”ہمارا مقصد پاکستان میں منافع کمانا نہیں بلکہ دیر پا ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے “، چائنہ پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین کا حب میں پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

”ہمارا مقصد پاکستان میں منافع کمانا نہیں بلکہ دیر پا ترقی کی راہ ہموار کرنا ...
”ہمارا مقصد پاکستان میں منافع کمانا نہیں بلکہ دیر پا ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے “، چائنہ پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین کا حب میں پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چائنہ پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد پاکستان میں منافع کمانا نہیں بلکہ دیر پا ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے ۔

”ڈان “ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں بڑی شراکت دار”چائنہ پاور انٹرنیشنل کمپنی کے سربراہ وانگ بنگوا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہمارا مفاد دیر پا ترقی اور خوشخالی پر ہے نہ کہ منافع کمانے پر ۔”ہم پاکستان میں اپنی مشینری نصب کرنے اور منافع حاصل کرنے نہیں آئے بلکہ ہم مقامی پیداواری صنعتوں کی صلاحیت کو بڑھانے کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں تاکہ اس ترقی کو دیر پا اور پائیدار بنایا جا سکے “۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم مزید مقامی افراد کو اپنے منصوبے میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ انکی پریشانیوں کو ختم کیا جا سکے ۔

بھارتی شہری نے اپنے ساتھ رہنے سے انکار پر بیوی کا گلا گھونٹ دیا

بلوچستان کے علاقے حب میں سی پیک کے ترجیحی منصوبوں کے تحت شروع ہونے والے کول پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وانگ نے کہا کہ انکی کمپنی پاکستان کی حب پاور کمپنی لمیٹیڈ کے ساتھ مل کر 2ارب ڈالر کے منصوبے میں سرمایہ کاری او ر تعمیر کا کام سرانجام دے رہی ہے اور یہ پلانٹ اگست 2019ءمیں آپریشنل ہو جائے گا ۔منصوبے کے تحت پاکستانی گریجوایٹس کیلئے ملازمتوں کے وعدے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستانی نوجوانوں کیلئے ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تربیت کے مواقع بھی پیدا ہونگے ۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کیساتھ سیریز کیلئے حکومت کو خط لکھ دیا 

کمپنی کے چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ پاور پلانٹ سے سالانہ 9ارب کے ڈبلیو ایچ بجلی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کیلئے 10ہزار ملازمتیں بھی نکلیں گی جبکہ اس منصوبے کی تکمیل سے بجلی کے مسئلے پر قابو پانے اور معیشت کی بہتری میں بھی مدد ملے گی جس سے لوگوں اور حکومت کا بھی فائدہ ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ حب کول پلانٹ سے مقامی افراد کو سستی بجلی میسر آئے گی جس سے 40لاکھ پاکستانی خاندانوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔”کوئی بھی ملک بجلی کے ایک ذریعے پر انحصار نہیں کر سکتا اس لیے کوئلے ، گیس ، سورج ، ہوا اور بائیو انرجی کو بجلی کے پیداواری منصوبوں میں استعمال کیا جا تا ہے تاکہ بجلی کی ملکی ضروریات کو پورا کیا جا سکے “۔

وانگ بنگوا نے خطاب کے دوران کہا کہ ہم پاکستان کو شاندار اور ذمہ دارانہ خدمت فراہم کر رہے ہیں ۔

مزید :

قومی -