سندھ اسمبلی :اپوزیشن ارکان کی نجی قرار دادیں مسترد کر دی گئیں

سندھ اسمبلی :اپوزیشن ارکان کی نجی قرار دادیں مسترد کر دی گئیں

  

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے کے موقع پر مسلم لیگ (فنکشنل) نندکمار اور متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم پاکستان ) سیف الدین خالد کی جانب سے پیش کردہ نجی قرار دادیں اسپیکر کی جانب سے مسترد کر دی گئیں ،جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا جبکہ مسلم لیگ (فنکشنل) کی مہتاب اکبر راشدی اور شہریار خان مہر نے اپنی قرار دادوں پر زور نہیں دیا ۔ ایوان کی کارروائی کے دوران 5 ارکان کی جانب سے قرار دادیں پیش کی گئی تھیں ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن نندکمار گوکلانی کی جانب سے پیش کردہ نجی قرار داد پر وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے صوبے بھر میں تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے ، جہاں ٹراما اور سرجری سمیت تمام ضروری طبی سہولتوں کا پہلے ہی انتظام کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 42 ٹراما سینٹر پہلے سے موجود ہیں ، جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتالوں کے علاوہ کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 25 ٹراما سینٹرز فنکشنل ہو چکے ہیں اور باقی دو ماہ میں کام شروع کر دیں گے ۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ مورخ کی جانب سے پیش کردہ قرار داد دو سال پرانی ہے ۔ اس لیے اب وہ غیر موثر ہو چکی ہے کیونکہ حکومت سندھ نے ٹراما سینٹر سے زیادہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتالوں میں سہولتیں مہیا کر دی ہیں ۔ نندکمار نے کہا کہ سندھ میں اگرطبی سہولتوں کی صورت حال اطمینان بخش ہوتی تو سہیون بم دھماکے کے موقع پر لوگوں کا اتنا زیادہ جانی نقصان نہ ہوتا ۔ سہیون بہت بڑا شہر ہے لیکن وہاں کوئی ٹراما سینٹر موجود نہیں ۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر کمالی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد اور میرپورخاص میں بھی کوئی ٹراما سینٹر نہیں ہے ۔ میرپور خاص کے ٹراما سینٹر کی اسکیم آج تک منظور نہ ہو سکی ۔ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر سیما ضیاء نے کہا کہ صرف ٹراما سینٹر قائم کر دینا کافی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ وہاں موجود عملہ باصلاحیت اور تجربہ کار ہے یا نہیں ۔ مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن مہتاب اکبر راشدی نے بھی قرار داد کی حمایت کی اور اس امر کی نشاندہی کی کہ سپر ہائی ، نیشنل ہائی وے اور انڈس ہائی وے پر کوئی ٹراما سینٹر موجود نہیں ۔ جس پر وزیر صحت نے بتایا کہ پورے سندھ میں 300 ایمبولینسز پر مشتمل ایک سروس شروع کی جا رہی ہے اور کال سینٹر 1036 قائم کیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں ایم او یو پر سائن ہو چکے ہیں ۔ بعد ازاں اسپیکر آغا سراج درانی نے نندکمار کی نجی قرار داد مسترد کر دی ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن مہتاب اکبر راشدی نے بھی ایک نجی قرار داد پیش کی ، جس میں صحت اور خوراک سے متعلق درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے سندھ کی صوبائی صحت پالیسی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت صحت کو انسانی بنیادی حقوق میں شامل کیا جانا چاہئے ۔ ہر شخص کو صحت اور خوراک سے متعلق تحفظ فراہم کرنا بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے ۔ ایم کیو ایم کے سردار احمد کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھی قرار داد ہے اور دنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ صحت ہر کسی کے لیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں سندھ سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی گئی تھی لیکن دو تین سال چلنے کے بعد اسے بند کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ تندرستی نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ۔ وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو نے تجویز پیش کی کہ حکومت سندھ کی پہلے سے ہیلتھ پالیسی موجود ہے ۔ ممکن ہے کہ اس پر 100 فیصد عمل نہ ہو رہا ہو ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ صحت سے متعلق پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے ، جو مثبت تجاویز پیش کرے اور ہم اس پر نظر ثانی کر سکیں ۔ اس موقع پر محرک کی رضا مندی سے وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو کی جانب سے چار ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ، جس میں نثار احمد کھوڑو ، مہتاب اکبر راشدی ، ڈاکٹر سیما ضیاء اور سید سردار احمد شامل ہیں ۔ یہ خصوصی کمیٹی صحت کی پالیسی نظر ثانی اور اسے بہتر بنانے سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے گی ۔ وزیر صحت کی یقین دہانی اور کمیٹی کے اعلان کے بعد محرک نے اپنی تحریک پر زور نہیں دیا ۔ ایم کیو ایم کے رکن سیف الدین خالد نے صوبے کے کالجوں میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی قلت اور خالی اسامیوں کو جلد از جلد پر کرنے سے متعلق ایک نجی قرار داد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سرسید کالج میں 31 شعبے ہیں ، جن میں سے اکثر شعبوں کے سجیکٹ اسپیشلسٹ موجود نہیں ۔ یہی صورت حال عبداللہ کالج کی بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب شہر کے نامور کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہو تو نیو کراچی ، کورنگی ، گڈاپ اور ملیر کے کالجوں میں کیا صورت حال ہو گی ، اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ ایم کیو ایم کے صابر حسین قائمخانی نے قرار داد کی حمایت اور کہا کہ یہ کراچی کا نہیں بلکہ پورے سندھ کا مسئلہ ہے ۔ صوبے میں معیار تعلیم گر چکا ہے ۔ ہر جگہ اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے ۔ ہمارے ہاں پرائمری کی تعلیم پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ۔ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نصابی کتب میں بہت غلطیاں ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ روز حیدر آباد یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرکے حیدر آباد کے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں ۔ تعلیم کو بہتر بنا کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر کمالی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو بہتر تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ میرپورخاص میں بھی اسی قسم کی یونیورسٹی قائم کی جائے ۔ جس پر آغا سراج درانی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں وہ پورے سندھ میں جا رہے ہیں ، کسی دن میرپورخاص بھی آئیں گے ۔ قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر تعلیم مہتاب حسین ڈاہر نے کہاکہ یہ بہت پہلے کی قرار داد ہے ، جس کا ایوان میں آج نمبر آیا ۔ اب کالجوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے ۔ ہر کالج میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ ہونا چاہئے ۔ 90 فیصد کالجوں میں یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے ۔ ہم مزید اساتذہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ بھرتی کریں گے اور جو لیکچرار بھرتی ہوں گے ، ان سے یہ حلف نامہ لیا جائے گا کہ وہ 5 سال تک اپنی پوسٹنگ کی جگہ پر خدمات انجام دیں گے اور اگر اس دوران انہوں نے اپنے تبادلے کے لیے کوئی سفارش یا اثرو رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی تو انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے ہرٹیچر کو ہفتے میں 42 گھنٹے پڑھانا ہو گا اور اس کے لیے روزانہ 5 کلاسز لینا لازمی ہو گا ۔ وزیر تعلیم کی مخالفت اور اس وضاحت کے بعد اسپیکر آغا سراج درانی نے سیف الدین خالد کی نجی قرار داد مسترد کر دی ، جس پر متحدہ کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ، جس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ کو باہر جا کر کڑک چائے پی کر آجائیں ۔ کچھ ہی دیر بعد ایم کیو ایم کے ارکان ایوان میں واپس آ گئے تو اسپیکر نے کہا کہ لگتا ہے چائے کا آرڈر پہلے سے دے رکھا تھا ، جو اتنی جلدی چائے پی کر واپس آگئے ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے شہریارخان مہر نے اسکارپ ٹیوب ویلوں ( سیم پر قابو پانے اور زمین کی بحالی کا منصوبہ ) کی مناسب نگہداشت کے حوالے سے ایک نجی قرار داد ایوان میں پیش کی ، جس پر نثار کھوڑو نے وضاحت کی کہ اسکارپ ٹیوب ویلز کا منصوبہ سندھ میں سیم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھٹو دور میں شروع کیا گیا تھا ۔ کھارے پانی کی نکاسی کے لیے ڈرینیج سسٹم بھی موجود ہے اور حکومت سندھ دوسری بہت سی کوششیں بھی کرتی ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ قرار داد بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے ۔ تاہم محرک کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے محکمہ آب پاشی سے ضروری تفصیلات حاصل کرکے ایوان کو مطلع کر دیں گے اور حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو بہتر بنانے کے لیے جو کچھ ممکن ہو سکا ، اقدامات کیے جائیں گے ۔ جس کے بعد شہریار خان مہر نے اپنی قرار داد واپس لے لی ۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کامران اختر نے اپنی ایک نجی قرار داد پیش کی ، جس کا تعلق معاشرے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والی نمایاں شخصیات اور صحافیوں کو صحت کارڈ کے اجراء سے متعلق تھا ۔ محرک کا کہنا تھا کہ قوم کے ان ہیروز کے لیے آئندہ بجٹ میں انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا جائے اور صحافیوں کو لائف ٹائم ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں ۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف سندھ میں جس جگہ جا رہے ہیں ، ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں ۔ حکومت سندھ ایسا کیوں نہیں کر سکی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے گذشتہ روز حیدر آباد میں ہیلتھ کارڈ دیئے ہیں ، جس کے بعد پورے سندھ میں یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ ہمیں بھی ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں ۔ جس پر وزیر پارلیمانی امور نثار کھوڑو نے کہاکہ پیپلز پارٹی ہمیشہ نہ صرف یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ عوام دوست سیاست کرتی ہے بلکہ اسے اس بات پر بھی فخر ہے کہ اس نے ہمیشہ عوام کے مفاد میں کام کیا ہے ۔ وہ صحافیوں اور فنون و لطیفہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی خدمات کی معترف ہے اور ان شعبوں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ بیماری یا کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، ان سے ہمدردی بھی رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم دعوے تو بہت کرتے ہیں اور وعدے بھی کر لیے جاتے ہیں ۔ پہلے یوتھ لون کا ذکر تھا اب ہیلتھ کارڈ کی بات کی جا رہی ہے لیکن یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ وہ وفاقی حکومت جو اپنی شاہ خرچیوں اور موٹرویز پر بے پناہ سرکاری فنڈز خرچ کر دیتی ہے ، اس نے پورے پاکستان کے غریبوں کو جو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ، انہیں ہیلتھ کارڈ کی اسکیم میں شامل کیوں نہیں کیا ۔ وزیر پارلیمانی امور نے تجویز پیش کی کہ یہ قرار اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کو بھیج دی جائے ۔ وہ غور کرکے سندھ میں ہیلتھ کارڈ کی اسکیم سے متعلق کوئی تجویز وضع کرے گی ۔ جس کے بعد اجلاس کی صدارت کرنے والے پینل آف چیئرمین کے سید مراد علی شاہ نے یہ معاملہ سندھ اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے صحت کے حوالے کر دیا اور کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -