وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات

وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے منگل کی شام چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ساتھ طویل ملاقات کی جس میں اہم قومی و عدالتی امور پر بات چیت کی گئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ قانون کے مطابق اپنی آئینی ذمے داریاں شفافیت، نیک نیتی اور کسی ڈر اور خوف کے بغیر ادا کرتی رہے گی۔ ملاقات میں حکومتی، انتظامی اور گورننس کے امور، عام انتخابات اور حلقہ بندیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ اعلامئے کے مطابق یہ ملاقات وزیراعظم کی جانب سے اٹارنی جنرل کے ذریعے بھیجی گئی درخواست پر کی گئی جو چیف جسٹس کے چیمبر میں ہوئی، دو گھنٹے تک انتہائی خوش گوار ماحول میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم نے چیف جسٹس کو عدالتی نظام کی بہتری کے لئے ہرممکن معاونت کی پیشکش کی۔ انہوں نے چیف جسٹس کو اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ حکومت عدلیہ کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے تمام تر وسائل مہیا کرے گی تاکہ عوام کی انصاف تک رسائی ممکن ہو۔ انہوں نے چیف جسٹس کو ایف بی آر کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے اس حوالے سے ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں تاخیر اور اس سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتائی جس پر چیف جسٹس نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ جائزہ لے کر ٹیکس مقدمات جلد نپٹائے جائیں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اس منصب پر فائز ہونے کے بعد وزیراعظم سے ان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

دو گھنٹے طویل ملاقات میں بہت سے ایسے موضوعات کا بھی اگر تفصیلی نہیں تو اجمالی احاطہ ضرور کیا گیا ہوگا جس کا ذکر سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں نہیں اس لئے بعض حلقے ملاقات پر اپنے اپنے فکر و فہم کے مطابق حاشیہ آرائی بھی کر رہے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ ملاقات ہونی بھی چاہئے تھی یا نہیں، اس پر مختلف آرا ہیں، کوئی یہ فرما رہا ہے کہ بڑی اچھی بات ہے کہ یہ ملاقات ہو گئی ہے اور کسی کا خیال ہے کہ ایسا نہ ہی ہوتا تو اچھا تھا، لیکن یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جس پر لوگ حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں، ماضی میں بھی ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں اور ان کے اثرات بھی مرتب ہوتے رہے ہیں، جب افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے اور اپنی برطرفی کے بعد ایک تحریک کے نتیجے میں بحال ہوئے تھے اور یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اس وقت کی حکومت بوجوہ برطرف چیف جسٹس کو بحال نہیں کرنا چاہتی تھی تو بحالی کے بعد 2010ء میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی، یہ ملاقات ایک عشایئے میں ہوئی جو ریٹائرڈ جسٹس رمدے کے اعزاز میں دیا گیا، یوسف رضا گیلانی کسی دعوت کے بغیر یہاں آئے تاہم ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔

مملکت کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز دو شخصیات کے درمیان ایسی ملاقات پر چنداں حیران ہونے کی ضرورت تو نہیں البتہ ملاقات کے دوران چونکہ کوئی تیسرا موجود نہیں تھا اس لئے وزیراعظم آفس یا سپریم کورٹ کی جانب سے جو کچھ بتایا جائے گا اسی پر انحصار کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں تو وزیراعظم یا ان کے دفتر کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا البتہ سپریم کورٹ کی پریس ریلیز کے بعد بدھ کو فاضل چیف جسٹس نے ایک زیر سماعت مقدمے میں ان امور کی جانب ہلکا سا اشارہ ضرور کر دیا جو اس ملاقات میں زیر غور آئے، ویسے بہتر تو یہ ہے کہ وزیراعظم خود بھی کسی وقت اس ملاقات میں زیر بحث آنے والے امور پر روشنی ڈال دیں تاکہ محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر خیال آرائیوں کی بجائے ٹھوس گفتگو کی اساس دستیاب ہو سکے۔

سپریم کورٹ، ہائی کورٹوں اور نیب عدالتوں میں چونکہ بہت سے ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے جن میں سے بعض سیاسی نوعیت کے بھی ہیں اس لئے قیاس آرائیوں کا موضوع ایسے مقدمات بھی ہوتے ہیں اس لئے ملاقات کے حوالے سے چھپنے والی خبروں میں یہ فقرہ التزام کے ساتھ شامل کیا گیا کہ نوازشریف کے مقدمات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، ملکی فضا پر اس وقت جو موضوع سایہ فگن ہے وہ تو یہی ہے کہ اگلے عام انتخابات کے حوالے سے کیا تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس وقت نئی مردم شماری کی بنیاد پر جو حلقے بن رہے ہیں ان میں پرانے اور روایتی حلقوں میں توڑ پھوڑ ہو رہی ہے، نئے حلقوں میں پرانے ایک ایک حلقے کے کئی کئی علاقے شامل ہو رہے ہیں اور جو سیاست دان ماضی میں جس حلقے سے کئی کئی بار الیکشن لڑتے رہے ہیں ان کی اونچ نیچ سے وہ چونکہ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ووٹروں سے بھی انہیں تھوڑی بہت براہ راست شناسائی ہو جاتی ہے اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ پرانا حلقہ بغیر کسی تبدیلی کے پہلے کی طرح بحال رہے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور صوبوں کی نشستیں کم یا زیادہ ہو جائیں گی تو حلقوں کی حد بندیوں میں ردوبدل بھی لازمی ہوگا، الیکشن کمیشن جو حلقے بنا رہا ہے اور ان کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان پر بہت سے اعتراض بھی ہو رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے الیکشن کمیشن کے پاس جو اعتراضات جائیں گے اور وہ انہیں جس طرح بھی نپٹائے گا اس پر فریقین میں سے کسی نہ کسی کو تو اعتراض ہوگا، الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں بھی اعلیٰ عدالتوں میں جائیں گی۔ اس لئے بعض حلقے الیکشن کے حوالے سے اس قسم کے خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ شاید الیکشن میں تاخیر بھی ہو جائے۔

ان خدشات میں سے کچھ تو جائز بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ اعتراض نپٹانے میں بہرحال وقت صرف ہونا ہے لیکن ملک کے اندر سیاست دانوں کا ایک حلقہ ایسا موجود ہے جو دل سے چاہتا ہے کہ الیکشن اول تو ہو ہی نہ سکیں،اور اگرہوں ان میں جتنی تاخیر ممکن ہو کر دی جائے، یہ وہ لوگ ہیں جو الیکشن میں اپنا مستقبل تاریک دیکھتے ہیں اس لئے تو وہ کبھی مارشل لاء اور کبھی جوڈیشل مارشل لاء کی درفنطنیاں بھی چھوڑتے رہتے ہیں حالانکہ چیف آف آرمی سٹاف بار بار اس کی تردید کر چکے ہیں اور حال ہی میں چیف جسٹس نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ آئین میں کسی جوڈیشل مارشل لا کا کوئی تصور نہیں لیکن کنفیوژن پھیلانے والے بہرحال اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کو بھی اس سارے پس منظر میں اور اپنی مخصوص عینک سے دیکھا، حالانکہ عدالتوں کے اندر اس وقت عوامی مفاد کے جو مقدمات زیر بحث ہیں اس حوالے سے جو فیصلے آ رہے ہیں ان پر عمل درآمد حکومت نے ہی کرنا ہے اور عدالت حکومت کو ہی احکامات صادر کرتی ہے۔ عدالتی احکامات کے نتیجے میں اگر عوام کو ریلیف مل رہا ہے یا ان کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کسی نہ کسی انداز میں حل ہو رہے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے اور اگر ملاقات کے نتیجے میں ایسے معاملات اچھی طرح سٹریم لائن ہو جاتے ہیں تو اس پر اظہار مسرت ہونا چاہئے۔ اس طویل خوشگوار ملاقات کے نتیجے میں اگر عوام الناس کو مزید اچھی خبریں سننے کو ملتی ہیں تو اس کا خیرمقدم ہی کرنا چاہئے۔ حکومت اگر اپنے رکے ہوئے مقدمات کی سماعت کو جلد نپٹانے کی طرف چیف جسٹس کی توجہ دلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس میں بھی عوام الناس کا بھلا ہوگا، عدالت بھی اس کے لئے کوشاں ہے تو پھر ملاقات کو تحسین کی نگاہ سے ہی دیکھا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...