اینیمیٹڈ فلم’’ ٹک ٹاک ‘‘کا پریمیئر شو ،معروف شوبز شخصیات کی شرکت

اینیمیٹڈ فلم’’ ٹک ٹاک ‘‘کا پریمیئر شو ،معروف شوبز شخصیات کی شرکت

S4سیلوشنز اور ہم فلمز کی جانب سے اینیمیٹڈ فلم ٹک ٹاک کے پریمیئر شو کا انعقاد کراچی کے نیوپیلکس سینما میں کیا گیا۔اس تقریب میں پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ کئی نامور ستاروں نے اپنے بچوں کے ہمراہ شرکت کی اور فلم کی کہانی کو بے حد سراہا ۔’’ٹک ٹاک ‘‘کی کہانی عمیر علوی کی تحریر کردہ ہے جبکہ اس کی ہدایات دی ہیں عمر حسن نے۔S4سیلوشنز کے بینر تلے فلم کی پیشکش ثنا توصیف نے کی ہے جبکہ فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور اور میوزک معروف موسیقار امو نے ترتیب دی ہے۔فلم کی کاسٹ میں شوبزنس کے نامور ستارے شامل ہیں جن میں احسن خان نے حسن ‘ ماریہ میمن نے ثنا ‘ علی خان نے کے کے جبکہ غلام محی الدین نے ولن گوبوکا کردار نبھایا۔ ٹک ٹاک ایک اینیمیٹڈ ایڈونچر فلم ہے جس کی کہانی حسن اور دانیا کی اس مہم کے گرد گھومتی ہے جس میں وہ اپنے ٹیچر کے کے کیساتھ مل کر تاریخ کو تبدیل کرنے کے ناپاک مقاصد رکھنے والے گوبو کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔فلم کی کہانی ناظرین کو ہلکے پھلکے اور تفریحی ایڈونچرانداز میں پاکستان کے عظیم ہیروز اور ان کے ان عظیم کارناموں سے روشناس کراتی ہے جس میں وہ دشمن قوتوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔یقیناًیہ فلم پاکستانی ناظرین کیلئے ایک منفرد اور انوکھا تجربہ ثابت ہوگی ۔ یہ فلم دیکھنے والوں کو ایک خاص پیغام بھی دے گی۔اس موقع پر فلم کی پروڈیوسر ثنا توصیف کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کی اصل طاقت اسکا کانسپٹ اور کانٹینٹ ہے ۔ پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی اینیمیٹڈ فلم میں ٹائم ٹریول کے تصور کو پیش کیا گیا ہے ۔اس کا مقصد نئی نسل کو پاکستان کے حقیقی ہیروز سے دلچسپ انداز میں روشناس کرانا ہے ۔اس تصور کو زندگی بخشنے میں ڈائریکٹر سے لے کر میوزیشن اور آرٹسٹس سے لے کر ٹیکنیشنز تک کی بھرپور محنت شامل ہے۔’’ٹک ٹاک‘‘ گزشتہ جمعہ پاکستان بھر میں ہم فلمز کے بینر تلے نمائش کے لئے پیش کردی گئی ہے۔یوم پاکستان پر ریلیز ہونے والی پاکستانی اینیمیٹڈ فلم ’’ٹِک ٹاک‘‘ شائقین کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی کو سمجھنا بے حد مشکل کام ہے حالانکہ یہ فلم بچوں کے لئے بنائی گئی ہے.فلم کی کہانی کو سمجھنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے.فلم کی کہانی میں پاکستان، تقسیم سے پہلے کا برٹش انڈیا اور 19ویں صدی کا برطانیہ دکھایا گیا ہے۔کہانی میں چونکہ ’’سسپنس‘‘ اور ’’ٹوئسٹ‘‘ بھی ہیں، لہذا انھیں چھوڑ کر فلم کی ’’کہانی‘‘ سمجھانے کی ’’کوشش‘‘ کرتے ہیں لیکن اس کوشش میں ’’غلطیوں‘‘ کی گنجائش کافی حد تک موجود ہے۔کہانی 2017کراچی سے شروع ہوتی ہے، جب اسکول کے دو بچے دانیہ اور احسن غلطی سے ’’ٹائم مشین‘‘ میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد وہ 1940 کے لاہور، 1978 کے کراچی اور پھر اچانک 1965 اور پھر کچھ ہی منٹ میں 1966کے کراچی میں پہنچ جاتے ہیں، اس کے بعد ایک لمبی الٹی قلابازی دونوں کو 1894 میں لے جاتی ہے۔یہاں سے فلم کے سارے کردار 1998کے چاغی چلے جاتے ہیں جہاں وہ ’’ٹائم لوپ‘‘ میں پھنس جاتے ہیں۔ یہی نہیں ابھی 2082 کا سفر باقی ہے، جس کے بعد پھر 2017 کا لاہور اور 'دی اینڈ' ایک نئے زمانے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس دوران ٹائم مشین کی اس کہانی میں ٹائم ماسٹر، ٹائم لوپ، ٹائم لائن، اور ٹائم بیم کی سوئیوں کی ٹک ٹاک سر چکرا دیتی ہے، یہی نہیں ڈی این اے اور کلوننگ بھی آپ کا امتحان لیتی ہے.فلم میکر نے بچوں اور بڑوں کو پاکستان کی تاریخ کے کچھ واقعات اور ہیروز سے ملوانے کی کوشش بھی کی ہے، یقیناً اس کوشش کے پیچھے موجود نیک نیتی پر کسی کو شک نہیں لیکن کہانی، سکرپٹ اور سکرین پلے سمجھ سے باہر تھا اور اوپر سے ٹریٹمنٹ اور اینیمیشن کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے بھی فلم کے منفی پہلو بہت زیادہ ہیں۔فلم کا سب سے مثبت پہلو قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح سے غیر رسمی ملاقات تھی۔ فلم کے مزید مثبت پہلوؤں میں بیک گراؤنڈ میوزک، ٹائٹل سانگ اور احسن خان اور غلام محی الدین کی آوازیں ہیں۔علی خان کے تلفظ میں مسائل تھے جو صحیح ہوسکتے تھے۔ماریہ میمن کی آواز اور انداز، دانیہ کے کردار میں جچا نہیں لیکن انھوں نے کوشش پوری کی تاہم اپنی آوازکے ذریعے وہ تاثر نہیں چھوڑ سکیں جو اینیمیشن فلموں میں درکار ہوتا ہے۔فلم کا ایک اور مثبت پہلو پاکستان کے قومی کھیل کے ہیروز کو کرکٹ ہیروز پر فوقیت دینا تھا کیونکہ 1978 میں ہاکی اسٹارز زیادہ مشہور اور فالو کیے جاتے تھے لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کھیل کو تباہی کے دہانے تک پہنچادیا گیا.اس فلم میں بے شمار غلطیاں ہیں جن کے بارے میں فلم بنانے سے پہلے ریسرچ نہیں کی گئی.

مزید : ایڈیشن 2


loading...