ہائیکورٹ نے 2018ءمیں سی ایس ایس کا امتحان اردو زبان میں لینے کا حکم معطل کر دیا

ہائیکورٹ نے 2018ءمیں سی ایس ایس کا امتحان اردو زبان میں لینے کا حکم معطل کر دیا
ہائیکورٹ نے 2018ءمیں سی ایس ایس کا امتحان اردو زبان میں لینے کا حکم معطل کر دیا

  

لاہور ( نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے 2018ءمیں سی ایس ایس کا امتحان اردو زبان میں لینے کا حکم معطل کر دیا ہے، سی ایس ایس کا امتحان اردو زبان میں لینے کا حکم لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے جاری کیا تھا جس کے خلاف فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی اپیل دائر کی ہے ۔

صنفی مضبوطی کے لیے کام جاری رکھناچاہیے، بہادری ہی جینے کاسلیقہ ہے:ملانیا ٹرمپ

فاضل ڈویژن بنچ نے یہ اپیل باقاعدہ سماعت کے لئے بھی منظور کرلی ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے فیصلوں سے زبانیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اردو زبان کو رائج کرنے کیلئے اقدامات کرنے کا حکم دیتا ہے ، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آئین بھی اردو زبان رائج کرنے کیلئے پیشگی اقدامات کرنے کا کہتا ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سی ایس ایس 2018 کا امتحان اردو میں لینا مشکل ہے۔

اردو میں امتحان لینے کیلئے سلیبس ہے اور نہ ہی ایگزامنرز ہیں۔ جبکہ گریجوایشن میں بھی اردو لازمی زبان نہیں ہے، اس لئے سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے زمینی حقائق کا جائزہ لئے بغیر ہی فیصلہ دیدیا ہے لہذا عدالت سی ایس ایس 2018 کا امتحان اردو میں لینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔ عدالت نے مزید سماعت 3 ہفتوں تک ملتوی کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا، ڈویژن بنچ نے مدعا علیہان کو نوٹس بھی جاری کر دیئے ہیں۔

مزید :

لاہور -