گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ میں مچھروں کی بھرمار ، ڈینگی پھیلنے کا خدشہ

گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ میں مچھروں کی بھرمار ، ڈینگی پھیلنے کا خدشہ

لاہور(جاوید اقبال،عدیل شجاع)گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ انتظامیہ کی خاموشی اور غفلت سے مسائلستان بن گیا ہے عدم صفائی اور عدم سپرے سے پورا ہسپتال مچھروں کی نرسریوں میں تبدیل ہو گیا ہے جبکہ ان ڈور اور آؤٹ ڈور میں مفت ادویات کی فراہمی اور علاج معالجہ کے دروازے غریب مریضوں پر بند کر دیے گئے ہیں۔ایوننگ اور نائٹ پر یہ ہسپتال مریضوں کے پوسٹ آفس کے طور پر کام کرتا ہے معمولی زخمی ہو کر آنے والے مریضوں کے ساتھ ساتھ لیبر پین میں آنیوالی خواتین کو بھی علاج معالجہ کی سہولیات دینے کی بجائے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے بتایا گیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے محکمہ صحت نے ڈاکٹر رفیق بھٹی کو ایم ایس بنا کر بھیجا مگر وہ بھی غریب مریضوں کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہے ہیںیہ انکشافات پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے نمائندہ وفد کی طرف سے مذکورہ ہسپتال کے دورے کے بعد سیکرٹری صحت کو پیش کی گئی رپورٹ میں کیے گئے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بظاہر اس ہسپتال نے ٹیچنگ ہسپتال ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور عملی طور پر اس ہسپتال میں تدریسی ادارہ ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا یوں تو ہسپتال فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ ہے اور اس کی نگرانی کی ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ ہے مگر اس ہسپتال میں بد انتظامی کا یہ عالم ہے کہ بہت بڑی تعداد میں کنسلٹنٹس،فزیشنز اور سینئر ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی ہیں۔یہاں تک کہ میڈیکل افسروں کی بھی سیٹیں خالی پڑی ہیں جس سے مریض متاثر ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ صحت کی طرف سے بھجوائے گئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ مریضوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں صبح کے وقت مختلف وارڈوں میں مریضوں کو سینئر ڈاکٹر ہی میسر نہیں ۔گائنی کے پچاس فیصد سے زائد کیس دیگر ہسپتالوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں ایوننگ اور نائٹ میں ہسپتال کی بربادی کا یہ عالم ہے کہ اکا دکا ڈاکٹرز تعینات ہیں جو زیادہ تر مریضوں کو ہاتھ لگائے بغیر شہر کے دیگر ہسپتالوں میں ریفر کر دیتے ہیں جس سے اس ہسپتال کو مریضوں کے لیے دیا جانے والا کروڑوں روپے کا بجٹ بے کار جا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہسپتال میں صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے جس سے ہسپتال میں ہر طرف مکھیوں اور مچھروں کا راج ہ جو سر شام ہی مریضوں کو کاٹنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے مریض علاج کی بجائے الرجی کا مرض لے کر واپس چلے جاتے ہیں۔اس حوالے سے پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے صدر جاوید دین اور چیئر مین حاجی غلام حسین منہاس نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سیکرٹری صحت کے حوالے کر دی گئی ہے اور اس کی کاپیاں ایوان وزیر اعلیٰ کو بھی پیش کی گئی ہیں جس پر ایوان وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری صحت سے جواب بھی طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہدرہ ہسپتال میں مریضوں کا استحصال ہو رہا ہے سیکرٹری صحت اور وزیر اعلی اچانک دورہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ کس طرح سے وہاں مریض خوار ہو رہے ہیں اس پر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر رفیق بھٹی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی چارج لیے چند دن ہوئے ہیں بد انتظامی کی وجہ سے یہاں ہر دو ماہ بعد ایم ایس تبدیل ہوتا رہا ہے میں بھی نیا آیا ہوں بڑی حد تک مسائل کا خاتمہ کر دیا ہے صفائی کا نظام ٹھیکہ پر دیا ہے ٹھیکیدار کو شوکاز دیا گیا ہے اگر صفائی کے حالات بہتر نہ ہوئے تو اس کا ٹھیکہ منسوخ کر دیں گے جتنا بجٹ ہے اس کے مطابق ادویات فراہم کر رہے ہیں۔

شاہدرہ ہسپتال

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...