ہمسایوں کو مدنظر رکھنا ہے، اردگرد سے غافل نہیں رہ سکتے: ناصر جنجوعہ

ہمسایوں کو مدنظر رکھنا ہے، اردگرد سے غافل نہیں رہ سکتے: ناصر جنجوعہ

اسلام آباد (آن لائن) مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے پاکستان کو غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ریاست اندر سے کمز و ر ہو تو روایتی خطرات کا سامنا ہوتا ہے، پہلے ریاست کو کھوکھلا اور بعد میں طاقت کے استعمال سے تباہ کیا جاتا ہے، دہشتگردی اور فرقہ واریت نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ فوج، قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور پولیس نے ملک کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں پاکستان کو درپیش غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز کے موضوع پر سیمینار سے خطاب میں مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجو عہ کامزید کہنا تھا پاکستان جیسی باہمت قوم کیلئے کچھ بھی کرنا مشکل نہیں، ہمیں دہشتگردی اور فرقہ واریت کو شکست دینا ہو گی، اپنے ہمسایوں کو بھی مدنظر رکھنا ہے اردگرد سے غافل نہیں رہ سکتے۔ ہمیں اپنے مستقبل اور آئندہ نسلوں کیلئے ایماندار ہونا پڑے گا ،بہت کم لیڈر اور جماعتیں فیڈ ریشن کیلئے مثبت کردار ادا کر رہی ہیں،علاقائیت اور صوبائیت کے نعروں میں 18 ویں ترمیم پر غور کرنا ہو گا۔ سوچیں کیا سب کی جان مال اور آبرو محفوظ ہے؟ صرف وہ محفوظ ہے جن کے پاس پیسہ اور طاقت ہے، مدارس کے تربیت یافتہ کیا کر رہے ہیں کون خیال کرے گا۔ تعلیم ، صحت ، غربت اور خوراک تک رسائی کے اعشاریے تسلی بخش نہیں ، ترقی کیلئے سماجی ناہمواری اور معاشی عدم توازن کو ختم کرنا ہو گا۔ کراچی اور فاٹا کو آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں سے صاف کیا جس میں ہمارے جوانوں نے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ توانائی بحران اور موسمیاتی تبدیلی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے انکاکہنا تھا پانی کے استعمال میں پاکستان چوتھا بڑا ملک ہے ۔ ہم اپنے بچوں کو خطرات اور درپیش مسائل پر تعلیم دے سکتے ہیں۔ ہر سال پاکستان میں 50 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں کیا ہم سالانہ 50 ہزار نوکریاں پیدا کر رہے ہیں اس پر ہمیں سوچنا ہو گا اور اقدامات بھی کرنے ہوں گے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...