حکومت کا رواں سال 60لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کا پیداواری ہدف مقرر

حکومت کا رواں سال 60لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کا پیداواری ہدف مقرر

لاہور(کامرس رپورٹر )حکومت پنجاب نے رواں سال کے دوران 60لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کا پیداواری ہدف مقرر کر دیا ہے،کاشت کے سیزن میں غیر منظور شدہ ، ناقص و غیر معیاری بیج کی فروخت پر بھی سختی سے پابندی عائد کر دی ہے۔محکمہ زراعت توسیع کے تمام صوبائی ، ڈویژنل ، ضلعی ، تحصیل ، سٹی افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں نہ صرف کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف مکمل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے لائیں بلکہ کپاس کے غیر منظور شدہ ، بغیر تصدیق ناقص و غیر معیاری بیجوں کی فروخت بھی سختی سے روکیں کیونکہ ایسے بیجوں کی فروخت و کاشت سے ایک طرف کاشتکاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اور دوسری طرف حکومت کی جانب سے کاشت کے مقررہ اہداف بھی حاصل نہ ہوتے ہیں۔محکمہ زراعت کے ذرائع نے بتایاکہ حکومتی ہدایات کی روشنی میں کاٹن کنٹرول ایکٹ کو فوری نافذ العمل کرنے سمیت کاٹن انسپکٹرز کیلئے خصوصی تربیتی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ غیر معیاری اور غیر تصدیق شدہ بیجوں کااستعمال ہے اورایک اندازے کے مطابق پنجاب میں گزشتہ سال صرف 13فیصد تصدیق شدہ بیج کاشت کیاگیا جبکہ امریکا میں تصدیق شدہ بیجوں کی کاشت کی شرح 99، چین میں 95 ، بھارت میں 83 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایاکہ دنیابھر میں اس وقت 60سے زائد ممالک کپاس کاشت کر رہے ہیں جن میں پاکستان کل پیداوار کے لحاظ سے چوتھے جبکہ فی ایکڑ پیداوار کے لحاظ سے 16ویں نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر کاشتکار تصدیق شدہ اور معیاری بیج استعمال کریں تو کپاس کی پیداوار میں شاندار اضافہ کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں پنجاب کے زمیندار وں ، کاشتکاروں ، کسانوں پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ کپاس کی ملکی مجموعی پیداوار کا 80فیصدحصہ پنجاب میں کاشت ہوتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کپاس دنیا کی ایک اہم ترین ریشہ دار فصل ہے جس کی بھرپور کاشت کرکے ملکی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ خطیر زرمبادلہ بھی حاصل کیاجاسکتاہے۔

مزید : کامرس


loading...