حکومت متفقہ معاشی ایجنڈے پر یقین رکھتی ہے، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا

حکومت متفقہ معاشی ایجنڈے پر یقین رکھتی ہے، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا

لاہور( کامرس رپورٹر) صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ حکومت ایک متفقہ معاشی ایجنڈے پر کامل یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مختلف متعلقہ حلقوں جن میں نجی شعبہ اور ماہرین معیشت بھی شامل ہیں،سے مشاورت کا سلسلہ آگے بڑھا رہی ہے تاکہ برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار معاشی پالیسی سامنے لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ حکومت میں کوئی بھی آئے، معاشی پالیسیاں حقیقی ضروریات اور متعلقہ حلقوں کی امنگوں کی ترجمان ہونی چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فریڈرک ایبرٹ سٹفٹنگ (ایف ای ایس) اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے تحت 'معاشی صورت حال اور مستقبل کی ترجیحات . کے زیر عنوان منعقدہ سمپیوزیم کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر قومی معیشت کے بارے میں دو اہم کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی جن میں ڈاکٹر حفیظ اے پاشا کی لکھی کتا ب ' پاکستان میں معاشی ترقی اور عدم مساوات''اور ڈاکٹر وقار احمد کی لکھی ہوئی کتاب 'پاکستان کا ایجنڈا برائے معاشی اصلاحات' شامل تھیں۔ قومی معیشت کے متعدد اہم پہلووں کے حوالے سے دونوں کتابوں کے چیدہ مندرجات بھی حاضرین کے سامنے رکھے گئے جن میں ممتاز معیشت دان، کاروباری اور صنعت سے وابستہ شخصیات اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ حکومت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مہنگی توانائی اور ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹیں تاہم انہیں دور کرنے کے لیے کاوشیں کر رہی ہے ۔

اور آئندہ ہ بجٹ میں اس حوالے سے عملی اقدامات دیکھے جا سکیں گے۔ انہون نے کہا کہ پاکستان مٰں اصل مسئلہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت اس پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہماری پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب میں جتنی بھی سرمایہ کاری ہوئی وہ ہماری گروتھ ریٹ پالیسی کا نتیجہ ہے جبکہ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میںیہ ترقیاتی فنڈز کا نتیجہ ہے جو صوبے کو اس کے مخصوص حالات کی وجہ سے مہیا کئے گئے۔ ممتاز معیشت دان ڈاکٹر حفٰیظ اے پاشا نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ مستقبل کا معاشی ایجنڈا ترتیب دیتے ہوئے ملکی معیشت کو درپیش اہم چیلنجز پر تفصیلی غور کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں عام انتخابات جلد متوقع ہیں، ماہرین قومی معیشت کے معاملات کو بعد از سی پیک کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور بنیادی معاشی اصلاحات انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہیں، منسفانہ معاشی اصلاحات کی اہمیت انتہائی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کا بحران حکومت کے لیے فوری توجہ کا حامل ہونا چاہئے جو آگے چل کر سنگین ترین شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح پی آئی اے اور سٹیل ملز سمیت گیارہ اداروں کی نجکاری معیشت کی اصلاح کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹیکس نظام بہتری کے لیے سنجیدہ کاوشوں کا طلبگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں درپیش مسائل کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے معشی طرز فکر میں تبدیلی لانی ہو گی تاکہ اس کی مدد سے معاشی پالیسی کے عمل کو آگے بڑھاہا جا سکے۔ انہوں نے کہا آنے والے دنوں میں پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہو گا، ان کی نوعیت معاشی ڈھانچے کی ساخت سے متعلق ہے جس میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید : کامرس


loading...