کوہاٹ ،جنگل خیل قتل کیس ،انوسٹی گیشن افسر کیخلاف پولیس کی وضاحت

کوہاٹ ،جنگل خیل قتل کیس ،انوسٹی گیشن افسر کیخلاف پولیس کی وضاحت

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوہاٹ پولیس ترجمان نے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر عبدالرشید اور تھانہ جنگل خیل کے انوسٹی گیشن افسر اعظم خان کے خلاف پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کے متعلق مؤْف اختیار کیا ہے کہ 2فروری کو او ٹی ایس روڈ پر قتل ہونے والے جنگل خیل کے رہائشی عمران ولد حمید خان کے قتل کا مقدمہ انکے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا اور بعد ازاں قتل کے اس مقدمہ میں تین ملزمان شہنشاہ ولد رحیم ،سلطان ولد جہانزیب اور وسیم ولد کریم ساکنان جنگل خیل کو نامزد کیا گیا۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد دو ملزمان شہنشاہ اور سلطان کو پولیس پہلے ہی گرفتار کرچکی ہے جبکہ ملزم وسیم تاحال روپوش ہے جسکی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ مقامی پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے ملزمان کے گھروں سے روزمرہ استعمال کی ساری اشیاء قبضے میں لیکر مقامی تھانے میں منتقل کردی ہے جبکہ ملزمان کو گرفتاری سے بچانے میں پناہ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے دو سہولت کاروں کو بھی گرفتار کرکے انکے خلاف ضروری قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق قتل کے اس مقدمہ کی تفتیش جدید خطوط پردرست سمت میں جاری ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی تقاضے پوری کرکے عدالت میں زیر سماعت کیس کی پیروی اور قتل کی واردات میں ملوث اصل ملزمان کا تعین کرکے سزا دلانے میں ہر قسم کی تفتیشی ذرائع بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے کیس کی تفتیش میں کسی بھی قسم کی بد نیتی اور غفلت نہیں برتی جائے گی اور قانون و انصاف کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے پوری نیک نیتی ،غیر جانبداری اور فرض کو غرض پر مقدم رکھ کر کیس کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -