹیں گاڑی کی بڑی اور موٹی ونڈ سکرین کے پیچھے بھی چھپائے نہیں چھپتی تھیں ۔ اب غصہ یہ ہے کہ راحیل شریف نے وہ تمام کام نہیں کیا جس کی وہ امیدیں لگائے سڑکوں پر بیٹھے رہے۔کہتے ہیں جتنی بڑی توقعات ہوتی ہیں مایوسی بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور انہیں واقعی حکومت گرانے اور اپنی حکومت بنانے کی توقعات میں بری طرح ناکامی ہوئی،اب وہ ایک طرف جنرل راحیل شریف پر اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے وہ کام تکمیل تک کیوں نہیں پہنچایا جو بہت امیدوں اورچاہتوں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان کو اس اعزاز سے بھی محض اس لئے محروم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ملک میں ان کے سیاسی مخالف کی حکومت ہے، یقین کیجئے، جو لوگ ایک پی ایس ایل کی کامیابی کا اعزاز تک نہ دینا چاہتے ہوں وہ نواز شریف کے دور میں ایک پاکستانی فوجی کو دنیا کے ایک بڑے فوجی اتحاد کے پہلے سربراہ کے طور پر کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے یہ عقل مند دوست سعودی عرب سے بھی محض اس لئے برگشتہ ہیں کہ سعودی حکمرانوں کی پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ دوستی کیوں ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ سعودی حکمرانوں کی اصل میں پاکستان کے ساتھ دوستی ہے۔ یہی وہ سعودی حکمران ہیں جنہوں نے وزیراعظم کے جانی دشمن پرویز مشرف کے اکاونٹ میں کروڑوں ڈالر منتقل کر دئیے مگر وہ اس دوستی کو محض پاکستان کے حکمران خاندان سے دوستی کے محدود تناظر میں دیکھتے ہیں اور یہ کمال کرتے ہیں کہ جب سعودی سفیر ان کی عیادت کے لئے تشریف لاتے ہیں وہ اپنے دل اور دماغ کے ساتھ اس عمارت کے دروازے بھی بند کر دیتے ہیں جہاں وہ علاج کی غرض سے قیام پذیر ہوتے ہیں، وہاں سعودی سفیر داخل نہیں ہو سکتے مگر ان کی پارٹی کے سینکڑوں کارکن ضرور ڈیرہ لگا سکتے ہیں۔ سیاسی مخالفت کو بہرحال ریاست کی مخالفت کا روپ نہیں دھارنا چاہئے ۔اس تیر کا ایک نشانہ سول ملٹری تعلقات بھی ہیں۔ چند روز قبل ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے قائد نے سول ملٹری ریلیشن شپ پر جو اظہار خیال کیا ہے وہ ان کی خواہشات اور مایوسی دونوں کا آئینہ دار ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے ماضی کے تجربات کی روشنی میں محض سول ملٹری تعلقات کو بہتر رکھنے کے لئے پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی، وہ کیسے توقع لگا سکتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کاراستہ روک کر غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں کو موقع دیا جائے گا۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والے دراصل غلط فہمیاں ہی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کارکردگی کی بنیاد پر انتخابی میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے یہ اقتدار میں آنے کا یہ راستہ نہایت آسان لگتا ہے۔

ہمارے سامنے غیر جانبداری کی تھیوری بہت ہی پرکشش انداز میں پیش کی جاتی ہے، کہاجاتا ہے کہ چونتیس ممالک سے انتالیس اسلامی ممالک تک یہ تعداد بڑھ جانے کے باوجوداس میں شرکت اسلامی دنیا کو تقسیم کر سکتی ہے، فرقہ واریت کو بڑھاوا دے سکتی ہے، سب کو یاد ہے کہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل یمن کے حوثی باغیوں کے موقعے پر بھی یہی تھیوری پیش کی گئی تھی اور نتیجے میں سعودی عرب جیسے دوست کو ناراض کر لیا گیا تھا نجانے وہ کون سی دانش تھی جس نے ہمیں سعودی عرب اور تمام خلیجی ریاستوں کے سامنے لاکھڑا کیا اور ایک خلیجی ریاست کے وزیر نے پاکستانیوں کو نکال باہر کرنے تک کی دھمکی دے ڈالی اور یہی وجہ ہے کہ جب امام کعبہ شیخ خالد الغامدی پاکستان میں عوامی سفارت کاری کرتے ہوئے پہنچے تھے تو ہم میں سے کسی کے پاس اپنی اس طوطا چشمی کا جواب نہیں تھا۔ جو لوگ سعودی عرب جیسے دوست سے بے وفائی کا مشورہ دے رہے ہیں وہ چین کے سی پیک کے اعلان کو بھی محض اعلان ہی سمجھتے اور قرار دیتے تھے، وہ ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تحفظات رکھتے ہیں اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر ہم سعودی عرب، چین اور ترکی کے ساتھ بھی کھڑے نہیں ہوں گے تو پھر کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟

اگر دہشت گردی کے خلاف بننے والے اتحاد میں یہ تاثر موجود ہے کہ یہ کسی اسلامی ملک کے خلاف ہے تومجھے کہنے دیجئے کہ جنرل راحیل شریف کی اس میں شمولیت پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے کیونکہ ان جیسا پروفیشنل جرنیل یقینی طور پر ایک عالمی اتحاد میں ذاتی مفاد اور گمان پر فیصلے نہیں ہونے دے گااور مجھے زیادہ کھل کر کہنے دیجئے کہ آپریشن ضرب عضب کرنے والا سپہ سالار سعودی عرب، پاکستان اور ایران کے درمیان بھرپور اعتماد کے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کر سکتا ہے۔ ہم بار بار کہتے ہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ایک ہو کر سوچناچاہئے ، ہم ایک فوج اور ایک کرنسی تک کی بات کرتے ہیں مگر جب دہشت گردی جو کہ امت مسلمہ کا واقعی ایک بڑا اور حقیقی مسئلہ بن چکا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اکٹھے ہونے کی بات ہوتی ہے تواس میں کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ یہ امر ذہن نشین رہنا چاہئے کہ دہشت گردی ہو یا کوئی بھی معاملہ، جب بھی اتحاد بنے گا اس میں سو فیصد لوگوں کی سو فیصد مرضی شامل نہیں ہوگی، کچھ لوگوں کے کچھ نہ کچھ اعتراضات ضرور موجود ہوں گے۔ جنرل راحیل شریف کی صورت میں پاکستان صرف امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سامنے ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔ میں تو بہت واضح ہوں کہ جس بات پرمتعصب ہندو میڈیا شور مچائے، ہمیں گالیاں دے، وہ بات یقینی طور پر کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی صورت میں پاکستان کے بہترین مفاد میں ہی ہو گی اور رہ گئی پاکستان میڈیا کی بات ، میری رائے تو کچھ اس قسم کی بن رہی ہے کہ اگر پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے خود کو عقل کل سمجھنے والے اینکرز اور نام نہاد دانشور اگر کسی بات میں کیڑے نکال رہے ہیں تو غور کرنے پر اس میں پاکستان ہی نہیں بلکہ حکمران جماعت مسلم لیگ نون کا فائدہ نکل سکتا ہے۔ یہ سب چیخ چیخ کر مشورے دے رہے ہیں کہ دوستوں کو ناراض کیجئے، دشمنوں میں اضافہ کیجئے، عقل و فہم رکھنے والوں کو ان آوازوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مزید :

کالم -