آسٹریلیا سے در آمدشہد کی مکھیوں کی راولپنڈی میں افزائش شروع

آسٹریلیا سے در آمدشہد کی مکھیوں کی راولپنڈی میں افزائش شروع

راوالپنڈی(اے پی پی) محکمہ زراعت پنجاب نے تحقیقی مقاصد کے لیے 40 برس بعد آسٹریلوی نسل کی شہد کی مکھیاں در آمد کر لیں ،شعبہ مگس بانی راولپنڈی میں آسٹریلیا سے در آمد شدہ شہد کی مکھیوں کی افزائش شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ذرائع نے بتایاکہ صوبے میں شہد کی مکھیوں کی افزائش کے لیے آسٹریلوی نسل کی شہد کی مکھیاں در آمد کی گئی ہیں اور شعبہ مگس بانی راولپنڈی میں ان کی افزائش کا عمل تیزی سے جا ری ہے ۔انھوں نے بتایاکہ اس سے قبل 1977ء میں تحقیقی مقاصد کی غرض سے غیر ملکی نسل کی شہد کی مکھیاں در آمد کی گئی تھیں ۔شعبہ مگس بانی راولپنڈی کے انچارج اینٹامالوجسٹ آصف رزاق نے اے پی پی کو بتایاکہ محکمہ زراعت پنجاب نے تجارتی بنیادوں پر شہد کی مکھیوں کی افزائش کے لیے آسٹریلوی نسل کی مکھیوں کی افزائش کا عمل شروع کر دیا ہے اورمکھیوں کی موسمیاتی نگہداشت کی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ آسٹریلیا سے در آمد شدہ شہد کی مکھیوں کے لیے راولپنڈی کا موسم انتہائی سازگار ثابت ہوا ہے اور آسٹریلیا سے منگوائی گئی ملکہ مکھیوں کے ایک فلاک سے متعدد نئے فلاک کی افزائش کی جا چکی ہے ۔

۔آصف رزاق نے توقع ظاہر کی آئندہ دو برس تک کے عرصہ میں شعبہ مگس بانی راولپنڈی پنجاب بھر میں کاشتکاروں کو ان مکھیوں کی تجارتی بنیادوں پر فراہمی شروع کر دے گا ۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار دیگر نقد آور فصلات کی کاشت کے ساتھ ساتھ شہد کی مکھیاں پال کر نہ صرف اپنی آمدن میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ شہد کی مکھیوں کے عمل زیرگی کی بدولت فصلات کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ شہد کی مکھی پھولوں اور پودوں کے عملِ زیرگی میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔شہد کی مکھیوں کا نر اور مادہ پولن کے ملاپ میں انتہائی اہم کردار ہے اوریہ مکھیاں گرین ہاؤسز اور ہائی ٹنل فارمنگ کے دوران ایک نہایت اچھی پولینیٹر ثابت ہوتی ہیں۔ان کی بدولت پودوں کے جنسی اختلاط کا عمل باآسانی مکمل ہوتا ہے اور یہ مکھیاں نر اور مادہ گیمیٹ کے ملاپ اور پودوں کی نشوونما کا باعث بنتی ہیں۔

مزید : کامرس


loading...