علم کی سنت

علم کی سنت
علم کی سنت

  

ہمارے جیسے چھوٹے قد کے آدمی نے امام زین العابدینؓ سے عرض کیا’’ اے امامِ محترم! جو قرآن کی متشابہات ہیں، انھیں کیسے سمجھا جائے؟ ‘‘سوال بہت مشکل ہے اور اِس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ جب تک اللہ آپ پر علم نہ کھولے، آپ متشابہات کو نہیں سمجھ سکتے۔ امام زین ا لعابدینؓ امامت کے لیے اٹھ رہے تھے۔ آپ کھڑے ہوئے اور سوال کرنے والے کو ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھ گئے۔ آپؓ کہتے ہیں ’’ متشابہات کو سمجھنے کے لیے محکمات کو متشابہات پہ لگا کر سمجھا کرو۔‘‘ کیا اُستادانہ اور خوب صورت جملہ ہے کہ جوآیت سمجھ میں نہیں آنے والی، اسے اُن کی روشنی میں سمجھا کرو جو سمجھ میں آ رہی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی عقل کے پیمانے کو پہچان لیا کرو کہ میں اتنا ہی سمجھ سکتا ہوں۔ جتنی سمجھ ہے اُسی پہ تکیہ کر لیا کرو اور اپنی عقل سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرو ، اللہ چاہے گا تو ہو گا۔ واضح آیات کو سمجھنا علم ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ قرآن کے احکامات کو مقرر کرنا اور قائم کر نا علم ہے۔

اب غور کیجیے کہ پہلی بات جو آپؓ نے کی وہ علم کی ہے ۔یعنی آیات کو سمجھنا۔ دوسری کیا کہی کہ یہ آپ کا معیار ہے۔ مثال کے طور پر آپ یہ کہیں کہ میں شراب پیتا ہوں۔یہ میری مجبوری ہے ۔مگر آپ یہ دیکھیں کہ جب میں تفسیرِ قرآن کرتاہوں تو ماشاء اللہ کتنی خوب صورت کرتا ہوں۔ وہ میرا ذاتی فعل ہے ،یہ میرا پروفیشن ہے۔ آپ یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا پروفیشن قرآن کے احکامات کو واضح کرناہے ۔ اب یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ شراب کو تو قرآن مجید میں حرام نہیں کہا گیا۔ (اسے شیطان کے عمل سے منسوب کیا گیا ہے جو کہ حرام سے بھی اگلے درجے کی برائی ہے۔) تو اگر احکاماتِ قرآن کو واضح کرنا ہو گا تو شراب حرام قرار نہیں دی جا سکتی ۔ قارئین محترم۔ عقل بنانے والا عاقل سے زیادہ عقل مند ہوتا ہے۔ اللہ اور اُس کے رسولﷺ نے فرمایا کہ اگر تمھاری جان اضطراب میں ہے ،تم مرنے والے ہو تو یہ حرام تمھارے لیے حلال ہے۔ اب تم کھا سکتے ہو مگر صرف اُتنا جو تمھاری جان بچانے کے لیے کافی ہے۔ یہ حرام جو ہے، یہ کوئی بہت اعلیٰ یا بڑی چیز نہیں ہوتی بلکہ یہ چھوٹی چیز ہے جو حرام ہے۔سود حرام ہے لیکن معاشرہ اس پہ قائم ہے۔ حرام بہت چھوٹی چیز ہے اسی لیے اللہ نے شراب کو حرام نہیں کہا بلکہ یہ کہا کہ یہ فعل شیطان کا ہے۔ اب فعلِ شیطان کو الٹا نہیں کیا جا سکتا کہ مشکل میں شیطان بننا جائز ہے۔ مشکل ہو یا نہ ہو، موت ہو یا زندگی ہو، آپ شراب کو جائز قرار اس لیے نہیں دے سکتے کہ یہ شیطان کا عمل ہے اور شیطان کا عمل ہر حالت میں منع ہے ۔یعنی حرام نہیں بلکہ اس سے بھی اگلے درجے کا قبیح فعل ہے۔

قرآن کی واضح آیات کو قائم کرنا علم ہے۔ پہلی چیز علم ہو گیا۔ آیات کو ،متشابہات کو ،محکمات کو سمجھنا علم ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ آپ تبلیغ کیسے کرتے ہیں ، لوگوں کو کیسے بتاتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا! اب پھر آج کے معاشرے پہ غورکیجیے، ہم ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ ہم کسی پہ رائے نہیں رکھتے، وہ جیسا بھی ہے، ٹھیک ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ نے کیا فرمایا۔ جب اللہ نے جبرائیل ؑ کو کہا کہ اس بستی کو جا کے اُلٹا دو،اُٹھا دویعنی پلٹ دو، تو حضرت جبرائیلؑ کو چاہیے تھا کہ من و عن حکم مانتے لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔ آپؑ نے جا کے بستی دیکھی، واپس آئے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ’’ یا اللہ !آپ کس بستی کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ اس کو پلٹ دو، اُس میں تو انتہائی سفید داڑھی اور نورانی چہرے والا بزرگ آپ کی عبادت میں مشغول ہے، اور پتا نہیں کب سے مشغول ہے۔ یا اللہ! کیسے پلٹا دوں اس آبادی کو! ‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اس کو سب سے پہلے پلٹا دو کیونکہ اُس نے کبھی بھی اس دنیا میں میری سچی اور حق بات کو لوگوں تک نہیں پہنچایا۔‘‘ اب سنت کیا قائم ہوئی؟نیک ہونا بڑی بات ہے مگر نیکی پھیلانا اِس سے بھی بڑی بات ہے۔ کم نیک ہو مگر نیکی کی بات پہنچانے والا ہو۔ سو، مذہب آپ کا انفرادی معاملہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک معاشرتی معاملہ ہے۔ پھر آخری حکم جو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ جب فیصلہ کرو تو انصاف سے کرو۔ا ب اس کا تعلق نہ قرآن سے ہے اور نہ ہی حدیث سے۔ اس کا فیصلہ کیسے ہو گا کہ اس کا تعلق کس سے ہے ؟ اس کا تعلق معاشرے سے ہے، کردار سے ہے یعنی علم حاصل کرنا پھر اس کو مقرر کرنا اور پھر کردار بھی ایسا ہو کہ آپ کے پاس جب بھی فیصلہ آئے،چاہے وہ آپ کی بیوی کا ہو یا بچے کا ہو، آپ کے مستقبل کا ہو یا پاکستان کا ہو، ہمیشہ انصاف سے فیصلہ کرنا۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے تیسری بات سب سے مشکل بتائی، اور وہ ہے کردار۔ جب اللہ نے رسول ﷺ کے بارے میں فیصلہ کروانا تھا تو سب سے پہلے کیا پوچھا؟ کیا تم مجھے صادق اور امین سمجھتے ہو؟ وہاں پہلے کردارکی بات ہوئی۔ یہ ہے معراج اور ہماری آخری معراج ہے کردار۔ وہ عروج، یہ زوال۔ کیسی عجیب بات ہے! یہ ہیں توقعات اللہ کی جو اُس کے پیغمبروں سے اور اُن کی اُمتوں سے ہیں۔ ہم زمینوں کا علم نہیں جانتے لیکن ہمارا گمان جو ہے وہ آسمانوں کی معراج کو سمجھنے کا سوال اٹھاتا ہے۔ یہ ہے عقل و ظرف سے گرے ہونے کی معراج۔ ہم تو زمین کو نہیں سمجھ سکتے، ہم معراج کہاں سمجھ پائیں گے لیکن یہ نفس کا اپنا ایک تمدن ہے۔ ایک عجیب بات ہے کہ جب انسان کا ظہور ہونا تھا تو انسان پہلے خدا کے ساتھ اسی طرح مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں ظاہر ہونا چاہتا ہوں (یہ ابنِ ماجہ کی حدیث ہے)، میں پہچانا جانا چاہتا ہوں۔تمام اشیا جو اللہ کی مخلوق تھیں سبھی نے کہا کہ ہم آپ کے سامنے ہیں ، ہم آپ کو پہچانتے ہیں ، اس کے بعد ہم کچھ نہیں کرنا چاہتے مگر حضرت انسان نے فوراً ہاتھ کھڑا کیااور کہا کہ یا باری تعالیٰ! تو اپنی ذات کی شناخت کروانا چاہتا ہے، میں حاضر ہوں۔ میں بہت اعلیٰ ذہنیت کا مالک ہوں، میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بھر پور ہوں، تو مجھے بتا تو کیا چاہتا ہے؟ اللہ نے فرمایا’’ اے انسان !تو نے اپنی اوقات سے بڑا بیڑا اٹھا لیا ہے(آج بھی انسان کے اندر یہی خصلت ہے کہ وہ اپنی اوقات سے بڑھ کر بات کرتا ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے ’’الہ‘‘ ہونے کا ثبوت دیا اور فرمایا کہ تو یقیناً خسارے میں ہے۔ تو نے اپنی ذات پہ ظلم کیا لیکن حدیثِ قدسی کہتی ہے کہ اللہ نے فرمایا ’’ اے حضرتِ آدم! جب میں نے تیرا مقدر لکھا تو اس کے اندر میں نے اپنا مقدر بھی لکھا۔‘‘ اللہ نے اپنا مقدر بھی لکھا اور کہا کہ میں نے اپنے مقدر میں تجھ پہ ظلم حرام قراردے دیا۔

اب یہاں تیسرا نکتہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی میں جو بھی برائی آئے گی وہ من جانب اللہ نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ تمھارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ میری طرف سے تجھے کبھی کوئی ظلم نہیں آئے گا۔ تو نے اتنا بڑا کام اٹھا لیا ہے کہ جس کے تو قابل نہیں ہے، یہ تجھ سے نہیں ہو گا۔ اب یہ رائے صرف اللہ ہی کی نہیں بلکہ یہی خیال فرشتوں کا بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتے مگر یہاں فرشتوں نے اللہ سے بھر پور سوال کیا۔ اللہ نے کہا کہ’’ میں اس کو اپنا نائب مقرر کرتا ہوں۔‘‘ فرشتوں نے کہا ’’اے اللہ! یہ اس قابل نہیں کیونکہ یہ زمین پہ جا کے خون بہائے گا اور فساد کرے گا۔‘‘ اللہ نے کہا ’’جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔‘‘ پھر اللہ نے حروف دیے جنھیں ہم حروفِ مقطعات کہتے ہیں۔پھر فرشتوں سے پوچھا کہ’’ اب تم کیا کر کے آئے ہو؟‘‘ فرشتوں نے کہا ’’ اے اللہ! آپ نے ہمیں حروف دیے، ہم امانتاً وہ حروف لے کے واپس آگئے۔ حضرت آدمؑ سے پوچھا کہ’’ آپ کیا کر کے آئے؟‘‘حضرت آدمؑ نے کہا ’’ اے اللہ ! میں نے ان سے بہت کچھ بنایا ہے۔‘‘ لیکن پہلا آدم بے علم تھا تو فرشتوں کی اُس پہ انگلی اٹھی۔ اب یہ آدم با علم ہے۔ اب اللہ نے فرمایا’’میں نہ کہتا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔‘‘ اب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ’’ اِسے سجدہ کرو۔‘‘ یہ ایسے آدم کو سجدہ تھا جو باعلم تھا۔ اب اس صورت حال سے تین سنتیں بن گئیں۔ ایک اشرف المخلوقات ہونے کی اور وہ سنت کیا بنی؟ باعلم ہونا! فرشتے ہونے کی سنت کیا بنی؟ یہ کہ جب آپ کو علم ہو جائے تو آپ راستہ اور رائے بدل لیں۔ یہ سنت ہو گئی فرشتوں کی۔ پھر تیسری سنت ہو گئی شیطان کی۔ آپ کو علم ہو بھی جائے مگر پھر بھی آپ اپنے مسلک کے چکروں میں ہی پھنسے رہیں اور اُسے چھوڑنے کے بجائے اپنی بات پہ اڑے رہیں کہ نہیں میں ہی ٹھیک ہوں۔ شیطان کی اس حرکت کی وجہ سے ہی اُسے قیامت تک کے لیے شیطان مردود قرار دیا گیا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -