پشتون تحفط موومنٹ

پشتون تحفط موومنٹ
پشتون تحفط موومنٹ

  


پچھلے پندرہ سال سے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی غیرمعمولی طوالت نے قبائلیت کے مضبوط ڈھانچے کو منہدم کر کے اس پولیٹکل سسٹم کو درھم برہم کر دیا جو ڈیڑھ سو سال سے قبائل کی حیات اجتماعی کو ریگولیٹ کرتا رہا،اس لئے حالات کا جبر جب ان متحرک و فعال قبائل کو آئی ڈی پیز بنا کے بندوبستی علاقوں کی طرف کھینچ لایا تو یہاں کی متضاد سوسائٹی نے معاشی،سیاسی اور فکری تنوّع دیکر قبائلیوں کی نوجوان نسلوں کو زندگی کے ہمہ گیر شعور سے مربوط کر دیا اور یہی لذت خیال بالآخر اس بہار پشتون کا سبب بنی، جس نے ریاست کے دانتوں سے پسینہ نکال دیا ہے،اگر ہماری فورسیز مختصر عرصہ میں کام مکمل کر کے فاٹا سے واپس پلٹ آتیں تو یہاں زندگی کے اجتماعی وجود میں اتنی گہری تبدیلیاں رونما نہ ہوتیں، لیکن عساکر کا لمبا قیام دیگر قباحتوں کے علاوہ مقامی آبادی کے بنیادی انسانی حقوق کی تحدید اور سیاسی آزادیوں کو تہہ و بالا کرنے کا سبب بنا تو قبائلیوں کے سوچنے کے انداز بدل گئے۔

حالات کے اسی تناظر میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹ لیڈر منظور پشتون نے دو سال قبل محسود تحفظ موومنٹ کی بنیاد رکھ کے جنگ زدہ قبائلی علاقوں میں اپنے قبیلہ کے انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کی بحالی کی بات کی، جسے محدود دائرہ میں پذیرائی تو ملی، لیکن جبریت کے سائے کم نہ ہوئے،ادھر وقت کی سرکش لہروں نے سوشل میڈیا کے سرعت پذیر رابطوں کی تدوین کے ذریعے بہت جلد اس تحریک کو پشتون تحفظ موومنٹ کے لبادے پہناکر فاٹا کے علاوہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں تک پھیلا دیا،چنانچہ جب کراچی میں پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلہ میں جاں بحق ہونے والے خوبرو نوجوان نقیب اللہ محسود کی موت کا ماتم اٹھا تو اس نے پشتون تحفظ موومنٹ کو قومی اور عالمی سطح پر نمایاں ہونے کے مواقع دیکر پختون قوم پرستی کی سیاست کرنے والی روایتی جماعتوں کو بھی نوجوانوں کی اسی تحریک کی پشت پر لا کھڑا کیا، یہی رجحان دراصل پشتون سیاست کا مرکز ثقل تبدیل کرنے کا سبب بنے گا۔

پختون تحفظ موومنٹ نے نقیب اللہ قتل کیس کے ملزم ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے گیارہ دنوں پر محیط دھرنا دیکر قومی قیادت سے بھی اپنا لوہا منوا لیا،دھرناکے خاتمہ پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے دوران پی ٹی ایم نے جو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اس میں راؤ انوار کی گرفتاری کے علاوہ قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی،وطن کارڈ اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی جیسے مطالبات شامل تھے،بعداز خرابیِ بسیار،حکومت نے بیک جنبش قلم تمام مطالبات منظور کر کے معاملات کو سلجھانے کی طرف پیش قدمی کی، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے وطن کارڈ کے خاتمہ کا اعلان اور لینڈ مائینز کی صفائی کا حکم دے کر قبائلی علاقوں میں قائم چیک پوسٹوں کے وجود کو علامتی بنا دیا (جس کے اثرات محسوس کئے جا رہے ہیں) وزیراعظم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کمشن کو حکم دیکر تحقیقات شروع کرا دی ہیں، لیکن اب راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ نے 60 ہزار پشتونوں کے خون کا حساب مانگ لیا،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تحریک کے اہداف غیر واضح اور مقاصد سیاسی ہیں۔

بلاشبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں بیرونی قوتوں کے لئے کسی بھی ابھرتی ہوئی تحریک کو بالواسطہ مینیج کرنا بعیدازقیاس نہیں، لیکن پشتون نوجوانوں کی اس تحریک کے محرکات مقامی ہیں اور ان میں سے کچھ جائز بھی ہیں،اس لئے ان شوریدہ سر نوجوانوں پر غداری کا لیبل چسپاں کرنے کی بجائے انہیں زندگی کے اجتماعی دھارے سے کٹنے سے بچایا جائے۔

اگر ہم پشتونوں کے جغرافیائی سماج پر نظر ڈالیں تو خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بسنے والے پشتونوں کی اکثریت آسودہ حال اور پرامن زندگی گزارنے کے علاوہ بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے بہرہ ور دکھائی دیتی ہے،جنگ دہشتگردی سے متاثرہ فاٹا کے لاکھوں قبائلی بھی پوری آزادی کے ساتھ ملک کے طول و عرض میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے علاوہ سماجی وظائف کی بجاآوری میں مطلقاً آزاد ہیں،ہزاروں قبائلی فوج اور عدلیہ سمیت ملک کے سرکاری اداروں میں اعلی ترین مناصب پر فائز ہونے کے علاوہ قومی دھارے کے میڈیا اور پارلیمنٹ میں موثر نمائندگی رکھتے ہیں،حکومت نے پچھلے ستّر سال میں فاٹا کے عوام کو سی ایس ایس،میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلوں کے کوٹہ کے علاوہ غیر معمولی معاشی مراعات کی فراہمی سمیت قبائلی علاقوں میں سڑکوں،ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قیام پر اربوں ڈالرز خرچ کئے،اس لئے محرومیوں کا واویلا اور امتیازی سلوک کی پکار فریب سیاست کے سوا کچھ نہیں،اگر کسی نے محرومیوں کی تلخیوں کو سمجھنا ہو تو اندروں سندھ اور بلوچستان کے بے آب و گیاہ میدانوں اور مہیب پہاڑوں میں جا کر دیکھیں،جہاں غربت، جہالت اور پسماندگی کا راج ہے اور جہاں فرسودہ جاگیرداریت اور سرداری نظام کی یبوست تلے انسانیت ایڑیاں رگڑتی نظر آتی ہے،بلوچستان میں کمزور لوگ اکبربگٹی اور خیر بخش مری کے گھر کی طرف رخ کر کے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور سندھ میں غریبوں کی بیٹیوں کے مستقبل کے فیصلے وڈیرے کرتے ہیں،شکر ہے فاٹا میں سماجی مساوات اور خوبصورت روایت سے مزین معاشرے کے علاوہ پرکشش مراعات کی بدولت عام آدمی بھی باعزت زندگی گزارنے پر قادر ہے۔

خیبر سے گوادر اور کشمیر سے کراچی تک اس ملک کے چپہ چپہ پر پشتونوں کی ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروبار پھیلے ہوئے ہیں،ہمیں ملک کے طول و عرض اور ریاستی اداروں،بالخصوص فوج اور عدلیہ، میں سندھی اور بلوچ تو نظر نہیں آتے، لیکن اس کے برعکس لاکھوں پشتون آپ کو ملک کے کونہ کونہ میں ملازمتیں اور مزدوری کرتے نظر آئیں گے۔اس لئے ہماری تقدیر کے مالک گھبرائیں نہیں پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں اتنے وسیع معاشی مفادات رکھنے والے پشتونوں کا اس ملک سے علیحدگی کا تصور محال ہے۔

اگر ریاستی ادارے پشتون تحفظ موومنٹ کو ملک دشمن تحریک ثابت کر کے کچلنے کی حرکت سے باز رہے تو نوجوانوں کی یہ تحریک پشتون سماج کو تازہ دم سیاسی قیادت فراہم کر کے اچکزئی اور اسفند یار فیملی کی پشتون سیاست پر مستقل اجارہ داری کے خاتمہ پر منتج ہو گی اور یہ لبرل نوجوان قبائلی سماج پر سے مولانا فضل الرحمٰن کے اثرات کو بھی زائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

بلاشبہ پشتون نوجوان ایک کھوئے ہوئے نصب العین کے لئے صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں،جو منتشر قبائلی سماج کو خوف سے آزادی دلانے میں کامیاب ہوا تو نئی قیادت طلوع اور پرانے سیاست دان ڈوب جائیں گے۔

ہم یہاں تحریک طالبان میں پشتونوں کی تلویث اور اس کے مضمرات پر بحث نہیں کرنا چاہتے،تاہم ہمارے خیال میں پی ٹی ایم واقعی بہار پشتون اور ایک صحت مند سیاسی تحریک ثابت ہو گی، اس سے ٹکرانے کی بجائے محب وطن اور فعال نوجوانوں کے اس گروہ کو قومی دھارے میں شامل رہنے کی راہ دی جائے تو امید واثق ہے کہ یہ ہمارے سیاسی وجود کے لئے تازگی و درخشندگی کا وسیلہ بنیں گے،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور سوشل میڈیا کی وسعت کے باعث قومی اداروں پر تنقید کے رجحان کو روکنا ممکن نہیں رہا،مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں جو سیاست کرے گا۔ اس پر تنقید تو ہو گی۔

اس معاملہ میں زیادہ حساس ہونے کی ضرورت نہیں ،تاہم اگر ملکی ماحول میں سیاسی آزادیوں کی غیرمشروط بحالی ممکن بنا دی جائے تو منتخب لیڈر شپ ذہنی لچک اور جمہوری عمل کے ذریعے افراط و تفریط کو ہموار کر سکتی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کو بھی ساٹھ ہزار پشتونوں کے خون کا حساب مانگنے جیسے قبائلی عصبیتوں پر محمول رویّوں کو ترک کر کے نیلسن میڈیلا کی طرح عزیمت کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔

بیشک ہم سب کی بقا اخوت انسانی کے جمہوری تصور میں مضمر ہے، مہذب قومیں سیاسی و سماجی اختلافات کے حل اور اپنے مستقبل کے فیصلے دست و گریباں ہو کر نہیں ،بلکہ سر جوڑ کے کرتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...