’کھانا خود گرم کر لو‘

’کھانا خود گرم کر لو‘
 ’کھانا خود گرم کر لو‘

  


جب ایک مرد گھر میں بیٹھی ہوئی عورتوں کے پیٹ بھرنے اور ان کے بدن خوبصورت لباسوں ، گہنوں اورمیک اپ سے سجانے کے لئے سارا دن گرمی، سردی ، دھوپ اور بارش میں قسم قسم کے لوگوں کی خوشامدیں کرتا پھرتا ہے اور اپنی محنت کی کمائی لا کے ان کی ہتھیلی پہ رکھ دیتا ہے تو اس مرد کے لئے اپنا کھانا گرم کرنا تو ایک طرف رہا پکانایا خرید کرلانا بھی کیا مشکل ہے۔ میرے دوست نے’ کھانا خودگرم کر لو مہم‘ کے اثرات گھر پہنچنے پر چیختے ہوئے کہا ۔اس کا خیال ہے کہ شتر بے مہار لابی کی طرف سے ایک غلط پیغام خواتین تک پہنچایا جا رہا ہے جو پہلے ہی انٹرٹینمنٹ چینلوں کے بے ہودہ ڈراموں کا شکار ہیں۔

سوشل میڈیا کا فائدہ یہ ہے کہ وہاں کسی بھی لغو بات پر ترکی بہ ترکی جواب ملتے ہیں اور بہت خوب ملتے ہیں۔ ’کھانا خود گرم کر لو‘ مہم اس معاشرے میں چلائی جا رہی ہے جہاں اسی سے نوے فیصد خواتین باقاعدہ طور پر ملازمت یا کاروبار کی صورت میں وہ معاشی سرگرمی نہیں کرتیں جسے گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ یعنی عرف عام میں جی ڈی پی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ میں خواتین کے کام اور محنت کی نفی نہیں کرتا یقینی طو ر پرخواتین سال کے تین سو پینسٹھ دن کام پر ہوتی ہیں۔ ان کی ڈیوٹی آٹھ گھنٹوں کی نہیں ہوتی، ان کا کام اتوار سمیت ہر چھٹی کے روز بڑھ جاتا ہے کہ اس روز گھر میں بہتر اور اچھے کھانے کی فرمائش ہوتی ہے یا مہمانوں کی تواضع ہوتی ہے مگر یہی توذمہ داریوں کی وہ تقسیم ہے جسے عمومی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور اگر کیا بھی جائے تو اس پیغام کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اپنا کھانا خود گرم کر لو۔ مردوں اور خواتین کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم دو طرح سے ہوسکتی ہے، پہلی یہ کہ گھر اور باہر کے کاموں کو مرد اور عورت آپس میں اپنی اپنی جسمانی اور فطری صلاحیتوں کے مطابق تقسیم کر لیں یعنی مرد معاشرے اور حالات کے تھپیڑے برداشت کرتے ہوئے کما کے لائے اور عورت ایک محفوظ گھر میں بیٹھ کے اس کا سارا نظام چلائے ۔ دوسری تقسیم یہ ہے کہ تمام ذمہ داریوں کو مساویانہ بنیادوں پرآپس میں تقسیم کر لیا جائے جو کسی حد تک غیرفطری بھی ہے، عورت نازک ہے اور نازک اشیاء کو حفاظت کے ساتھ ہی رکھا جاتا ہے۔

’کھانا خود گرم کر لو ‘ جیسا سلوگن کیا ’ میرا جسم میری مرضی‘ کی طرح محض مشرق میں موجود خاندان کے ادارے کو توڑنے کی ایک سازش ہے تواس کا جواب ہاں میں ہو سکتا ہے ۔ درست جواب دیا گیا کہ جو عورت گھر میں رہتے ہوئے اپنے باپ یا شوہر کو کہتی ہے کہ کھانا خود گرم کر لو وہ کبھی ،کسی دفتر میں اپنے باس سے یہ نہیں کہتی کہ فائل ورک خود کر لو۔ وہ ریسٹورنٹ میں کسٹمر کو نہیں کہتی کہ اپنی ٹیبل خود صاف کر لو۔ وہ جہاز میں ائیر ہوسٹیس کی خواب جیسی نوکری کرتے ہوئے کسی مسافرسے نہیں کہتی کہ وہ جاکے خود پانی پی لے۔ وہ کسی سیلز سنٹر میں کسٹمر سے نہیں کہتی کہ اس نے جتنا سامان دیکھا ہے وہ دوبارہ دکان میں سیٹ کر کے جائے تو پھر گھروں میں یہ پیغام کیوں دیا جا رہا ہے۔ میر ا مشاہدہ ہے کہ وہ عورتیں جو گھر میں اپنے باپ اور بھائی یا سُسرال میں اپنے شوہر اور سُسر کی صورت میں ایک یا دو مردوں کی اطاعت کو مسئلہ سمجھتی ہیں پھر انہیں دنیا کے بازار میں کولیگز، سینئرز اورباسز کی صورت میں بہت سارے مردوں کی اطاعت کرنا پڑتی ہے شائد اس میں عورتوں کے تعلیمی اداروں میں ملازمت سے کوئی استثنیٰ موجود ہو۔میں باقی دنیا کی بات نہیں کرتا مگر پاکستان اور ہندوستان میں سردی ہو یا گرمی، موسم اپنی انتہائی شدت کے ساتھ آتے ہیں ایسے میں اس سے بڑی عیاشی کیا ہو سکتی ہے کہ زندگی کی تمام ضروریات گھر بیٹھے پوری ہوتی رہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کی بھاری اکثریت ایک باپ، بھائی ، شوہر یا بیٹے کی صورت میں عورتوں کو عزت او ر محبت کے ساتھ پالتی ہے، ان کی تمام ضروریات پوری کرتی ہے۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مرد ، عورتوں کی عزت نہیں کرتے مگر ایک باپ اپنی بیٹی، ایک بیٹا اپنی ماں اور ایک شوہر اپنی بیوی سے محبت ضرور کرتا ہے۔ عورت جب ماں، بہن اور بیٹی سے عورت کے سٹیٹس پر جاتی ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں سوال تو یہ ہے کہ وہ اپنا سٹیٹس کیوں تبدیل کرنا چاہتی ہے؟

میں نے دیکھا ہے کہ جن گھروں میں مرد اور عورتیں دونوں کمانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں وہاں کچھ گھروں میں مرد عورتوں کے ہاتھ بٹاتے ہیں مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ بہت سارے گھروں میں خواتین کو دوہری ذمہ داریاں ادا کرنا پڑتی ہیں یعنی دوپہیوں کی گاڑی میں کمزور پہئے کو ڈبل چلایا جاتا ہے جو کسی طور انصاف نہیں ۔ بعض اوقات خواتین خود اس کامطالبہ کرتی ہیں ۔ وہ عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کے حوالے سے پروپیگنڈے کا شکار ہوجاتی ہیں جو ان کے لئے مشکلات اور پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔ روایا ت میں آتا ہے کہ کسی جنگل میں بھیڑیوں نے مہم چلائی کہ بکریوں کوگھروں میں بند رکھنا ظلم ہے، انہیں جنگل میں گھومنے پھرنے، اپنا کھانا پینا اور دوست تلاش کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ نوجوان بکریوں کو بھیڑیوں کی یہ مہم بہت پسند آئی اور اپنے اپنے گھروں میں زور زور سے میں میں کرنے لگیں۔ اس میں میں کو سن کے ایک بوڑھی جہاں دیدہ بکری نے انہیں سمجھایا کہ یہ بھیڑئیے تمہارے دوست اور ہمدرد نہیں ہیں بلکہ یہ تمہیں غیر محفوظ کر کے تمہاری بوٹیوں سے اپنا پیٹ بھرنا چاہتے ہیں مگر بہت ساری نوجوان بکریاں نہیں مانیں اورگھروں کی چھتوں پر چڑھ کے بولیں،’ میرا جسم میری مرضی‘اور ’ خود اپنا کھانا گرم کرلو‘۔ روایات میں مزیدآتا ہے کہ جب نوجوان بکریوں نے بوڑھی بکری کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے آزادی چھین لی تو بھیڑیوں نے بکریوں کے گوشت پر خوب جشن منایا۔

کسی دور دراز کے گاوں میں کوئی صحافی پہنچاتو اس نے دیکھا کہ کسان نے کھیت میں ہل چلانے کے لئے گائے کو جوتا ہوا ہے جبکہ بیل بڑے آرام سے سائے میں چارے پر منہ مار رہا ہے۔ اس صحافی کو بہت حیرت ہوئی اور کسان سے پوچھا کہ اس گائے پر یہ ظلم کیوں کیا جا رہا ہے۔ کسان بڑے آرام سے بولا میں کوئی ظلم نہیں کر رہا، یہ بیل اور گائے دونوں شہر سے لایا ہوں اور بیل نے گائے کو صنفی مساوات کا سبق پڑھا رکھا ہے۔ اس صحافی نے پوچھاجب گائے کو صنفی مساوات کا سبق پڑھایا جا رہا تھا تو کیااس نے بیل سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ کیا وہ بچھڑے پیدا کر سکتا ہے، کیا وہ دودھ دے سکتا ہے کہ قدرت نے ہر کسی کو اس کی ذمہ داریوں کے مطابق جسم ، صلاحیتوں اور طاقت سے نوا زا ہے ۔ کسان ہنس کے بولا، بھولے بادشاہو بکریوں کو آزادی دلانے والے بھیڑئیے اور گائے کو ہل میں جتوانے والے بیل ایسی باتیں نہیں کرتے۔مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ خواتین کے حوالے سے’ کھانا خودگرم کر لو‘ہماری معاشرتی روایات اور خاندان کے ادارے کے خلاف اتنی ہی واہیات مہم ہے جتنا کسی نے مردوں کویہ تصور دیا تھا کہ جب بازار میں دودھ مل رہا ہو تو گھر میں بھینس پالنے کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

مزید : رائے /کالم


loading...