نامعلوم قاتل

نامعلوم قاتل
نامعلوم قاتل

  


وہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی اور سب کی آنکھ کا تارہ بھی جب سے بولنا آیا تھا سب کی توجہ کا مرکز اور اپنی، میٹھی میٹھی باتوں سے سب گھر والوں سے کا دل خوش کیا کرتی تھی۔

ماہ رخ کا والد وسیم عباس جب بھی تیار ہو کر گھر سے نکلنے لگتا تو ضد کیا کرتی تھی کہ وہ بھی ساتھ جائے گی اور موٹرسائیکل پر خاص طور پر ٹینکی پر بیٹھ کر ہینڈل پکڑ پر بیٹھ جاتی اور پھر اسے اتارنا مشکل ہو جاتا تھا۔

ہفتے کے روز بھی وہ تیار ہو کر اپنے ماں باپ کے ساتھ موٹر سائیکل پر نکلی، لیکن پھر زندہ واپس نہ آ سکی۔ اپنے ماں باپ کے سامنے گلے پر ڈور پھرنے کی وجہ سے ننھی ماہ رخ نے تڑپ تڑپ کر جان دی، وہ بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

اپنی جان سے پیاری بیٹی کی جان ہاتھوں میں نکل رہی تھی، لیکن وہ کچھ بھی نہ کر پا رہے تھے۔ ہنسی خوشی گھر سے نکلنے والے اپنی لاڈلی بیٹی کی لاش واپس لے کر گئے۔

ان ماں باپ کی کیفیت کا اندازہ لگایئے، جن کے سامنے بیٹی کی لاش تو موجود تھی، لیکن قاتل کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان کی پتھرائی ہوئی آنکھیں ہر آنے والے سے سوال کر رہی تھیں کہ کون ہے اس ننھی ماہ رخ کا قاتل۔

کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ کون قاتل ہے اور اس معصوم بچی کا قصور کیا تھا، اسے کیوں قتل کیا گیا۔ کوئی حادثہ ہوتا، لڑائی جھگڑا ہوتا یا قدرتی بیماری ہوتی تو شائد والدین کو صبر آ جاتا، لیکن یہ حادثہ نہیں صریحاً قتل ہے۔

جیسا کہ حدیث مبارک میں بھی ہے کہ ایک دور آئے گا کہ قاتل کو نہیں معلوم ہوگا کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے اور مقول کو بھی نہیں معلوم ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا جارہا ہے۔

ماہ رخ بھی ایسے ہی قاتل کی مقتولہ بنی اور دنیا فانی سے وجہ جانے بغیر ہی رخصت ہو گئی۔ اس نے تو ابھی زندگی کو ہی نہیں پہچانا تھا۔ وہ قاتل کو کیسے پہچان سکتی تھی۔ خادم اعلیٰ کا وہی گھسا پٹا اعلان ایس ایچ او اور ڈی ایس پی معطل کر دیئے اور رپورٹ طلب کر لی۔

کیا کوئی یہ جانتا ہے کہ آج تک جتنے بھی افراد 9سال میں معطل کئے گئے وہ کہاں ہیں۔ اگر نہیں معلوم تومیں بتائے دیتا ہوں۔ عوامی غم و غصہ کے وقتی ابال کو کم کرنے کی یہ شعبدہ بازی ہے نوسال میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے افسران معطل پھر دو تین ماہ بعد وہیں اسی خادم اعلیٰ کی سرپرستی میں بحال ہو کر زندگی کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی یہ بھی سنا یا پڑھا ہے کہ اس نامعلوم قاتل جو ڈور سے لوگوں کے پیاروں کے گلے کاٹتا ہے کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہو، کیونکہ جان تو لوگوں کی جاتی ہے عوام میں سے لوگ جان گنواتے ہیں۔ عام لوگ جو موٹرسائیکل پر اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں۔ وہ لوگ ان کے لئے کیڑے مکوڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ان کے اپنے بچے تو بلٹ پروف، بم پروف گاڑیوں میں بھی کمانڈوز کے حصار میں ہوتے ہیں۔ خادم اعلیٰ کا اچھا اقدام پتنگ بازی پر بین تھا، لیکن اس قاتل کی سزا کا تعین کرنا بھی حکومت کا کام ہے۔ اگر ڈور سے گلے کاٹنے والے اسی طرح دندناتے پھریں گے تو بھی معصوم افراد اس کھیل کی آڑ میں ان کی تسکین کا سامان بنتے رہیں گے۔ بہار آتے ہی لوگوں کے گھروں میں خزاں کی ویرانیاں بانٹنے والے یہ قاتل کبھی باز نہیں آئیں گے۔ گزشتہ ہفتے 37سالہ فاروق سبحانی جو کہ چار بچوں کا باپ اور گھر کا واحد کفیل تھا۔

ملتان چونگی میں ڈور پھرنے سے چند لمحوں میں دنیا سے رخصت ہو گیا اور اس کا بھائی ارشد شدید زخمی ہوا، جس پر ایس پی صدر فیصل شہزاد سمیت ایس ایچ او اور ڈی ایس پی بھی معطل کر دیئے گئے، لیکن قاتل پھر ہمارے نظام کا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈال کر مذاق اڑارہا ہوگا۔

یہ ایس پی ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او چند دن بعد ہی اس شہر میں کہیں اور اپنے عہدوں پر بحال ہو جائیں گے، لیکن چار بچے اور ان کی والدہ ساری زندگی اپنا کفیل نہیں پا سکیں گے۔

مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں، جس میں لوگوں کے گلے کاٹنے کے لئے درخواست ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے۔

پتنگ بازی کے شوقین وزیراعلیٰ پنجاب سے گلے کاٹنے کی اجازت اس دلیل کے ساتھ مانگ رہے ہیں کہ غیر ملکی لوگ آئیں گے۔ اور بیرونی سرمایہ کاری ڈالرز کی صورت میں میسر ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

ایسے لوگوں کی خواہش پر کوئی حیرت نہیں ہوئی، جس ملک میں ڈھرکی شہر میں ڈاکو بینرز اٹھا کر پولیس کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں کہ ہم ڈاکو ہیں اور کاروبار مندہ ہے، لیکن پولیس منتھلی مانگتی ہے نہ دینے کی صورت میں پولیس مقابلہ میں پار کر دیتی ہے۔ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے تو اس معاشرے میں قاتل ڈور استعمال کرنے والے بھی گلے کاٹنے کی اجازت مانگ سکتے ہیں۔

میری التجا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب یا اعلیٰ عدلیہ لگے ہاتھوں ماہ رخ اور فاروق سبحانی کے قتل کی ایف آئی آر میں ٹولے کو نامزد کرے کیونکہ اصل قاتل یہ ہیں جو لوگوں کو تہوار، بیرونی سرمایہ کاری اور لوگوں کے روزگار کے نعرے لگا کر گلے کاٹنے کی اجازت لینا چاہتے ہیں۔

کل کو اسلحہ اور گولیاں بنانے والے بھی سڑکوں پر آ جائیں گے کہ اسلحہ کا استعمال بڑھایا جائے اور لوگوں کو بلاجواز گولیاں ماری جائیں ورنہ اسلحہ ساز لوگوں کے کاروبار اور گولیاں بنانے والی صنعت کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...