ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچنے والے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے :میاں افتخار

ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچنے والے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دولت کی چمک سے وجود میں آنے والے سینیٹرز قابل اعتماد نہیں جو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچے وہ اپنی دولت کا تحفظ کرے گا نہ کہ صوبوں کے حقوق کا، ان خیالات کا اظہار انہوں نیخان شیر گڑھی پبی میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں ایوان کا وقار بری طرح مجروح ہوا ،پی ٹی آئی کے 17سے زائد ممبران بک گئے اور وہ بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ، انہوں نے کہا کہ عبیداللہ مایار کے بیان کے بعد صورتحال واضح ہو چکی ہے لہٰذا جس نے ووٹ بیچا اور جس نے خریدا دونوں کو سزا ہونی چاہئے ، رشوت لینے اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہارس ٹریڈنگ کی بجائے پورے اصطبل ہی بک گئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اے این پی انہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم باچا خان کے پیروکاروں کی عظیم فتح ہے اور ہم اپنی اس کامیابی کو کسی کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے ، انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی میدان میں ہو گی،انہوں نے صوبے میں احتساب کمیشن کا ذکر کیا اور کہا کہ جو ادارہ احتساب کیلئے بنایا گیا سب سے پہلے اس کا احتساب کیا جائے کیونکہ وزیر اعلیٰ نے اس احتساب کمیشن میں سیاسی رشوت کی غرض سے غیر قانونی طور پر بھرتیاں کیں جو صرف الیکشن تک ہی پائیدار ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان ، پرویز خٹک اور پی ٹی آئی احتساب میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب ان کا اپنا احتساب شروع ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پر ہاتھ ڈالا جائے تو سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا،انہوں نے کہا کہ پشاور کو تباہ برباد کر دیا گیا اور چار سال تک پنجاب میں میٹرو کو گالیاں دینے والوں کو آخری ایام میں بی آر ٹی کی یاد ستانے لگی ، انہوں نے کہا کہ عوام با شعور ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ بی آرٹی صرف وزیر اعلیٰ کی کرپشن اور کمیشن کا ذریعہ ہے اس لئے جلد بازی میں بغیر پی سی ون اور منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا جبکہ اب تک چار بار ڈیزائن تبدیل ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ قوم کا پیسہ لوٹ کر قوم کو دوبارہ ورغلانے کی کوشش کی جائے گی،بی آرٹی میگا پراجیکٹ نہیں بلکہ میگا کرپشن اینڈ کمیشن پراجیکٹ ہے اور جلد قوم کے سامنے یہ میگا سکینڈل آ جائے گا،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پہلی بار کسی بڑے منصوبے کیلئے ٹینڈر نہیں کیا جاتا اور وزیر اعلیٰ کی خواہش پر تمام ٹھیکے بغیر ٹینڈر کے جاری کئے جا رہے ہیں ، ان میں سے دو بڑی کمپنیوں کے ٹھیکیدار خود پرویز خٹک ہیں ، انہوں نے کہا کہ احتساب سب سے پہلے وزیر اعلیٰ اور ان کے وزراء کا ہونا چاہئے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے،نئی حلقہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پورے صوبے کا نقشہ تک تبدیل کر دیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے ، انہوں نے کہا کہ جس الیکشن کمیشن کو یہ نہیں پتہ کہ صوبے کا دالخلافہ کہاں ہے وہ حلقہ بندیاں کیسے کر سکتا ہے ، انہوں نے استفسار کیا کہ مردم شماری کا سرکاری اعلان تاحال نہیں کیا گیا این ایف سی ایوارڈ نہیں ہوا تو مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کیسے کی جاسکتی ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جلد بازی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی اور ہے جو بہت جلد ی میں ہے،انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے پشاور کی بطور دالالخلافہ تاریخی حیثیت اور عزت کا پاس رکھتے ہوئے این اے ون اور پی کے ون بحال کرے

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...