ایک دن ڈسپنسر ڈاکٹر عبدالغفور کے ساتھ

ایک دن ڈسپنسر ڈاکٹر عبدالغفور کے ساتھ
ایک دن ڈسپنسر ڈاکٹر عبدالغفور کے ساتھ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قارئین کرام! ویسے تو ہماری زندگی میں بے شمار ہنسانے، رُلانے والے واقعات ہو گزرے ہیں مگر جو ’’تحیّر انگیر‘‘ وقت ہم نے ’’ڈسپنسر ڈاکٹر غفور صاحب‘‘ سے گفتگو میں گزارا، اس نے تو ہمیں میڈیکل سائنس کے ’’دیوتاؤں‘‘ کی ’’کارگزاریوں‘‘ کے نئے نئے زاویوں سے روشناس کروایا ہے۔

آپ، یعنی ’’ڈسپنسر ڈاکٹر غفور صاحب‘‘ کی باتیں سن کر ہم کبھی حیران ہوتے، کبھی دنیا کی کسمپرسی پر آہیں بھرتے اور کبھی حکومتوں اور اداروں کی کارکردگی کو، کوستے رہے کہ انسانی صحت کے حوالے سے اگر حالات یونہی چلتے رہے تو بیماری سے شفایابی کے لئے ترستا انسان، ایسے ہی ڈاکٹروں سے علاج کرواتا رہے گا تو پھر وہ کہاں جائے گا؟ ظاہر ہے اپنے اعمال کے باوصف، قبل از وقت ہی جنت یا دوزخ میں جگہ پائے گا۔

چونکہ ڈاکٹر موصوف اپنے قصبے کے ’’معروف‘‘ معالج تھے اور عوام کی اکثریت کی ایک پسندیدہ ’’شخصیت‘‘ بھی، لہٰذا وہ ارباب سیاست کی آنکھ کا تارا بھی تھے۔

اپنے ایڈیٹر صاحب کی ہدایات کے مطابق ہمیں ان سے ’’انٹرویو‘‘ کرنا تھا، جسے ہم نے ایک آسان کام سمجھا، مگر یہ تو ہمیں زندگی کے کئی حیران کن پہلوؤں سے روشناس کرا گیا۔ یعنی بقول فیض احمد فیض ؂

مگر یہ چشم حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی

چلیں تمہید مختصر کرتے ہیں اور ان سے جو سوال و جواب ہوئے، آپ کی نذر کرتے ہیں:

سوال: ڈاکٹر غفور صاحب! آپ نے اپنے ’’ڈیرہ نما‘‘ کلینک کے باہر جو تشہیری بورڈ آویزاں کر رکھا ہے، اس میں ڈسپنسر کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ کا بھی اضافہ کیا ہوا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق، کسی منظور شدہ یونیورسٹی سے میڈیکل تعلیم مکمل کرنے والا فرد ہی ’’ڈاکٹر‘‘ کہلانے کا حق دار ہوتا ہے، چلیں ’’ڈسپنسر‘‘ تک تو ٹھیک تھا یہ ’’ڈاکٹر‘‘ والا لاسابقہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، کیا یہ کوئی جدید طبی تعلیم کی ڈگری ہے جو آپ نے حاصل کر رکھی ہے، مگر کون سی یونیورسٹی سے؟

جواب: (آپ کے منور چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ براجمان تھی، گویا کوئی دانائے راز، دنیا کی بے ثباتی کا نظارہ کر چکا ہو اور ہنوز تخلیق و تحقیق سے محظوظ ہو رہا ہو) سرکار! یہاں جو آپ مریضوں کا ہجوم دیکھ رہے ہیں، اسی بات سے آپ کو میرے ’’مرتبے‘‘ کا اندازہ ہو جانا چاہئے۔

مَیں اگر کتابی ڈگریوں کا حامل ہوتا تو یہاں نہ بیٹھا ہوتا بلکہ شہر کے بڑے بڑے ’’قصائی‘‘ ڈاکٹروں کی طرح مریضوں کی کھال اتار رہا ہوتا۔ مَیں تو یہاں خدمت خلق پر مامور ہوں۔

میرے سامنے جو مریض آتا ہے، مَیں اس کا ’’شجرہ‘‘ دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ اسے کیا مرض لاحق ہو سکتا ہے، میری تشخیص اکثر درست ہوتی ہے اور پھر علاج تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

جس کی فیس نقد نہ بھی ہو تو کسی جنس کی شکل میں وصول ہو جاتی ہے، مثلاً کوئی دیسی مرغ، دیسی گھی، دیسی انڈے اور گُڑ شکر کے تھیلے اور بعض مریض اپنی حیثیت کے مطابق بکرا وغیرہ بھی پیش کر دیتے ہیں۔

مَیں انسانوں کے علاج کے لئے ’’قصائی‘‘ جیسا رویہ اختیار نہیں کرتا بلکہ بعض اوقات غریب و نادار مریضوں کا مفت علاج بھی کرتا ہوں، کیونکہ ’’علاقے‘‘ میں اپنا ووٹ بینک بھی قائم رکھنا ہوتا ہے، جو بعد ازاں میرے بہت کام آتا ہے۔

یوں سمجھئے، ان غریب مریضوں کا معاوضہ کسی سیاسی رہنما کو ووٹ دلوا کر وصول کر لیتا ہوں۔ رہا سوال خود کو ڈاکٹر لکھنے کا، تو یہ مریض لوگوں کی نفسیاتی مجبوری ہوتی ہے، جس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

سوال: حضور ! آپ بڑے بڑے ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ ڈاکٹروں کے لئے ’’قصائی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ ہمیں خود بھی اکثر ڈاکٹروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، جو نہایت معقول فیس کے ساتھ کامیاب علاج کرتے ہیں، آپ جیسے ’’عطائی‘‘ کا انہیں ’’قصائی‘‘ کہنا، کیا ان کی توہین نہیں؟

جواب: دیکھیں مَیں سارے ڈگری ہولڈر ڈاکٹروں کو قصائی نہیں کہہ رہا، بات اکثریت کی ہوتی ہے، چند دہائیاں پیشتر ڈاکٹرز واقعی اس پیشے کو عبادت سمجھتے تھے، مگر وہ تو کب کے رخصت ہو چکے، شاید ہی کوئی دانہ بچا ہو، اب تو فقط ’’مادیت‘‘ ہی رہ گئی ہے۔

پہلے ’’میرٹ‘‘ پر ذہین طلبا کو ڈاکٹر بننے کے لئے یونیورسٹی/ کالج میں داخلہ ملتا تھا، اب سرکاری تو کیا پرائیویٹ اداروں میں بھی بھاری فیسوں اور ’’سیلف فنانس‘‘ جیسے ’’ٹوٹکوں‘‘ کی بدولت داخلے ملتے ہیں جہاں کروڑوں کی فیسیں وصول کرکے ’’ڈاکٹرز‘‘ تخلیق کئے جا رہے ہیں۔ یہ بڑے ’’ٹیکنیکل ڈاکٹرز‘‘ ہوتے ہیں اور بڑے بڑے ’’پوش‘‘ ایریاز میں پریکٹس کرتے ہیں۔

جناب والا! مَیں نے تقریباً دس سال شہر کے ایک معروف ہسپتال میں بطور ’’اسسٹنٹ‘‘ کام کیا ہے اور تقریباً ہر شعبے کے ڈاکٹر کے ساتھ ’’ڈیوٹی‘‘ کی ہے۔ ان کتابی اور ’’سیلف فنانس‘‘ ڈاکٹرز کے اندر ایک ان دیکھا ’’اتحاد‘‘ ہوتا ہے۔ کوئی ’’مالدار‘‘ مریض ’’سردرد‘‘ کی شکایت لے کر آئے تو وہ اسے ’’نیورو فزیشن‘‘ کو ریفر کر دیتے ہیں۔

نیورو ڈاکٹر کی ادویات استعمال کرکے مریض اگر ’’پیٹ درد‘‘ میں مبتلا ہو جائے تو اسے ’’معدہ‘‘ والے ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ’’معدہ‘‘ والے ڈاکٹر کا نسخہ استعمال کرکے اگر وہ ’’گردے والے ڈاکٹر‘‘ کے پاس جانے سے بچ جائے تو اسے کسی ’’ماہر نیویٹریشن ڈاکٹر‘‘ کی جانب رجوع کرنا پڑ جائے گا۔ یعنی اگر مریض ’’افورڈ‘‘ کرتا جا رہا ہو تو ان ٹیکنیکل ڈاکٹرز کا ’’مثالی اتحاد‘‘ اسے خود اپنا ہسپتال بنانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ان ڈگری یافتہ ڈاکٹروں کے زیر سایہ پنپنے والی لیبارٹریاں، ایکسرے سنٹرز، ایم آر آئی سنٹرز اور نجانے کیسے کیسے ’’فزیو تھراپی سنٹر‘‘، ’’سکن سینٹرز‘‘، ’’ٹرانس پلانٹ سنٹرز‘‘ وغیرہ وغیرہ مریضوں کو اپنی اپنی تحقیقاتی رپورٹس تھما کر اپنی اپنی مالی پوزیشن پر لے جا رہے ہیں۔

یہاں مَیں اپنے ایک کرم فرما بزرگ کے واقعہ کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا جو کسی بیماری کے سلسلے میں ایک شناسا ڈاکٹر کے پاس گئے جو ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے DMS کے منصب پر بھی فائز تھے۔ انہوں نے معائنہ کے بعد متعدد لیب ٹیسٹ تجویز کئے، چند ادویات کی ایک لسٹ پکڑائی (جوکہ مالی اعتبار سے کافی بھاری تھی) اور ساتھ ہی ایک ’’مخصوص فارمیسی‘‘ سے ادویات خریدنے کی ہدایت بھی کر دی۔

میرے دوست نے حیرانی کے عالم میں ڈاکٹر موصوف کو دیکھا اور سوال کیا ’’حضور آپ کی تشخیص تو ابھی نامکمل ہے، لیب رپورٹس آنے سے پہلے ہی آپ نے یہ نسخہ لکھ دیا ہے، یہ بات میری سمجھ سے تو بالاتر ہے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور فرمایا ’’احتیاطاً‘‘ لکھ دی ہیں، رپورٹس آنے تک کہیں مرض شدت نہ اختیار کر جائے یعنی ’’احتیاطاً‘‘ ہی ’’احتیاطاً‘‘ میں آپ کی جیب ہلکی کر دی جاتی ہے۔

اس سے بھی برا حال میڈیکل لیبارٹریوں کا ہے۔ ایک مشہور لیب اپنے رزلٹس کے ساتھ کمنٹس بھی جوڑ دیتی ہے مثلاً اگر آپ کا کولیسٹرول معمولی سا بھی ’’اوپر‘‘ نکلا تو ساتھ لکھا ہوگا:

"HIGH RISK OF HEART FAILURE"

تاکہ مریض خوفزدہ ہو جائے اور ہر قیمت پر ڈاکٹر کے ’’درشن‘‘ کرے۔

مَیں تو اس قصبے میں اپنے ڈسپنسری اور اپنے آباء کی ’’حکمت‘‘ کے بل پر، یہاں کے غریب و امیر کو نہایت معمولی فیس کے عوض علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر رہا ہوں۔ چونکہ میرے اجداد اسی قصبہ میں ’’حکمت و طب‘‘ سے وابستہ رہے ہیں تو کچھ علم، سینہ بہ سینہ بھی مجھے منتقل ہوا ہے۔ مَیں اس قصبہ کے لوگوں کا اعتماد حاصل کر چکا ہوں۔

یہاں کے تقریباً سبھی خاندانوں کی ’’طبی تاریخ‘‘ سے مکمل آگاہ ہوں۔ ایک دانشور کی مشہور بات آپ کے گوش گزار کرتا ہوں ’’کہتے ہیں کہ ہر بیج کے اندر ایک درخت چھپا ہوتا ہے، جس کے عیب و ہنر آپ باطن کی آنکھ سے ہی جان سکتے ہیں۔‘‘ یہاں سکونت پذیر مختلف خاندان، مختلف بیجوں کی طرح ہیں۔ لہٰذا جب کوئی مریض میرے کلینک میں داخل ہوتا ہے تو وہ میرے لئے ایک ایسے درخت کے مانند ہوتا ہے جس کے بیج کا مجھے علم ہوتا ہے۔

اس پر چھائی بیماری، زیادہ تر اسے آباء سے منتقل شدہ ہوتی ہے جس کا علاج میرے بزرگ کافی عرصہ پیشتر کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ نسخے میرے پاس محفوظ ہیں، جنہیں عام نہیں کیا جا سکتا۔

ویسے اتنا بتا دیتا ہوں کہ چند جڑی بوٹیاں، چند مقویات ہی میری ادویات میں شامل ہوتی ہیں جن کے انسانوں پر منفی اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کئی نادار غریبوں کے مفت علاج کی بدولت میں اپنا اچھا خاصا ووٹ بینک بنا چکا ہوں، جس کی بناء پر آج کل خود الیکشن لڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں، ہو سکتا ہے اگلے الیکشن میں آپ مجھے بھی اپنے شہر کی اسمبلی میں موجود پائیں۔

سوال: آپ کی یہ ’’بیج اور درخت‘‘ والی تھیوری تو ہمارے سر کے اوپر سے گزر گئی ہے، لیکن ہماری دعا ہے کہ الیکشن جیتنے والی آپ کی خواہش پوری ہو جائے کہ چلیں اسی بہانے لوگوں کو ایک ’’عطائی‘‘ ڈاکٹر سے نجات تو حاصل ہوگی، مگر یہ تو بتائیں ’’آپ کا طریقہ تشخیص و علاج کیا ہے؟‘‘۔۔۔

جواب: خدا آپ کی زبان مبارک کرے، مگر میرا یہ کلینک تو پھر بھی چلتا رہے گا۔ میرا بیٹا عبدالغفار کافی حد تک ٹرینڈ ہو چکا ہے اور کسی ہنگامی ضرورت پر مَیں خود بھی Whatsapp پر مریض ’’ملاحظہ‘‘ کرکے دوا تجویز کر سکتا ہوں، باقی طریقہ تشخیص آپ کے گوش گزار کر چکا ہوں کہ چہرہ دیکھ کر ہی مرض پہچان جاتا ہوں اور دوا تجویز کر دیتا ہوں۔ اکثر لوگ صحت یاب ہو جاتے ہیں، پھر بھی اگر کوئی ’’گزر جائے‘‘ تو مشیت الٰہی جان کر لوگ صبر کر لیتے ہیں کہ میرا، آپ کا اور سبھی کا ایمان ہے کہ موت کا جو دن مقرر ہے، وہ ٹل نہیں سکتا۔ رہا سوال ’’عطائی‘‘ ڈاکٹر سے لوگوں کی نجات کا، تو آپ یہ بھول جائیں کہ شہر میں بیٹھا کتابی ڈگری کا حامل کوئی ڈاکٹر یہاں آ کر پریکٹس کرنا پسند کرے گا۔ یہاں اس قصبے میں سرکاری ہسپتال بھی موجود ہے، جس کا حال مَیں بیان کروں گا تو آپ اسے بھی کوئی ’’سازش‘‘ قرار دیں گے، جیسا کہ شہروں کے اکثر بڑے سرکاری ہسپتالوں کی ’’مشینری‘‘ کی خرابی کا سبب پرائیویٹ لیبارٹریوں کی ’’سازش‘‘ سمجھی جاتی ہے۔ (چونکہ مریضوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا، اور ہمارا دماغ بھی کافی حد تک الجھ چکا تھا، لہٰذا ان سے رخصت کی اجازت طلب کی جو انہوں نے نہایت شکریہ کے ساتھ عطا کر دی، جو ہمیں ایک ’’عطائی‘‘ کی جانب سے کوئی ’’انعام‘‘ سا محسوس ہوا۔وما علینا اِلاّ البلاغ

مزید : رائے /کالم