چھیالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

چھیالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی ...
چھیالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

  

رنمل شریف میں ۳۰اکتوبر۲۰۱۴ کی سہہ پیر جامعہ نوشاہیہ کی افتتاحی تقریب کے بعد پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی مجھے بتا رہے تھے کہ اس جامعہ کا کام یہاں دین کی تعلیم عام کرنا ہے۔ہمارے سلسلہ میں باطن کا نظام تو ساتھ جڑا ہوا ہے لیکن جب تک ہم لوگ جو مجدد پاکؒ کی اولاد ہیں ،دین کی تعلیم کو عام نہیں کریں گے ،اس نسبت کا حق ادا نہیں ہوگا اور نہ نوشہ پاکؒ کا مقصدحیات پورا ہوتا ہے۔ہمارے اجداد نے صدیوں تک یہاں دین و باطن کا اکٹھا نظام چلایااور آج آپ رنمل شریف میں قبرستان کی تختیاں پڑھ کر دیکھ لیں آپ کو علم ہوگا کہ اس بستی میں کتنے عالم و فاضل لوگ موجودتھے جو دین کاعلم پھیلاتے رہے۔

سلسلہ نوشاہیہ میں حضرت محدث اعظم قدس سرہ ایک عالم باکمال ولی اللہ تھے۔دین وفقہہ کی تعلیم دینا آپؒ کا شعار تھا،جو لوگ آپؒ کے پاس روحانی فیض کی تمنالیکر آتے سب سے پہلے آپؒ انہیں قرآن شریف پڑھاتے،ان کی نمازیں درست کرتے اور ان کی بزرگوں سے تعظیم کے انداز کو شرک سے پاک کرتے اور انہیں ادب کا درست سلیقہ سکھاتے۔

پنتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت برقؒ اپنی محققانہ کتاب میں لکھتے ہیں، حضرت محدث اعظم قدس سرہ اپنے والد ماجد کی طرح تہجد کی نماز مسجد میں ادا کرتے ۔ پھر نماز صبح تک وہیں ذکر فکر میں مشغول رہتے تھے۔ نماز صبح کے بعد روضہ عالیہ حضرت نوشہ گنج بخشؒ میں حاضری دیتے تھے اور پھر وہاں سے فارغ ہو کر مسجد نوشاہیہ میں درس قرآن مجید دیتے۔نماز اشراق سے فارغ ہو کر طلباء کو سبق پڑھاتے اور نماز چاشت ادا کرنے کے بعد مہمانوں کو کھانا کھلاتے اور اس کے بعد قیلولہ کے لیے تخلیہ فرماتے۔ نماز ظہر مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے بعد بارگاہ عالیہ میں حاضر ہونے والے حاجتمندوں، بیماروں اور درویشوں کی دلجوئی فرماتے۔ طالبان سلوک کی راہنمائی کے لیے خصوصی ہدایتیں دیتے اور رشد و ہدایت کا یہ سلسلہ نماز عصر تک جاری رہتا۔ نماز عصر سے فارغ ہو کر شام تک آپ خاموش رہتے اور نماز شام کی ادائیگی کے بعد مسافروں اور مہمانوں کو کھانا کھلاتے تھے۔

حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل تمام نمازیں مسجد نوشاہیہ میں ادا فرماتے تھے اور امامت کے فرائض بھی خود ہی سر انجام دیتے تھے۔ حضرت گنج بخش کے اکثر خلفاء کو ان کی اقتداء میں نمازیں ادا کرنے کا شرف حاصل تھا۔

سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دلؒ بے حد متبع سنت تھے۔ آپؒ کا کوئی قول و فعل خلاف سنت نہیں تھا۔ آپؒ اپنے متوسلین کو بھی ہمیشہ اتباع سنت کی تاکید کرتے رہتے تھے۔

حضرت محدث اعظم شریعت محمدیہ پر بڑی سختی سے عمل پیرا تھے۔ وضع قطع لباس اور دیگر معمولات میں وہ ہمیشہ شریعت کے احکام کو ملحوظ رکھتے تھے۔

حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل قدس سرہ نے ترویج احکام شریعت اور تبلیغ اسلام کے لیے بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

فیض الفقراء میں ہے کہ آپؒ کے چہرہ مبارک میں اس قدر نورانیت اور کشش تھی کہ اکثر غیر مسلم اسے دیکھتے ہی اسلام قبول کر لیتے تھے۔ ہنود کے کئی قبائل ان کی تبلیغ اور کرامات سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے تھے۔

منقول ہے کہ :’’ایک دفعہ سورج پرستوں کا ایک قافلہ درگاہ عالیہ نوشاہیہ میں حاضر ہوا۔ حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریاؒ دل حسب معمول روضہ عالیہ سے باہر دیوان خانہ میں تشریف فرما ہوئے۔ سورج پرستوں کا یہ قافلہ اس وقت سورج کی پوجا میں مصروف تھا۔ جب ان کی نظریں حضور دریا دل کے چہرہ اقدس پر پڑیں تو وہ آپؒ کے قدموں پر گر پڑے اور اسی وقت زنار توڑ کر مسلمان ہوگئے۔

حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دلؒ علوم و فنون میں یکتائے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجہ کے خوشنویس بھی تھے۔ خط نستعلیق اور خط کوفی میں انہیں بڑی مہارت حاصل تھی۔آپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا لوائح جامی کا ایک خوش خط نسخہ سیّد ولی محمد نوشاہی آف پنڈ عزیز کے کتب خانہ میں موجود ہے جو خط نستعلیق کا عمدہ نمونہ ہے۔

سیّد شریف احمد شرافت نوشاہی کے کتب خانہ میں بھی آپؒ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک ورق محفوظ ہے۔کتب خانہ سبحانیہ پنڈ عزیز میں قرآن مجید کا ایک خطی نسخہ موجود ہے جس کے متعلق یہ مشہور ہے کہ یہ حضرت محدث اعظمؒ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔

انسان کی قدر و منزلت کا انحصار جہاں دیگر اخلاق جمیلہ پر ہے، وہاں شجاعت بھی اس کی وجاہت اور عزو شان کے لیے ایک اعلیٰ وصف ہے۔حضرت محدث اعظم قدس سرہ بڑے شجاع اور بہادر تھے۔ آپؒ کو تیر اندازی میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ فنون سپہ گری میں کمال انہیں وارثتاً حاصل تھا۔مفتی غلام سرور لاہوری لکھتے ہیں کہ آپ شجاعت میں یکتائے روزگار تھے۔

سیّد محمد ہاشم دریا دل کی ذات گرامی تمام کمالات کی جامع تھی۔ مشہور نوشاہی مورخ مرزا احمد بیگ لاہوری لکھتے ہیں کہ ۔۔۔’’سیّد محمد ہاشم دریا دل قدس سرہ پیشوائے زمانہ، مرجع عارفاں، مقتدائے واصلاں، برہان شریعت، سلطان طریقت، گنج حقیقت، بحر معرفت اور اہل اللہ کے ہادی تھے۔ ان کی سخاوت کے سامنے حاتم طائی کی سخاوت ہیچ تھی۔ ان کے قول و فعل میں سرموفرق نہیں تھا۔ آپؒ باطن میں ہر وقت حضوری تھے اور اپنے کمالات ولایت کو انہوں نے ظاہری علم کے پردے میں چھپا رکھا تھا۔ ان کا وجود مقدس حلم ، علم اور عمل کا مجموعہ تھا۔ ان کی نظر کرم سے دل روشن ہو جاتے تھے۔ اور توجہ میں ایسی تاثیر تھی کہ چشم زدن میں دکھ درد دور ہو جاتے تھے اور ظاہری اور باطنی بیماریوں سے شفا حاصل ہو جاتی تھی۔ آپ ہمیشہ متوجہ الی اللہ رہتے تھے اور میدان معروفت کے شہباز تھے۔

مفتی غلام سرور لاہوری لکھتے ہیں:

’’سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل قدس سرہ ، حضرت نوشہ گنج بخش کے دوسرے فرزند ہیں۔ آپ سخاوت، شجاعت، کرامات، خوارق، زہد و پرہیز گاری، وجد اور سماع میں کامل و شہرہ آفاق تھے۔‘‘

سیّد عبدالحی لکھنوی لکھتے ہیں:

’’سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل بن سیّد حاجی محمد نوشہ گنج بخش بن سیّد علاؤ الدین نیکی اور بزرگی میں مشہور اور فاضل تھے۔‘‘

علامہ صداقت کنجا ہی لکھتے ہیں

’’حضرت نوشہ گنج بخش کی وفات کے بعد سیّد محمد ہاشم دریا دلؒ نے محیط اعظم یعنی قطب کی حیثیت سے دنیا میں شہرت حاصل کی اور ان کی توجہ سے مشرق و مغرب میں روشنی پھیلی۔‘‘

حضرت مرزا احمد بیگ لاہوری لکھتے ہیں

’’اللہ تعالیٰ کا کرم سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل کے شامل ہوا، اور ان کا شہرہ چار دانگ عالم میں پھیل گیا اور دن بدن ان کے فیوضات میں ترقی ہوتی گئی۔ ان کے کثرت فیضان کی وجہ سے لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ ان پر حضرت نوشہ گنج بخشؒ کی خصوصی نظر کرم اور توجہ ہے۔ مخلوقات نے ان سے فیضان حاصل کیا اور جس نے ان سے گردن پھیری وہ منہ کے بل گرا۔‘‘

حضرت نوشہ گنج بخش کے خلفاء کا آپ سے فیضیاب ہونا

حضرت مرزا احمد بیگ لاہوری لکھتے ہیں:

’’حضرت نوشہ گنج بخشؒ کے وہ مرید جن کے سلوک کی ابھی تکمیل نہیں ہوئی تھی ۔ سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل کی توجہ سے فیضیاب ہوئے تھے۔‘‘

علامہ صداقت کنجاہی لکھتے ہیں:

’’حضرت مجدد اعظم کی وفات کے بعد جب سیّدمحمد ہاشم شاہ مسند سجادگی پر جلوہ گر ہوئے تو ان کے فیض اور بخشش کا دروازہ ہر شخص کے لیے کھلا تھا۔ حضرت نوشہ گنج بخش کے وہ مرید جن کے سلوک کی ابھی تکمیل نہیں ہوئی تھی ان کی توجہ سے مقامات سلوک طے کرکے انتہا کو پہنچے علاوہ ازیں حضور کی توجہ سے نئے متوسلین اور طالبین بھی فیضیاب و کامران ہوئے۔ الغرض سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل قدس سرہ نے اپنے فیوضات سے جہاں کو ابر بہار کی طرح سرسبز و شاداب کیا۔

حضرت نوشہ گنج بخش کے دیگر خلفاء اور مریدوں کے علاوہ سر زمین پوٹھوہار کے شہرہ آفاق بزرگ حضرت شاہ فتاح دیوان نوشاہی مدفون ساگری ضلع جہلم نے بھی حضرت دریا دل سے اکتساب فیض کیا تھا۔ کتب سلسلہ میں مرقوم ہے کہ حضرت شاہ فتاح دیوان حضرت نوشہ گنج بخش کے وصال کے بعد ان کی زیارت سے مشرف ہوئے تھے۔

محدث اعظم حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل قدس سرہ علم طب میں بڑی دسترس رکھتے تھے۔ دور نزدیک سے روزانہ بیسیوں بیمار ان کی خدمت میں حاضر ہو کر استفادہ کرتے تھے۔ عوام الناس کے علاوہ امراء بھی علاج معالجہ کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔

حضرت حافظ نور محمد سیالکوٹی خلیفہ حضرت نوشہ گنج بخش فرماتے ہیں کہ حضرت سیّد محمد ہاشم دریا دل نے جب تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو مجدد اعظم سیّد نوشہ گنج بخش نے انہہیں فاضل جلیل حاجی حسین ویووالی سے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔

حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ ۔۔۔’’حضرت نوشہ پیرؒ نے ان کی خدمت کے لیے مجھے ان کے ساتھ بھیجا ۔چونکہ حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل کی خصلت پاک ایسی تھی کہ آپ لوگوں کی مجلس سے پرہیز کرتے تھے دوران تعلیم انہوں نے مجھے ارشاد کیا کہ اے میاں نور محمد یہاں سے بھلوال شریف قریب ہے اگر ہماری یہاں شہرت ہوگئی تو بھلوال والے صاحبزادگان کو بھی علم ہو جائے گا۔ اور وہ یہاں جب ہماری ملاقات کو آئیں گے تو خلقت میں ہماری مشہوری ہو جائے گی اور یہ بات ہمارے لیے بڑی تکلیف دہ بن جائے گی۔ اس لیے مناسب ہے کہ ہم یہاں کسی کو اپنا تعارف نہ کرائیں۔‘‘الاعجاز میں ہے

’’حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل قدس سرہ کا باطن ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا حضوری تھا۔ لیکن آپ نے ظاہری علوم کے پردے میں اُسے چھپا رکھا تھا۔

جاری ہے۔ سنتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ -