ججزکیخلاف جوڈیشل ریفرنسز کی اوپن سماعت کیلئے دائردرخواستوں پر فیصلہ محفوظ

ججزکیخلاف جوڈیشل ریفرنسز کی اوپن سماعت کیلئے دائردرخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے ججزکیخلاف جوڈیشل ریفرنسز کی اوپن سماعت کیلئے دائر درخواستوں میں فریقین کے وکلا کے دلا ئل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو مناسب وقت پر سنایا جائے گا ۔ بدھ کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس فرخ عرفان کی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے مسلسل دوسرے روزدلائل جاری رکھتے ہوئے کہااوپن پبلک سماعت میں ججز کو اپنے دفاع کا موقع ملنا چاہیے۔سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ پر نظر ثانی درخواست دائر نہیں ہو سکتی اور کونسل کے فیصلہ کیخلاف ریلیف کیلئے معزز جج کے پاس کوئی فورم دستیاب نہیں جبکہ اوپن ٹرائل سے شفافیت کو تقویت ملتی ہے۔ معزز ججز نے اپنی عدالت میں مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی، ان کیخلاف شکایت پر کونسل کی کاروائی کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ جسٹس عظمت سعیدنے کہاسپریم جوڈیشل کونسل کا ٹرائل خفیہ نہیں ہوتا،سپریم جوڈیشل کونسل کے ٹرا ئل میں صرف عوامی سماعت نہیں ہوتی،جو ثبوت آتے ہیں ان کا کونسل میں جائزہ لیا جاتا ہے اور شواہد کو دیکھ کر فیصلہ پبلک کیا جاتا ہے۔حامد خان کا کہنا تھا سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے کیس میں بھی کاروائی ان کیمرا کی گئی ، 5مختلف فیکٹرز پرکاروائی ان کیمراہوسکتی ہے ،عوامی تحفظ کیلئے سماعت ان کیمرا ہوسکتی ہے تاہم اوپن ٹرائل سے عوام کا عدلیہ پراعتماد بڑھتاہے ، عدالت کہہ چکی ہے کورٹ مارشل ٹرائل بھی اوپن ہوناچاہیے ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا عدالتی معاونین کی رائے یہی ہے ٹرائل اوپن ہوناچاہیے اسلئے کونسل کے ٹرائل پر اٹارنی جنرل کاموقف سننا پڑے گا ،حامد خان نے کہاحکومت کاموقف یہی ہے ٹرائل کھلی عدالت میں ہو ، جسٹس عظمت سعید نے کہاکیا عدالت حکومت کے موقف کی پابند ہے ؟واضح کہیں کونسل کے پاس رولز بنانے کااختیارنہیں یا یہ صاف کہہ دیں کونسل جج کیخلاف مس کنڈکٹ کی کاروائی نہیں کرسکتی ۔ایسا فیصلہ نہ کروائیں جو بعد میں مسائل کاسبب بنے ۔ حامد خان نے کہاعدالت کوکسی نامعلوم جگہ پر نہیں لے جاناچاہتا ،عدالت میرا موقف سن لے،کونسل کو آئین میں رولز بنانے کااختیار نہیں دیاگیا ۔جسٹس عظمت کا کہنا تھا ہم نے آج موجودہ قانون کے مطابق فیصلہ کر نا ہے اگر جوڈیشل کمیشن کے رولز نہیں ہوں گے تو کیا تقرریاں رک جائیں گی؟کیاایسی صورت میں جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گا ؟ حامد خان نے کہا ایسی صورت میں انھیں مشکلات ہوں گی جبکہ آئین میں ایک لفظ کی کمی بیشی کا معاملہ پارلیمنٹ کا ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا آ پکاکہناہے جہاں قوانین مرتب کرنے کااختیار دیناتھا آئین نے دیدیا ،حامد خان نے کہا افتخار چوہدری کیس میں معاملہ ریفرنس بدنیتی پر د ا ئر کرنے کاتھا۔کونسل کے ایک ممبر کی رائے دوسرے پر اثرانداز تو ہوتی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہااس عمر میں کون کسی دوسرے کا ا ثر لیتاہے میں جتنامرضی چاہوں ساتھ بیٹھے جج اثر نہیں لیتے، حامد خان نے کہا اختلافی نوٹ شروع ہونااچھی بات ہے ، جسٹس عظمت سعید نے کہا آپ کہتے ہیں رولز نہیں توسب ججوں کواجازت ہوجوچاہے کریں ہم آپ کے موکل کوکام سے نہیں روک سکتے ، حامد خان نے کہا جس جج کیخلاف کارروائی چل رہی ہووہ کونسل کاممبرنہیں بن سکتا ،حامد خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹا ر نی جنرل اشتراوصاف نے قانونی رائے دیتے ہوئے کہا سپریم جوڈیشل کونسل عدالت نہیں کیونکہ کونسل بنیادی حقوق کاتعین نہیں کرتی اور کو نسل فیصلہ نہیں اپنی سفارشات دیتی ہے ، سپریم جوڈیشل کونسل ایک منفرد ادارہ ہے یہ ایک آئینی باڈی ہے، کونسل کی کاروائی ٹرائل نہیں بلکہ انکوائری ہوتی ہے اسلئے کونسل کی کارروائی پر10-Aکی کارروائی کااطلاق نہیں ہوتا ۔اس دوران حامد خان نے کہا حکومت چاہتی ہے سما عت کھلی عدالت میں ہو،تاہم ہمیں اٹارنی جنرل کے بیان پر تحفظات ہیں کیونکہ اٹارنی جنرل نے حکومتی نہیں ذاتی رائے دی ہے،جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کیا ہم وزارت قانون کو کہیں کہ اٹارنی جنرل کی جگہ کسی اور کو بھیجیں؟ہمارے پاس اٹارنی جنرل ہی حکومت کے نمائندے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا زیر سماعت معاملے میں ریفرنس صدر مملکت کی جانب سے نہیں ہیں، جسٹس شیخ عظمت سعید نے لا ہو ر ہائیکورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفا ن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا حامدخان صاحب ایسی جگہ نہ لیکر جائیں جہاں سے واپسی ممکن ہو۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس فرخ عرفان کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو مناسب وقت پر سنایا جائے گا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...