چین نے اب تک کا سب سے بڑا قدم اُٹھالیا، ایک ایسی جگہ پر فوجی اڈا قائم کردیا جہاں اس سے پہلے صرف امریکہ کی حکمرانی تھی، امریکی فوج کے ہوش اُڑگئے کیونکہ۔۔۔

چین نے اب تک کا سب سے بڑا قدم اُٹھالیا، ایک ایسی جگہ پر فوجی اڈا قائم کردیا ...
چین نے اب تک کا سب سے بڑا قدم اُٹھالیا، ایک ایسی جگہ پر فوجی اڈا قائم کردیا جہاں اس سے پہلے صرف امریکہ کی حکمرانی تھی، امریکی فوج کے ہوش اُڑگئے کیونکہ۔۔۔

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین دنیا میں امریکہ کا حقیقی مخالف بن کر ابھر چکا ہے جسے ہر میدان میں چین کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اب چین نے ایک ایسے افریقی ملک میں امریکی فوجی اڈے کے بالکل قریب اپنا فوج اڈا تعمیر کرنا شروع کر دیا ہے جہاں پہلے صرف امریکہ کی حکمرانی تھی۔ یہ افریقہ کا ملک جبوتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ یہاں موجود اپنے فوجی اڈے کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اپنی اہم فوجی کارروائیوں میں استعمال کرتا ہے اور اس کے بالکل قریب چینی فوجی اڈا قائم ہونے سے امریکی فوج کی مشکلات شدید ہو جائیں گی۔امریکہ نے نائن الیون کے حملے کے بعدجبوتی میں یہ اڈہ قائم کیا تھا جہاں چار ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو یہاں سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے یمن میں ہونے والی فوجی کارروائی بھی اسی اڈے سے ہوئی تھی۔

’اب ہم ایران کو ہدف بنائیں گے کیونکہ۔۔۔‘ داعش نے ایران کو کھلی دھمکی دے دی لیکن ساتھ ہی نشانہ بنانے کی ایسی وجہ بتادی کہ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

رپورٹ کے مطابق چین کا فوجی اڈہ ’ کیمپ لیمنر‘ نامی امریکی فوجی اڈے سے صرف چند میل کے فاصلے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ایک امریکی فوجی ماہرگیبرئیل نے چین کی جانب سے جبوتی میں فوجی اڈہ تعمیر کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ ایسا ہی ہے کہ فٹبال کی دو حریف ٹیمیں ساتھ ساتھ گراو¿نڈ میں تیاری کر رہی ہوں۔“روڈ آئی لینڈ کے نیول وار کالج کے پروفیسر پیٹر ڈنٹن کا کہنا تھا کہ کہ”چین کی طرف سے امریکی اڈے کے قریب اپنا اڈا تعمیر کرنا فوجی حکمت عملی کے حوالے انتہائی اہم واقعہ ہے۔تمام توسیع پسندانہ قوتیں ایسا ہی کرتی ہیں جو چین کر رہا ہے۔ چین نے برطانیہ سے سبق سیکھا ہے جو 200 سال سے یہی کچھ کر رہا تھا۔“دوسری طرف چینی حکام نے نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ”جبوتی میں اس اڈے کا قیام کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ ہم یہ اڈا محض بحری قزاقوں کے خلاف آپریشنز میں استعمال کرنے کے لیے بنا رہے ہیں۔اس کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -