جنرل (ر) پرویز مشرف بلوچستان میں بننے والی نئی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھال لیں

جنرل (ر) پرویز مشرف بلوچستان میں بننے والی نئی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھال ...
جنرل (ر) پرویز مشرف بلوچستان میں بننے والی نئی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھال لیں

  


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک بار پھر یہ پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔ کچھ عرصے پہلے ان کی جماعت کے بعض لیڈروں کی جانب سے یہ اعلانات کئے گئے تھے کہ وہ تو آنے کے لئے تیار ہیں اور عدالتوں میں مقدمات کا سامنا بھی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایک رکاوٹ یہ ہے کہ انہیں فول پروف سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے۔ وزارت داخلہ نے اعلان کر دیا کہ انہیں ایسی ہی اطمینان بخش سیکیورٹی دی جائے گی جس کے وہ خواہش مند ہیں، لیکن لگتا ہے انہیں وزارت داخلہ کی اس یقین دہانی پر اعتماد نہیں، کیوں نہیں یہ تو وہی بہتر جانتے ہوں گے، لیکن انہوں نے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ دونوں سے سیکیورٹی مانگی تھی۔ ایک وزارت نے انکار کر دیا کہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، دوسری وزارت نے اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے سیکیورٹی کا اعلان کیا تو انہیں اس کی سیکیورٹی پسند نہیں آئی۔ انہیں اگر سیکیورٹی خدشات ہیں تو ان کی جماعت کے پاکستان کے اندر جو کرتا دھرتا موجود ہیں، وہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر اس کی جزیات پر بات کرکے معاملہ طے کرسکتے ہیں، لیکن بظاہر ان کی جانب سے ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی جس سے اگر یہ نتیجہ نکالا جائے کہ سیکیورٹی تو محض بہانہ ہے، سابق صدر تو آنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ یہاں کون سا ریڈ کارپٹ استقبال ان کا منتظر ہے۔ آتے ہی انہیں عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا اور اگر سماعت تیز رفتاری سے آگے بڑھ گئی تو فیصلے سے پہلے ہی انہیں طویل وقت مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ فیصلہ بھی کوئی زیادہ خوشگوار نہ ہو۔ جب وہ برسر اقتدار تھے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ان کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا تو وہ طویل منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ باقاعدہ پلاننگ کے تحت انہوں نے 2002ء میں منتخب ہونے والے اسمبلیوں سے صدر منتخب ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جن کی مدت چند ہفتے رہ گئی تھی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے بینظیر بھٹو سے این آر او بھی کیا تھا جس کی تفصیلات سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں، این آر او سے مطمئن ہو کر انہوں نے صدارتی انتخابات کرائے جن میں پیپلزپارٹی نے ووٹ نہیں ڈالا اور وہ منتخب ہو گئے۔ اس وقت کے چیف جسٹس سے استعفا مانگ کر اور انکار سن کر وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ اگر صدارتی انتخاب کا معاملہ ان کی عدالت میں چلا گیا تو انہیں ریلیف ملنے کا امکان نہیں اور عین ممکن ہے کہ عدالت ان کے شاطرانہ طریقے سے کرائے گئے صدارتی انتخاب کو خلاف آئین قرار دے دے۔ اس لئے انہوں نے اپنی پسند کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس بنائیں، بڑی تعداد میں ججوں نے حلف اٹھانے سے انکار کیا، کچھ سے انہوں نے حلف نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس طرح پوری عدلیہ تہہ و بالا ہو گئی تھی اس وجہ سے ’’ڈوگر کورٹ‘‘ کی اصطلاح عام ہوئی۔ باقاعدہ سیاسی جماعت تو انہوں نے محروم اقتدار ہونے کے بعد بنائی لیکن ان کی منصوبہ سازیوں میں مسلم لیگ (ق)، عوامی مسلم لیگ اور ایم کیو ایم باقاعدہ موجود تھیں۔ ان کا خیال تھا چونکہ پہلی دو جماعتوں کی تشکیل میں ان کا کردار ہے اور ایم کیو ایم کی سرپرستی تو وہ کھلے عام کر رہے تھے اس لئے جب وہ اقتدار سے باہر ہوں گے تو یہ جماعتیں کھلے بازوؤں سے ان کا استقبال کریں گی لیکن ایسا نہ ہو سکا، پھر انہوں نے مسلم لیگوں کے اتحاد کی کوششیں کیں جو کامیاب نہ ہوئیں۔ ایک زمانے میں انہوں نے خواہش کی کہ ایم کیو ایم ان کی باقاعدہ سرپرستی میں آ جائے اور انہیں اپنا لیڈر بنا لے لیکن ایم کیو ایم نے کہا لیڈر تو پہلے ہی بہت ہیں وہ پہلے ایم کیو ایم میں شامل ہوں، لیڈر کی جگہ خالی ہوگی تو دیکھا جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے مایوس ہو کر کہنا شروع کر دیا کہ ایم کیو ایم کی قیادت سنبھالنا تو ان کے لئے باعث شرم ہے۔ ویسے وہ واپس آئیں تو بلوچستان میں نیا جنم لینے والی ایک پارٹی میں ان کے لئے گنجائش بن سکتی ہے جو بڑے اہتمام سے قائم ہونے والی ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس جماعت کے لئے کئی نام زیر غور ہیں اور ابتدا میں یہ جماعت بلوچستان میں قائم ہوگی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جماعت کنگز پارٹی کے مقام پر فائز ہو جائے گی اور یہ جو اگلے وزیراعظم کے لئے بلوچستان کا نام لیا جا رہا ہے ممکن ہے وہ بھی کسی وقت درست ثابت ہو جائے کیونکہ یار لوگوں نے بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ تو بنا ہی لیا ہے اور اس نیک کام میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اپنے تمام اختلافات بھول کر ایک صفحے پر آ گئی تھیں اگرچہ اس کے بعد عمران خان نے حسب معمول آصف علی زرداری کو پھر نقد و نظر کی سان پر رکھ لیا لیکن ایک ’’قومی کاز‘‘ کے لئے دونوں جماعتوں نے جس طرح اتحاد کا مظاہرہ کیا چشم تصور میں عام انتخابات کے بعد بھی ایسے ہی مخیر العقول اتحاد کا منظر دیکھا جا سکتا ہے، جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عام انتخابات میں معلق پارلیمینٹ وجود میں آئے گی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف پھر متحد ہو کر کوئی سیاسی کرشمہ دکھا دیں گی، ایسے میں بہترین وقت ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بلوچ لیڈروں سے مل کر نئی جماعت منظم کریں اور اگر ہو سکے تو آل پاکستان مسلم لیگ بھی ان کے حوالے کر دیں۔ نئی پارٹی بنانے کے لئے جو رہنما اس وقت متحرک ہیں وہ سب صوبائی رہنما ہیں اور غالباً اسی لئے پارٹی کو بلوچستان تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اس جماعت کی قیادت سونپ دی جائے تو اس کے دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو پارٹی کو تسلیم شدہ قومی لیڈر مل جائے گا جو ملک کا صدر اور آرمی چیف رہ چکا ہے اور دوسرے ابتدا میں ہی پارٹی کو ملک گیر شناخت مل جائے گی اور اسے بلوچستان سے نکل کر پورے ملک میں سیاسی دھماکے کرنے کا موقع مل جائے گا۔

قیادت

مزید : تجزیہ


loading...