کلاسیکل موسیقی کے فروغ کیلئے حکومتی سرپرستی ضروری ہے

کلاسیکل موسیقی کے فروغ کیلئے حکومتی سرپرستی ضروری ہے

آل پنجاب سنگنگ مقابلہ کے فاتح کلاسیکل گائیک شیراز علی کی باتیں

آل پنجاب سنگنگ مقابلہ کے فاتح معروف کلاسیکل گائیک شیراز علی نے کہا ہے کہ حکومتی سرپرستی میں ہی کلاسیکل موسیقی کو فروغ مل سکتا ہے ہمارے ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک گلوکار موجود ہے مگر ان کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل رہا۔شیراز علی نے کہا کہ موجودہ دور میں بننے والی فلموں میں جہاں نئے اداکاروں کو موقع دیا جا رہا ہے وہاں ہمیں نئے گلوکاروں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ہمارے پاس موسیقی کا ایک بڑا اثاثہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ حکومتی سرپرستی کے بغیر عروج حاصل نہیں کر سکتا۔ موجودہ حکومت فنکار نواز ہے اور فنکاروں کے حوالے سے مثبت اقدام اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر اور لے کوجاننے والا ہی بڑا گلوکار بنتا ہے اوراسی کو دنیا پیار کرتی ہے ،پاکستان میں کلاسیکی موسیقی کے چاہنے والے آہستہ آہستہ کم ہوتے جارہے ہیں۔ شیراز علی نے کہا ہے کہ میں نے گائیکی کی بنیادی تربیت لیونگ لیجنڈ پرائڈ آف پرفارمنس کلاسیکل گائیک حسین بخش گلو سے حاصل کی ہے ۔مجھے ان کی شاگردی پر فخر ہے۔ آل پنجاب سنگنگ مقابلہ جیتنا میرے کامیاب کیرئیر کا آغاز تھا۔ان مقابلوں کا انعقاد پنجاب آرٹس کونسل نے کیا تھا ۔ اس کے بعد مسلسل اپنی منزل کی جانب گامزن ہوں ۔میں تو یہ مانتا ہوں کہ گائیکی میں کامیابی کے لئے بے پناہ محنت اور ریاض کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے نوجوان گلوکار محنت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزل گائیکی میں استاد برکت علی خان ، مہندی حسن ، فریدہ خانم اور میڈم نور جہاں کی شخصیت سے بہت متاثرہوں یہ سچے سروں کے ساتھ گاتے تھے جبکہ بھارت میںآشابھوسلے اورلتاجی کمال کی فنکارہ ہیں مگری میر ی ذاتی رائے ہے کہ ہر پھول کی مختلف خوشبو ہوتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مہذب معاشرے کے لئے ہر فرد کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ،جن ممالک میں تعلیم کی شرح سب سے زیادہ رہی ان اقوام نے دنیا میں اسی رفتار سے ترقی بھی کی ہے۔ شیراز علی نے کہا کہ مسلمانوں کا آگے بڑھنے کے لئے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے اور اسی لئے سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائیں جبکہ اس وقت کے دیگر سیاسی رہنماں نے بھی اس بات کو بھانپ لیا تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے تعلیم کا حصول لازمی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...