تاریخ عدل

تاریخ عدل
 تاریخ عدل

  


جب جنرل ضیاء الحق بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر جھولا دینے کے لئے تیار کھڑے تھے تو سپریم کورٹ کے جج جسٹس غلام صفدر شاہ نے بھٹو کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران ایک ایسا بیان دیا تھا جس سے ضیاء الحق حکومت کی مشینری ششدر رہ گئی تھی اور پھر جسٹس صفدر شاہ کی ایسی خبر لی کہ ان کے پاس کابل کے ذریعے ملک سے فرار ہونے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔

نظرثانی اپیل پر فیصلے سے دو دن قبل اسلام آباد میں سیر کرتے ہوئے ان کی بی بی سی کے نمائندے سمیت دو صحافیوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو انہوں نے نظرثانی اپیل کے متعلق پوچھ لیا جس پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے میں ایک آبزرویشن کے ذریعے جنرل ضیاء الحق کو مشورہ دے رہی ہے کہ بھٹو کی جانب سے رحم کی اپیل پر غور کرتے ہوئے ان کے وکیل یحییٰ بختیار خان کے دلائل کو نظرانداز نہ کرے ۔ جسٹس صفدر شاہ نے 26مارچ 1979ء کو یہ بیان دیا اور اس کے ٹھیک دو دن بعد سپریم کورٹ نے نظرثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پھانسی کے فیصلے کو برقرار رکھاتھاجبکہ جسٹس صفدر شاہ کی بتائی ہوئی آبزرویشن اس کا حصہ تھی۔

سپریم کورٹ کی اس آبزرویشن کا تذکرہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کی جانب سے یکم اپریل 1979ء کو جنرل ضیاء الحق کو بھجوائی گئی سمری میں بھی تھا۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ نے لکھا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے نظرثانی ان بنیادوں پر نہیں کی جا سکتی جن پر یحییٰ بختیار نے درخواست میں دلائل درج کئے ہیں تاہم اگر ان دلائل کو رحم کی اپیل میں شامل کیا گیا تو حکومت کو فیصلہ کرنے سے قبل ضرور ان کو زیر غور لانا چاہئے۔ سیکرٹری داخلہ نے سمری کے آخر میں درج کیا کہ اگرچہ ایسی عدالتی سفارشات کو ماننا حکومت کے لئے لازمی نہیں ہوتا مگر ماضی میں ایسے کسی بھی مشورے کو ہمیشہ تکریم دی گئی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے اور دیگر دوصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جسٹس صفدر شاہ نے تاثر دیا تھا کہ وہ بھٹو کے وکلاء کے دلائل قبول کر سکتے ہیں اور بنچ کے دیگر ججوں کا بھی ایسا ہی ذہن ہے۔ ان کی اس بات نے ملک کے سیاسی اور عدالتی حلقوں میں ہیجان برپا کردیا کیونکہ تب جج صاحبان اخبارات کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرتے تھے اور اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے تھے ۔ چاروناچار چیف جسٹس کو جسٹس صفدر شاہ کے بیان کا نوٹس لینا پڑااور 29مارچ کو ایک میں انہوں نے کہا کہ مسٹر جسٹس جی صفدر شاہ نے بی بی سی کے نمائندے اور دیگر دو صحافیوں سے اسلام آباد میں پیدل چلتے ہوئے سڑک کنارے بات کی ہے۔ اپنے فیصلوں، احکامات یا ان میں دی گئی آبزرویشن کا برسرعام تذکرہ ججوں کا کام نہیں ہوتالہٰذا مسٹر جسٹس صفدر شاہ کے خیالات ان کے ذاتی ہیں ،انہیں بنچ کے دیگر اراکین کے ایما پر بولنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دیگر جج صاحبان اس بار ے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

اس صورتِ حال میں جنرل ضیاء کے مشیروں کی ٹیم نے فوری طور پر ایف آئی اے کو جسٹس صفدر شاہ کے خلاف انکوائری کے لئے سرگرم کردیا اور پھر ان سے بات بات پر ایسی وضاحتیں طلب کی جانے لگیں جن کا مقصد ان کی ہتک کے سوا کچھ اورنہ تھا۔ ایف آئی اے نے اپنی کاروائیوں کا آغاز اس مفروضے سے کیا کہ جسٹس صفدر شاہ نے جج کی نوکری فراڈ پر مبنی ایک ایسے سکول سرٹیفکیٹ سے لی تھی جس میں انہوں نے اپنی عمر میں تبدیلی کی تھی۔اسی دو نمبر سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر وہ اپنی ملازمت میں توسیع چاہتے تھے۔ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک مقدمہ بھی فائل کردیا گیا جس پر 30اپریل 1980ء کو غور کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس مقدمے میں انہیں نوٹس دے دیا جائے اور 13مئی 1980ء کو ابتدائی سماعت کے بعد کونسل نے ان سے باضابطہ جواب بھی طلب کرلیا۔

اس اثناء میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات نے جسٹس صفدر شاہ کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت خبریں شائع کرنا شروع کردیں جن کی بنیاد پر جنرل ضیاء نے پرچار شروع کردیا جسٹس صفدر شاہ نے پریس میں اپنی رائے کا اظہار کرکے عدلیہ کے وقار کے منافی کام کیا ہے ۔ 10 نومبر 1980ء کو جاری ہونے والے ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس شاہ نے ایک ملزم میاں محمد عباس کے لئے ایک جج سے فیور مانگی تھی اور مبینہ طور پر جج سے کہا تھا کہ ان کے معاملے میں نرمی برتیں۔ جسٹس صفدر شاہ پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے بطور جج سپریم کورٹ اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کی چارج شیٹ میں مس کنڈکٹ اور تعلیمی اسناد میں خوردبرد جیسے الزامات تھے۔

16اکتوبر 1980ء کو جسٹس صفدر شاہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے ۔ ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق انہوں نے بطور جج سپریم کورٹ استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا، اس کے بعد ان کے خلاف کارروائی روک دی گئی ۔ تب تک سرکاری ادارے ان کا ناطقہ اس حد تک بند کر چکے تھے کہ وہ کابل فرار ہوگئے جہاں انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرکے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔

4ستمبر2009ء کو مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھٹو کے خلاف مقدمے کو انہیں جسمانی طور پر ختم کرنے کا منصوبہ قرار دیا تھا ۔ انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ فوجی ڈکٹیٹر کی جانب سے سپریم کورٹ پر بے انتہا دباؤ تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرلے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنرل ضیاء اور جسٹس مولوی مشتاق حسین جانتے تھے کہ بھٹو کی بچت کی شکل میں ان کے لئے خطرات پیدا ہو جائیں گے اس لئے انہوں نے بھٹو کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔۔۔گڈ لک ٹو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ!

مزید : رائے /کالم


loading...