صحرائے تھر میں موت کے سائے

صحرائے تھر میں موت کے سائے
صحرائے تھر میں موت کے سائے

  

کوئلے ، چائناکلے، کرینٹ پتھر اور نمک کے ذخائر سے بھر پور صحرائے تھر پارکر کے باشندوں پر بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ بوند بوند کو ترسنے کے بعد تھر کی پیاسی زمین سے پرندوں نے تو ہجرت کرلی لیکن بڑی تعداد میں مال مویشیوں کی ہلاکت کے بعد انسان بھی مرنے لگے ہیں ۔ ننھے معصوم پھول جیسے بچے مرجھانے لگے ہیں ۔ روز بروز ماؤں کی گود اجڑنے لگی ہے ۔ غذائی کمی کے باعث گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت سے نومولود بچوں کی اموات واقع ہوچکی ہیں۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز سول اسپتال مٹھی میں مذید 2 بچے دم توڑ گئے، جس سے اس ماہ کے دوران کم وزن اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والے نومولود بچوں کی تعداد20ہو گئی۔ جبکہ بچوں کی اموات کی اصل وجہ ماؤں میں خوراک کی کمی بتائی گئی ہے۔ سندھ کے چوتھے بڑے شہر میرپورخاص سے چار گھنٹے کے فاصلے پر دنیا کے نویں بڑے صحرائے تھر کی شروعات ہوتی ہے۔اس صحراء کا ہیڈ کوا رٹر مٹھی شہر ہے۔ چاروں طرف ریت کے ہیبت ناک ٹیلوں سے گھر اہوا یہ شہر آج کل افریکا کا بھوک اور افلاس زدہ علاقہ محسوس ہو تا ہے۔ ریت کے بڑے بڑے خوفناک ٹیلے دیکھتے ہی انسان کے جسم میں کپکپی طاری کردیتے ہیں،دور دور انسان تو درکنار جاندار نام کی کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ کمزور دل انسان کو اگر اس صحراء کے سناٹے میں کھڑا کردیا جائے تو تیز ہواؤں کی خوفناک آواز سے اس کا دل پھٹ جائے ،اور وہ ہمیشہ کے لیے ان خوفناک آوازوں سے چھٹکارہ حاصل کرلے۔ کسی مجرم کو اگر سخت اذیت ناک سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنانا مقصود ہو تو اسے تھرپارکر کی ریت پر چھوڑ دیا جائے، وہ مجرم سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دے گا، لیکن اسے مدد کے لیے کوئی ذی روح نہیں ملے گا۔ اس صحرا ء میں زہریلے بچھو اور انتہائی خطرناک سانپ بلوں میں چھپے رہتے ہیں۔ جو اپنے شکارکو آسانی سے نشانہ بنا کر اپنے بل میں دوبارہ سکون سے جا کرآرام کرتے ہیں۔ پاکستان تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی ، میٹرو بس، میٹرو ٹرین کا حامل ہوچکا ہے ، لیکن یہاں بسنے والے لوگ آج بھی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کے لیے لالٹین کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ اس ہیبت ناک اور پراسرار صحرائے تھر میں کچھ بھوکے اور پیاسے لوگ آج بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم، زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہاں پینے کے تازہ پانی کا واحد ذریعہ کنویں ہیں جن کا پانی صحت کے لئے مضر ہے ،انسان اور حیوان ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ یہاں بسنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش بارش ہے یا پھر مال مویشی ہیں۔ یہاں کے مرد سخت قحط سالی میں اپنے مویشی لے کر سرسبز وشاداب علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں ،تاکہ ان کی زندگی کا متاع بچ جائے چاہے وہ خود موت کا شکار ہی کیوں نہ ہوجائیں۔ باقی رہی عورتیں اور بچے تو وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔

یہاں رہنے والوں کے لیے سب سے بڑی نعمت میٹھا پانی ہے۔یہاں پانی میلوں سفر کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ میٹھے پانی کا حصول ان کے لیے آج بھی شیر کے منہ سے نوالہ نکالنے کے مترادف ہے۔ دو سو فٹ گہرا کنواں کھود کر نکالا جانے والا پانی سمندر کے پانی سے بھی زیادہ کڑوا ہوتا ہے۔یہاں پانی کا کنواں کھودنا آسان کام نہیں۔ریت ہونے کی وجہ سے کئی لوگ کنواں کھودتے ہوئے ریت تلے دب کرپانی کی تلاش میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہاں بسنے والے لوگ آج آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور رب کے حضور ہاتھ پھیلا کر بارش کی دعا مانگتے ہیں، اور جب اللہ ربّ العزت ان پر رحم فرماکر بارش برسا دے تو یہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں بکھرے موتیوں کی طرح ہوں ،سمٹتے ہوئے اپنے دیس کی طرف چلے آتے ہیں۔بارشوں میں یہ لوگ باجرہ اور مکئی بوتے ہیں، اور یہی فصل سال کے لیے ان کی خوراک ہوتی ہے، اور اسی پر ان کی زندگی کا دارو مدار ہے۔ اب آئیں اس علاقے میں ملنے والی قدرتی معدنیات کے بارے میں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خشک صحراء میں کیا کیا چیزیں چھپا رکھی ہیں۔اس علاقے میں سفید چینی مٹی ملتی ہے،جس سے مہنگے ہوٹلوں اور مالدار گھرانوں میں بنے ہوئے چینی کے برتن استعمال ہوتے ہیں،اس علاقے میں کئی کلو میٹر تک پھیلے ہوئے کوئلوں کے ذخائردریافت ہوئے ہیں۔ ننگر پارکر میں گرینائیٹ پتھر ملتا ہے، جو دنیا کا قیمتی اور مہنگا ترین پتھر ہے۔یہاں بارش کے موسم میں قدرتی جڑی بوٹیاں کثیر تعداد میں ملتی ہیں۔چالاک حکیم بارش کے موسم میں اس علاقے کا رخ کرکے ان بھولے بھالے لوگوں سے سستے داموں وہ جڑی بوٹیاں خرید کر،دنیا کو مہنگے داموں دوائیاں بنا کر دیتے ہیں۔ اس علاقے میں ملتان کے مشہور گدی نشین اور رکن قومی اسمبلی کے مرید کثیر تعداد میں رہتے ہیں۔اسی طرح یہاں سندھ کے ایک مشہور پیر صاحب کے بھی بہت سے مرید رہتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ یہاں صرف الیکشن کے دنوں میں ووٹ لینے کے لیے آتے ہیں اور اس کے بعد دیکھنے کو نہیں ملتے۔ دنیا کی کئی این جی اوز اس صحراء میں موجود ہیں۔ یہ این جی اوز فنڈ دینے والے ممالک کو ان کی غربت دکھا کر فنڈ اکٹھا کرتی ہیں اور پھر مزے لے لے کر سیون اسٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھاجاتی ہیں، اور اس علاقے کے لوگوں کو فنڈز کے بارے میں پتا ہی نہیں چلتا۔

آج کل یہ علاقہ بچوں کے لیے موت کا سبب بنا ہوا ہے۔ مائیں بچے جننے سے نہیں ڈرتیں، بلکہ بچہ جننے کے بعد اس کی موت سے ڈرتی ہیں۔ مائیں نو ماہ بچے کو پیٹ میں اٹھا کر تکلیف تو برداشت کررہی ہیں لیکن بچے کا جنازہ اٹھتا دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتی ہیں۔انکی چیخیں ریت کے پہاڑوں میں گم ہوجاتی ہیں اور ایوان بالا تک پہنچنے سے پہلے ختم ہوجاتی ہیں۔ میڈیا میں بچوں کی اموات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی مشینری نے اس علاقے کا رخ تو کرتی ہے مگر مسائل کے مکمل حل سے چشم پوشی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ تھرپارکر کے دیہات میں ہزاروں حاملہ خواتین غذائی کمی کا شکار ہیں جوآنے والے دنوں میں بچوں کی اموات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال مٹھی میں بچوں کے وارڈ میں آج بھی تکنیکی عملے اور فی میل نرسوں کی کمی ہے جس کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہونے والے کم وزن بچوں کی دیکھ بھال سمیت علاج معالجے کا فقدان ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے اس مفلوک الحال علاقے کے باشندوں کے لیے فنڈز، اور میٹھے پانی کی فراہمی اور غذائی قلت کے خاتمے کا اعلان بھی کیا جاتا رہا ہے، لیکن ان اعلانات اور دعوؤں سے اب تک کوئی واضع فرق نہیں پڑا ، اور صحرائے تھر میں آج بھی موت کے سائے منڈلارہے ہیں۔یہ صدائے وقت ہے کہ سندھ اور وفاقی حکومت دعوؤں سے بڑھ کر اس علاقے میں پینے کے تازہ پانی کی فراہمی اور بنیادی مراکز صحت میں علاج معالجہ کی جملہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے ضروری انتظامات کرے، تاکہ صحرائے تھر سے مستقل طور پر قحط سالی اور خوراک کی قلت کا خاتمہ ممکن ، اور اس علاقے کے لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہوسکیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -