سیاسی جماعتوں کے منشوروں میں ٹیکس اصلاحات بارے عوامی فورم

سیاسی جماعتوں کے منشوروں میں ٹیکس اصلاحات بارے عوامی فورم

لاہور(پ ر)سنگت ڈویلپمنٹ فاؤ نڈیشن اور انڈس کنسورشیم کے باہمی اشتراک سے یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب میں عام انتخابات 2018کے لئے سیاسی جماعتوں کے منشوروں میں ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے نکات شامل کروانے کیلئے عوامی مطالبات پیش کرنے کی خاطر "عوامی فورم"کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم لیگ(ن) سے ممبر صوبائی اسمبلی میاں وحید گل، پیپلز پارٹی سے ایم پی اے فائزہ ملک، تحریکِ انصاف سے ایم پی اے سعدیہ سہیل رانا،مسلم لیگ(ق) سے سابق ایم پی اے محترمہ آمنہ الفت،عوامی نیشنل پارٹی سے سیکرٹری جنرل جناب احسان وائیں، متحدہ قومی مومنٹ سے سیکرٹری انفارمیشن ناصر ویلم،بیداری پارٹی پاکستان سے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر شہزاد خان اور عوامی ورکرز پارٹی سے مرکزی نائب صدر عابدہ لیاقت چوہدری نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو نت نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے بعض منفی اثرات، عوام کی عمومی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔

غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ روپے کی قوت خرید کم ہو رہی ہے، تجارت کا خسارہ بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً مہنگائی کا طوفان ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔بلکہ ریاست بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ضرورتوں میں اضافہ اور وسائل میں کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو ایک طرف امکانات کو کم کرتا ہے دوسری طرف امیر اور غریب کے فرق کو بھی بڑھاتا ہے، آنے والا ہر انتخاب پاکستانی قوم کو ایک نئی امید دلاتا ہے۔ یہ اسی صورت مثبت نتائج برآمد کریں گے اگر انتخابی عمل کا حصہ بننے والی سیاسی جماعتیں عوام کو آئندہ کے بہتر پروگرام اور منشور پیش کریں۔شہناز رفیق پروگرام منیجرسنگت ڈویلپمنٹ فاؤ نڈیشن نے عوامی فورم میں شامل سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے منشور میں ان نکاط کو جگہ دیں،اقتصادی ترقی صرف اشرافیہ کے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے ہو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ-1 ویلتھ اور کیپٹل گیس ٹیکس کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔-2 ٹیکسوں میں استثنائی مراعات کو معقول اور باجواز بنایا جائے۔-3 ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں کمی کی جائے، بنیادی ضروریات پر ٹیکس ختم کیا جائے۔-4 تحائف پر ٹیکس کی سکیم متعارف کرائی جائے۔-5 کم از کم اجرت 35 ہزار روپے ماہانہ ہونی چاہئے۔-6 خوراک اور رہائشی کو بنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے مناسب حکمت عملی اختیار کی جائے۔-7 ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کو زیادہ وسیع آبادی کے مفادات اور شمولیت کی بنا پر اختیار کی جانے والی پالیسیوں پر مبنی بنایا جائے۔ پاکستان بھر کے باشعور شہریوں، سول سوسائٹی کے گروپوں، ٹریڈ یونین رہنماؤں اور شعبہ تعلیم سے منسلک ماہرین نے ’’ٹیکس جسٹس اتحاد‘‘ کو تشکیل دیا ہے جو ٹیکس کا ایک منصفانہ نظام کے خدوخال اجاگر کرنے کے لئے تحقیق پر مبنی ایڈووکیسی کی مختلف سرگرمیاں منظم کرتا ہے۔ تنظیم سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اس اتحادکی سرگرم ممبر ہے جس نے یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے شعبہ والنٹیئر سروسز اور سماجی بہبود کے تعاون سے یونیورسٹی ایڈیٹوریم نے مورخہ 27مارچ 2018عوامی فورم منعقد کیا ۔اس فورم کی غرض و غایت یہ تھی کہ سیاسی جماعتوں اور مستقل کے ووٹروں سے ایک وعدہ لیا جائے کہ آئندہ انتخابی مہم میں پاکستان کے لئے ایک منصفانہ ٹیکس سسٹم لانے کی کوشش کریں گے۔ جس کے ذریعے ریاستی محصولات میں اضافہ بھی بلکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت بھی آسکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...