ہوئی صبح اور گھر سے کان پررکھ کر قلم نکلے!

ہوئی صبح اور گھر سے کان پررکھ کر قلم نکلے!
ہوئی صبح اور گھر سے کان پررکھ کر قلم نکلے!

  


میں نے ستمبر 1968ء میں آرمی اس وقت جوائن کی جب ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کو پورے تین سال گزر چکے تھے۔ اس سے پہلے محکمہ تعلیم میں نوکری کی۔

گورنمنٹ کالج رحیم یارخان اور گورنمنٹ کالج ملتان کی لائبریریوں کی یاترا میرا معمول ہوا کرتا تھا۔چونکہ 1965ء کی جنگ کا جادو سر پر سوار تھا اس لئے اس جنگ پر کسی ایسی کتاب یا میگزین کی تلاش رہتی جو میری یہ الجھن دور کر سکے کہ اس جنگ کی پروفیشنل تفصیلات کیا تھیں۔

ریڈیو اور ٹی وی پر ترانوں کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ٹیلی ویژن اگرچہ 1964ء میں متعارف ہو چکا تھا لیکن ہنوز اس کا بچپن تھا جو تکنیکی مفلسی اور ناداری کا شکار تھا۔اس لئے اس پر سنوائے اور دکھلائے جانے والے ترانے ہی غنیمت تھے۔ اخبارات میں بھی سیاسی خبروں اور تبصروں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا تھا۔

مختلف غیر عسکری موضوعات پر ایڈیشن اور خصوصی ایڈیشن نکلا کرتے تھے لیکن 1965ء کی جنگ پر ایسی تحریریں بہت ہی کمیاب تھیں جو افواج پاکستان کی پروفیشنل کارکردگی کے اندر جھانکنے کی پیاس بجھاتیں۔

لائبریریوں میں بھی مذہبی لٹریچر کے علاوہ ادبی اور سیاسی لٹریچر کی بھرمار تھی۔ ناول، ڈرامے، افسانے، تاریخ، داستانیں، شاعری کے دیوان اور اسی طرح کے دوسرے موضوعات سے شیلف بھرے ہوئے تھے۔

لیکن فوج میں آیا تو دیکھا کہ ملٹری اسٹیشن لائبریریوں میں فوجی موضوعات کے علاوہ دوسرے موضوعات و مضامین پر لٹریچر کا وہی کال تھا جو سویلین لائبریریوں میں عسکری لٹریچر کا تھا!

مزید برآں فوجی لائبریوں میں جو کچھ بھی تھا اس کا 90 فیصد حصہ انگریزی زبان کی تصانیف پر مشتمل تھا۔ 1965ء کی جنگ کے علاوہ اب تک دنیا جہان میں لڑی گئی جنگوں کے لٹریچر میں ایک بات بہت نمایاں تھی کہ 70سے 80 فیصد لٹریچر کے مصنف انگریز تھے۔

مجھے تلاش رہتی کہ کسی پاکستانی یا مسلمان مصنف کی کوئی کتاب ہاتھ لگے لیکن باوجود اس کے کہ 1965ء کی جنگ نے عسکری ادب کے کئی دریچے پاکستانیوں پر کھول دیئے تھے، لیکن چونکہ عوام کا مبلغِ علم پیشہء سپاہ گری کے جملہ موضوعات کے سلسلے میں بس واجبی سا تھا اس لئے ان کھڑکیوں سے باہر کی تازہ ہواؤں کے جھونکے خال خال ہی آتے محسوس ہوتے تھے۔پھر بھی ایک بات جو مجھے بُری طرح کھٹکتی تھی وہ جنگ و جدال کے موضوع پر افرنگی مصنفین کی اجارہ داری تھی۔

مختلف جنگوں کی کتابوں پر الماریاں بھری ہوئی تھیں اور ہر آفیسرز میس (Mess) میں بھی چھوٹے پیمانے پر ایک لائبریری موجود تھی جس میں انگریز مصنفوں، مولفوں اور مترجموں کی ہر ماہ تازہ بتازہ موضوعاتِ جنگ پر اتنی کتابیں آتی تھیں جن کو دیکھ دیکھ کر رشک آتا کہ کاش ان میں کوئی مسلمان یا بالخصوص پاکستانی مورخ بھی ایسا ہوتا جو حدیثِ دفاع پر زبان کھولتا۔

فوج میں آنے کے تقریباً 15،20سال بعد تک انگریز جرنیلوں اور سویلین مصنفوں کی تصانیف دیکھ دیکھ کر میرا یہ احساس گہرا ہوتا چلا گیا کہ انگریز اور دوسرے یورپین ملٹری لیڈر نہ صرف صاحبِ سیف ہوتے ہیں بلکہ ان کی اکثریت صاحبِ قلم بھی ہوتی ہے۔

میں حیران ہوتا تھا کہ یورپ اور امریکہ کی مائیں کیا کھا کر ان سپوتوں کو جنم دیتی ہیں کہ ہر افرنگی ملٹری لیڈر نہ صرف جنگ لڑنے کی تمام جسمانی اور نفسیاتی اہلیتوں سے مالا مال ہوتا ہے بلکہ اس کی تحریروں میں بھی بہترین مصنف کی ساری خوبیاں جمع ہوتی ہیں۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے موضوع پر تو اتنا لٹریچر موجود تھا جس کو پڑھنے کے لئے ایک عمر درکار تھی۔ ایسے ایسے کارنامے، معرکے اور جنگی مقابلے بیان کئے ہوتے تھے جن میں حقیقی جنگ کی تفصیلات اتنے دلچسپ پیرایوں میں لکھی ہوتی تھیں کہ اردو زبان کے بہترین ناولوں کی ڈکشن بھی ان کے سامنے ماند نظر آتی تھی۔

اس کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی لڑائی کے خاکے، نقشے اور تصاویر دیکھ دیکھ کر ان کے حقیقی ہونے کا رعب ہمیشہ مجھ پر طاری رہا کرتا۔ دوسری عالمی جنگ کے ہیروز میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، روس، جاپان اور اٹلی کے بیشتر کمانڈرز نہ صرف میدان جنگ کے ہیرو تھے بلکہ میدانِ تحریر کے شاہسوار بھی تھے۔۔۔ یقین کیجئے کہ جس رفتار اور تعداد سے آج کل پاکستان میں شعر و شاعری اور داستان گوئی وغیرہ پر ہر روز پے بہ پے درجنوں تصانیف ہمارے اردو بازاروں میں آتی ہیں ان سے کہیں زیادہ رفتار اور تعداد سے یورپی اور امریکی بک شاپس پر درجنوں نہیں بیسیوں تصانیف قاری کو پڑھنے کے لئے ملتی ہیں۔۔۔ میں ایک طویل عرصے تک اس غلط فہمی میں مبتلا رہا کہ ان کے مصنف انشا پردازی اور تحریر کے میدانوں کے بے مثال شاہسوار ہیں۔ اس خیال نے میرے اندر ایک قسم کا قومی احساسِ کمتری بھی پیدا کر دیا۔ مجھے سخت کوفت ہونے لگی کہ 1965ء کی جنگ کے بعد 1971ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل وار کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جتنے بھی آپریشن کئے گئے ہیں ان پر ملکی لکھاریوں کے مقابلے میں غیر ملکی لکھاریوں کی تعداد زیادہ ہے۔

بلکہ یہ بھی دیکھا کہ ان لکھاریوں میں کئی مستورات بھی ہیں۔ پاکستانی مستورات تو ناول، افسانے، شاعری، کھانا بنانے کے طریقے، سفرنامے اور مذہبی موضوعات پر لکھ لکھ کر نام کماتی ہیں لیکن یہ غیرملکی اور خصوصاً برٹش اور امریکن مستورات کس گوشت پوست اور دماغ سے متصف ہیں کہ جنگ، گلوبل سٹرٹیجی، دفاع اور اس قسم کے ’’مردانہ موضوعات‘‘ پر مردوں سے زیادہ گہری نظر رکھتی ہیں۔۔۔ بس یہی سوچ تھی اور یہی تجسس تھا جس نے آخر میرے احساسِ کمتری کی محرومی کا علاج کیا اور مسلم مصنفین کے اس قحط پر سے پردہ اٹھایا جو ایک طویل مدت سے میری دانست پر پڑا ہوا تھا۔۔۔ میں اس کی کچھ تفصیل قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

مغربی ممالک بالخصوص امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں عسکری تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جس نے آج تک کسی جنگ میں شرکت نہیں کی۔

البتہ بطور صحافی وہ ہر جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور لڑاکا سپاہیوں اور افسروں کی صحبت میں روز و شب گزارتے ہیں لیکن وہ جنگی مناظر کی محض تصویر کشی ہی پر مامور ہوتے ہیں۔ ان کو ایسے بیش قیمت کیمرے دیئے جاتے ہیں جو بہت دور سے لڑائی کے مناظر فلم بند کر لیتے ہیں۔

پھر وہ ان افسروں کے ساتھ گھل مل کر کسی مخصوص معرکے یا لڑائی کی وہ تفاصیل معلوم کرتے ہیں جو صرف جنگجو سپاہیوں کا مقدر ہوتی ہیں۔ وہ اس گفتگو ،فلم اور مبلغِ معلومات کو ساتھ لے کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور بڑے آرام دہ ماحول میں بیٹھ کر اس معرکے کی ایسی تفصیل، ایسی زبان اور ایسے اندازِ نگارش میں قلم بند کرتے ہیں جس میں پروفیشنل ازم کی ساری رعنائیاں اور نزاکتیں موجود ہوتی ہیں۔

اس کے بعد وہ اپنے مسودے کو لے کر اس معرکے کے ملٹری کمانڈر کے پاس جاتے ہیں اور اس سے بحث و مباحثہ کرنے کے بعد اپنی تحریر میں اگر کوئی واقعاتی لغرشوں اور پیشہ ورانہ کوتاہیوں کا شبہ ہو تو اس کو دور کرتے ہیں۔ لیپ ٹاپ تو ہمہ وقت ان کے پاس ہوتا ہے اور وہ دوبارہ کسی زیادہ آرام دہ مقام پر بیٹھ کر اپنے مسودے کی نوک پلک درست کرتے رہتے ہیں۔

اس کے بعد اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔۔۔ وہ محاذ کے سینئر ترین کمانڈر کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔ (خوبرو صحافی خواتین کی جرنیلوں تک رسائی اب کوئی حیران کن خبر نہیں رہی۔

سب جانتے ہیں کہ وہ آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام وصول کرنے میں یدِطولیٰ تجربہ رکھتی ہیں)

اب معاملہ یہ زیر بحث آتا ہے کہ کیا محاذ کے اعلیٰ کمانڈر اپنا نام بطور مصنف اس مسودے پر دینا چاہتے ہیں؟۔۔۔ اس کاوش میں پبلشرز اور بک سیلرز بھی شریک ہوجاتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں ایسے کئی پبلشنگ ہاؤس ہیں جن کی تخصیص عسکری موضوعات پر کتابیں شائع کر کے ان کو تقسیم کرنا ہے۔

انگریزی زبان چونکہ ایک بین الاقوامی زبان ہے اور دنیا کے سارے براعظموں میں ان کو پڑھنے اور سمجھنے والے کروڑوں لوگ/ قاری موجود ہیں اس لئے کتاب کی میگا سیل میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اس ایکسر سائز میں سب کا بھلا ہو جاتا ہے۔ نہ صرف پبلشر اور بک سیلر مالی طور پر نہال ہو جاتا ہے بلکہ اس کے ’’جعلی مصنف‘‘ (یعنی سینئرکمانڈر) کا پروفیشنل قد و قامت بھی اُونچا ہو جاتا ہے۔

افسروں کی برادری میں وہ سینئر آفیسر اگلی پروموشن کے لئے میدان صاف کر لیتا ہے اور ’’اصلی مصنف‘‘ بھی اپنی مالی صحت کا کافی و شافی انعام حاصل کر لیتا ہے۔ یعنی اس کاروبار میں سب کا فائدہ ہوتا ہے۔ زیادہ منافع پبلشر اور اصل مصنف کے حصے میں آتا ہے۔

پھر وہ اصل مصنف، پبلشروں کی ڈائری میں ایک بڑا نام بن جاتا ہے جو اگرچہ پردۂ سکرین سے غائب رہتا ہے لیکن اس غیاب میں ہی اس کی حضوری اور مشہوری پوشیدہ ہوتی ہے۔

کئی اصل مصنف اپنا نام کتاب کے سرورق پر دینا چاہتے ہیں۔ میں نے بہت سی دلچسپ اور مشہور تصانیف میں جعلی مصنف کا نام پہلی سطر میں اور اصلی مصنف کا نام دوسری سطر میں لکھا دیکھا ہے۔

اور قارئین نے بھی بار ہا ایسی کتابیں دیکھی ہوں گی جن کے دو یا دو سے زیادہ مصنفین ہوتے ہیں۔۔۔اس مشترک کاروبار میں بھی سب کا فائدہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں البتہ اس کلچر کو فروغ نہیں مل سکا وگرنہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان آرمی اور پاک فضائیہ نے جو آپریشن کئے ان کی دلچسپ اور حقیقی داستانیں اور تفاصیل (انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں) قارئین کو پڑھنے کو ملتیں۔

ویسے اس کلچر کا تعارف پاکستان میں کبھی کبھار دیکھنے کو مل بھی جاتا ہے۔ مجھے کئی ایسی تصانیف کا ذاتی طور پر علم ہے جن کا اصل مصنف کوئی اور ہے اور نام کسی اور مصنف/ مصنفہ کا لکھا ہوا ہے۔۔۔ یہ موضوع بجائے خود مزید بحث و مباحثے کا متقاضی ہے۔

میرا خیال ہے اگر قارئین اس زاویۂ نظر سے دیکھیں گے تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ یورپ اور امریکہ میں عسکری موضوعات پر آئے دن تصانیف کے انبار کیوں لگتے ہیں اور پاکستان میں اس کا قحط کیوں ہے۔۔۔

آخر میں اگر یہ بات بھی عرض کروں گا کہ مغربی دنیا اس کاروبار میں اصل مصنفین زیادہ تر ’’یہودی‘‘ ہیں جو کروڑوں ڈالروں میں کھیلتے ہیں۔ یہ مغربی عسکری صحافت کا وہ پہلو ہے جس کی نقاب کشائی اگرچہ پاکستان میں غیر عسکری تصانیف میں بھی گاہ گاہ دیکھنے کو ملتی ہے لیکن عسکری موضوعات میں ایسے ’’پاکستانی یہودیوں‘‘ کی شدید کمی ہے۔

اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہیے۔ انڈیا میں یہ کلچر آہستہ آہستہ فروغ پا رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اس طرف دھیان دینا چاہیے تاکہ کوئی ہیروئن کسی لکھاری سے رابطہ کرکے یہ ڈیمانڈ کرے کہ:

چٹھی ذرا سیّاں جی کے نام لکھ دے

حال میرے دل کا تمام لکھ دے

مزید : رائے /کالم


loading...